آپ کو سیاسی رشتہ چاہئے؟

آپ کو سیاسی رشتہ چاہئے؟
 آپ کو سیاسی رشتہ چاہئے؟

  

بی بی سی کے نمائندے نے ضرورت رشتہ کے بہت سارے اشتہارات دیکھے لیکن سیاسی نظریات کی شرط والا اشتہار نایاب پایا بلکہ کسی سماجی علوم کے نامعلوم ماہرسے بھی کہلوا ڈالا کہ یہ اتنا نایاب ہے کہ اس سے پہلے نہیں دیکھا۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ انڈیا کے ایک معروف شہرکولکتہ کے ایک خاندان کو اپنی چھبیس سال کی ایم اے پاس لڑکی کے لئے ایک ایسا دولہا چاہئے جو بائیں بازو کے خیالات کا حامی یعنی لیفٹسٹ یا کمیونسٹ ہو۔دیپ تانج داس گپتا نے اپنی بہن کی شادی کے لئے یہ اشتہارکمیونسٹ پارٹی آف انڈیاکے اخبار گن شکتی میں شائع کروایا ہے۔ نمائندے کے مطابق مناسب دولہے اور دلہن کے لئے، قد و قامت،صوم وصلوۃ کی پابندی، مسلک ،تعلیم ، ذات وغیرہ کی باتیں تو عام طور پرملتی ہیں، ہندوستان کے بعض اخبارات میں کھانے پینے کی عادات کے بارے میں بھی معلومات دی جاتی ہیں لیکن یہ ایک خاص سیاسی نظریات والا اشتہار نایاب ہی ہے۔

بات کی حیرانی اگر اشتہارکے شائع ہونے تک ہی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اب عام زندگی میں مخصوص انتہا پسند سیاسی نظریات کے حامل لڑکے اور لڑکیوں کا مخالف نظریات والوں کے ساتھ گزارا مشکل ہی نظر آ رہا ہے۔ برصغیر کے رہنے والوں میں سیاسی انتہا پسندی ہمیشہ سے موجود رہی ہے، قیام پاکستان سے پہلے مسلم لیگی اور کانگریسی مسلمانوں میں دوریوں کی کہانیاں اب بھی سنی اورسنائی جا سکتی ہیں، پاکستان کے قائم ہونے کے بعدمحترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کا دور، ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے مخالفین کا دوراور اب نواز شریف کے حامیوں اور ان کے مخالفین کی آپس میں نفرت کادور سب کے سامنے ہے۔ محترم عمران خان نے ابھی چند روز قبل ہی اسلام آباد میں نواز شریف کے سماجی بائیکاٹ کی کال دی ہے اور اس کا ایک مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ جہاں میاں نواز شریف کے حامیوں کو نہ دودھ ، دہی بیچا جائے اور نہ ہی ان کے رشتے آنے پر ہاں کی جائے۔ یوں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف کی لڑکیاں الٹرا ماڈرن ہوتی ہیں اور وہ اپنی نظر میں پٹواری سمجھے جانے والے لڑکوں کے ساتھ کیسے گزارا کر سکتی ہیں یہی بات پی ٹی آئی کے لڑکوں بارے کہی جا سکتی ہے، وہ یقینی طور پر ایسی شکل اور شخصیت کی مالک کسی خاتون کو اپنا دل نہیں دیں گے جیسی شکلیں عمومی طور پر مسلم لیگ نون کے جلسوں میں نظر آتی ہیں، انہیں تو دیکھتے ہی بہن کہہ دینے اور دائیں بائیں کھسک جانے کو دل کرتا ہے ۔ بی بی سی کے نمائندے کوہندوستان میں سیاسی بنیادوں پررشتے کی تلاش کا عمل عجیب لگا مگر ہمارے ہاں حال میں ہی چلنے والی ایک سیاسی تحریک کے دوران گو نواز گو کے نعرے لگانے والوں کے آپس رشتے ہونے کی خبریں تواتر کے ساتھ آتی رہیں، لڑکوں اور لڑکیوں نے دھرنے کے دوران اپنے سیاسی ہم خیالوں کو زندگی بھر کا ہم سفر بنا لیا۔ یہ پی ٹی آئی کا ہی کمال تھا کہ اس نے اپنی دھرنا حکمت عملی سے سماجی فائدہ بھی اٹھایا اور بہت ساروں کو اشتہار کے خرچے سے بھی بچا لیا۔

دیب تانج داس گپتا نے تو یہ اشتہار اس وقت دیا جب کمیونزم اپنی موت آپ مر رہا ہے ۔وہ خود کو مارکسز م کا طالب علم کہتے ہیں۔یہ بات ان کی اپنے نظرئیے سے پرخلوص وابستگی کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اسے مرنے سے بچانا چاہتے ہیں۔ یقینی طور پر جب ماں اور باپ دونوں ایک ہی سیاسی نظرئیے کے حامل ہوں گے تو ننانوے فیصد امکان ہے کہ ان کے بچے خود بخود اس کے پختہ پیروکاربن جائیں گے۔ ہمارے ایک باخبر دوست کے مطابق جماعت اسلامی میں بھی یہ ٹرینڈ موجود رہا ہے( یا شائد اب بھی موجود ہے) کہ اس کے ارکان تحریکی ساتھی خواتین کو باکردار سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں مگر افسوس اس کے لئے جہاں دھرنے جیسے کسی سرگرمی کا اہتمام نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی تو اسے مخلوط نہیں ہونے دیا جاتا۔ رشتوں میں مذہب اور مسلک کی یکسانیت کا زیادہ دخل ہوتا ہے مگر بہرحال اس میں سیاست کے کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ممکن ہے کہ مذہب اورمسلک ایک ہونے کے باوجود محترم سمیع الحق کے کارکن مولانا فضل الرحما ن کے کارکنوں کے خاندان میں رشتے داری سے انکار کر دیں۔اس وقت مذہب اور مسلک سے زیادہ بحث سیاست پر ہوتی ہے اوراگر اچھے رشتوں کی تلاش میں مشکل پر کسی سیاسی مخالف سے شادی کرنی پڑجائے تو گھر میں ہر وقت وہی کچھ ہونے کا اندیشہ ہے جوہماری سڑکوں ، اسمبلیوں ، چینلوں اور عدالتوں میں ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف والے کہہ سکتے ہیں کہ مسلم لیگ نون کی لڑکیوں کو تو جھوٹ تک نہیں بولنا آتا، وہ گھر کے خرچے میں سے پیسے چوری کر کے اپنے میکے والوں کو بھیج سکتی ہیں اور جواب میں مسلم لیگ نون والے تحریک انصاف کی لڑکیوں کے بارے جو کچھ کہہ سکتے ہیں اس کے لئے کل تین مئی سے سپریم کورٹ کی کارروائی سننا زیادہ مناسب ہو گا۔

اچھے رشتوں کا معاملہ واقعی خوفناک حد تک بگڑ چکا ہے، اس امر سے انکار نہیں کہ ہماری بچیاں پڑھنے لکھنے میں زیادہ آگے نکل رہی ہیں اور ان کے والدین کو ہم پلہ پڑھے لکھے لڑکوں کی تلاش میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ایک بہت بڑا مسئلہ پنجاب میں پیپلزپارٹی والوں کے لئے ہو گا کہ ہمارے ماجھے گامے تو ویسے ہی پڑھنے لکھنے کی بجائے کاروبار کرنے پر زیادہ یقین رکھتے ہیں ۔یہ بات الگ کہ وہ پڑھے لکھے سرکاری یا نجی اداروں کے ملازمین کی بیس ، تیس یا چالیس ہزار روپے تنخواہ کے مقابلے میں آسانی سے ہر مہینے لاکھ، دو لاکھ روپے کما لیتے ہیں مگر پیپلزپارٹی جس تیزی کے ساتھ پنجاب سے صاف ہوئی ہے،یہاں اس کے لئے نظریاتی رشتوں کا بحران زیادہ شدید ہوسکتا ہے۔ اگر پچھلے الیکشن کی حکمت عملی کو سامنے رکھا جائے تورشتہ لینے اوردینے والے کو ایک رعایت دی جا سکتی ہے کہ وہ اس وقت موجود قیادت کے بارے چاہے جو چاہے گمان رکھے مگر بھٹو مرحوم کے بارے کچھ نہ کہے، اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔تعلیم اور مذہب کو ایک طرف رہنے دیجئے، شعرا کرام کی مہربانی سے رشتوں کے ہونے میں جھیل سی آنکھوں اور بادل سی زلفوں کا اہم کردار ہوا کرتا تھا ، بہت سارے مرد صرف ایک تل کی خاطر پوری لڑکی سے شادی کر لیا کرتے تھے لیکن اگر اب سیاسی سہولت یوں بھی دستیاب ہو سکتی ہے کہ محض گو نواز گو اور رو عمران رو کانعرہ بھی رشتہ ہونے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

میں نے پوچھا، اگر شریک حیات نواز شریف جیسا ہو تو چل جائے گا، بولتا بہت کم ہو مگراپنے کام کا پورا ہو، جواب میں سوال آیا کہ کیا آپ عمران خان جیسے شریک حیات کے بارے کیا سوچتے ہیں جس نے ہر وقت پھڈا ہی ڈال رکھا ہو۔اس کا مسئلہ یہ بھی ہوکہ آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی کیوں ہو۔ کیا مولانا فضل الرحمان جیسا شریک حیات فیورٹ رہے گا جو گھر کے تمام معاملات کو آئین اور قانون کے تناظر میں چلانے کا حامی ہو اور دلچسپ صلاحیت یہ ہو کہ اپنے معاملات کو آئین اور قانون کے مطابق ڈھالنے کی بجائے آئین او رقانون کی تشریحات اپنے مفادات کے مطابق کرنے پر قادر ہو۔کراچی میں شریک حیات میں الطاف حسین جیسی خوبیاں تلاش کرنا بھی امکانات میں شامل ہے۔ اگر کوئی تحقیق کرے تورینجرز کی معاونت سے سیکٹر کمانڈر کی ذمہ داریوں میں بھتوں اور قتلوں کے ساتھ ساتھ شادیاں کروانا بھی تلاش کیا جا سکتا ہے یوں وہ حیرت کم ہو سکتی ہے جو کلکتہ کے ایک اخبار میں ضرورت رشتہ کے سیاسی اشتہار سے ہوئی، یہاں یہ معاملات بغیر کسی اشتہار کے تنظیمی سطح پر ہی حل کر لیتے جاتے ہیں۔

میں نے سوچا،ووٹنگ ٹرینڈ کے مطابق ابھی مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے نوجوانوں کو بحران کا سامنا نہیں لیکن جناب آصف علی زرداری گزشتہ پانچ ، دس برسوں میں پیپلزپارٹی کو بالخصوص پنجاب میں جس سطح پر لے آئے ہیں یا جناب منور حسن کے بعد سراج الحق صاحب جماعت اسلامی کو جہاں لے کر جا رہے ہیں وہاں ان دونوں جماعتوں کے نظریاتی مستقبل کو بچانے کے لئے آپسی اور نظریاتی شادیوں والی تجویز بہت کارآمد ہوسکتی ہے،یہ سب اپنے سیاسی نظریات کو مستقبل میں دفن ہونے سے بچانے کے لئے ایسی شادیوں کے ذریعے اپنے بچوں کی صورت زندہ رکھ سکتے ہیں۔

مزید : کالم