ٹرمپ انتظامیہ شٹ ڈاؤن سے بچنے کیلئے میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر سے دستبردار ، کانگریس ایک کھرب 10ارب ڈالر کے اخراجات کیلئے فنڈز جاری کرنے پر رضا مند

ٹرمپ انتظامیہ شٹ ڈاؤن سے بچنے کیلئے میکسیکو سرحد پر دیوار کی تعمیر سے ...

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے مشترکہ مذاکرات کار اتوار کو رات گئے بالآخر ایک سمجھوتہ کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کی وجہ سے حکومت کو ایک کھرب 10ارب ڈالر کے اخراجات کے فنڈز مل سکیں گے۔ قبل ازیں کانگریس نے حکومت کو شٹ ڈاؤن سے بچانے کیلئے جمعہ کے روز ایک ہفتے کے عرصے کیلئے کچھ فنڈ فراہم کرنے کی منظوری دی تھی جس کی مدت 5 مئی کو ختم ہو رہی تھی لیکن اب دونوں ری پبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے کی وجہ سے حکومت کو موجودہ مالی سال کے با قی ماندہ عرصے یعنی 30 ستمبر تک کیلئے درکار تمام اخراجات کیلئے سمجھوتے کے مطابق فنڈز مل جائیں گے۔ کانگریس کی مفاہمتی کمیٹی کے فیصلے کے مطابق اب اخراجات کے اجتماعی بل کی راہ میں تمام رکاوٹیں دور ہوگئیں اور آج منگل تک اسکی باقاعدہ منظوری کا امکان ہے۔ کیپٹل ہل کے ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس میں موجود اپنے ری پبلکن ارکان کے ذریعے اپنے مطالبات میں لچک پیدا کی جس کی وجہ سے تصفیہ ممکن ہوا۔ ری پبلکن ارکان اپنے ہیلتھ کیئر اور ٹیکسوں کے ’’اوور ہال‘‘ کے منصوبوں کیلئے فنڈز کے حصول کے شدید خوا ہشمند تھے لیکن انہوں نے ڈیمو کریٹک ارکان کے مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اور اخراجات کے بل میں شامل پالیسی کی بے شمار پا بند یو ں اور ضابطوں کو واپس لینے پر مجبور ہوگئے۔ اس طرح ٹرمپ انتظامیہ کو بہت کم کامیابیاں میسر آئیں جبکہ حکومت کو جو کہ جنوبی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کیلئے فنڈ مانگ رہی تھی اور داخلی اداروں کے بجٹ میں اٹھارہ ارب ڈالر کی کٹوتی کرنا چاہ رہی تھی جیسے مطالبات سے دستبردار ہونا پڑا، اخراجات کے مذکورہ سمجھوتے میں خاندانی منصوبہ بندی کیلئے فنڈز شامل ہیں جبکہ ری پبلکن پارٹی اسقاط حمل کی مخالف ہونے کی بنا پر بل سے یہ رقم نکالنا چاہتی تھی، سمجھوتے میں جن اخراجات کی منظوری دی گئی ہے ان کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کو فوج کی ترقی و دیگر منصو بو ں کیلئے 15 ارب ڈالر فنڈ ملیں گے اگرچہ اس میں سے اڑھائی ارب ڈالر ٹرمپ انتظامیہ کے داعش کیخلاف جنگ کے نئے منصوبے پر خرچ ہوں گے۔ کانگریس انتظامیہ کو سرحدوں کی سکیورٹی کیلئے ڈیڑھ ارب ڈالر ملیں گے لیکن وہ اسے جنوبی سرحد پر دیوار کی تعمیر یا امیگریشن اور کسٹم کے ایجنٹوں کی اضافی بھرتی کیلئے استعمال نہیں کرسکے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے قبل ازیں دھمکی دے رکھی تھی کہ وہ ان شہروں کو فنڈز فراہم نہیں کرے گی جو تارکین وطن کی پناہ گاہیں بنے ہوئے ہیں لیکن سمجھوتے کی مطابق انتظامیہ اب ایسی کوئی پابندی نہیں لگا سکے گی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے فنڈز میں دو ارب ڈالر کی کثیر رقم کا اضافہ ہوگا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کانگریس طبی تحقیق کو کتنی اہمیت دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی پالیسی کے تحت ہونیوالے سمجھوتے سے حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے ارکان مطمئن ہیں۔ و ا ئٹ ہاؤس کے بجٹ آفس کے ترجمان نے سمجھوتے پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ’’یہ اطلاعات بہت حوصلہ افزا ہیں کہ مفاہمتی پیکج کے ذریعے صدر ٹرمپ کی سکیورٹی کی ترجیحات کیلئے بڑی ادائیگیوں کا انتظام موجود ہے۔‘‘ سینیٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے اقلیتی لیڈر چک شمر کا تبصرہ یہ تھا کہ ’’یہ سمجھوتہ امریکی عوام کیلئے ایک اچھی خبر ہے کیونکہ اس کے بعد حکومت کے شٹ ڈاؤن ہونے کا خطرہ مکمل طور پر ختم ہوگیا ہے‘‘ اب ٹیکس ڈالر جنوبی سرحد پر غیر موثر دیوار کی تعمیر کے کام نہیں آئیں گے اور امریکی عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونیوالی رقم متوسط طبقے کی دلچسپی کے معاملات پر خرچ ہوگی جن میں طبی تحقیقات، تعلیم و انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنے مطالبات میں لچک پیدا کرنے کیلئے اسلئے تیار ہوئی کیونکہ ایوان نمائندگان میں کچھ ری پبلکن ارکان اسکے مطالبات کے مخالف تھے۔ اس کے علاوہ سو ارکان پر مشتمل سینیٹ میں اگرچہ ری پبلکن ارکان کی اکثریت ہے جن کی تعداد 52 ہے لیکن اس بل کی منظوری کیلئے 60 ارکان کی ضرورت تھی اور انہیں مزید آٹھ ڈیمو کریٹک ارکان کی حمایت درکار تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ دستبردار

مزید : صفحہ اول