ملک سے 800ارب روپے باہر جا رہے ہیں لوٹ مار کرنے والوں کو روکنا ہو گا : عمران خان

ملک سے 800ارب روپے باہر جا رہے ہیں لوٹ مار کرنے والوں کو روکنا ہو گا : عمران خان

کراچی (آن لائن) چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی لوٹ مار نے کراچی کو کچرے کا ڈھیر ، صنعتوں کا قبرستان اور تاریکیوں کا شہر بنا دیا ہے ،ملک سے اربوں روپے باہر جا رہے ہیں قانون کے رکھوالے خود بیڑہ غرق کر رہے ہیں ایمانی و اخلاقی قوت سے اپنے کردار کو بدل دیں اور قوانین کی پاسداری کریں تو ترقی اور خوشحالی ہمارا مقدر بن جائے گی ۔کراچی میں تاجروں کی جانب سے دی جانے والی دعوت کے بعد ان سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ ہماری حالت دن بدن بگڑ رہی ہے لیکن اپنے آپ کو بدلنے کے لئے تیار نہیں جو لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کے لئے کوشش نہ کرے ایمانی و اخلاقی قوت جسمانی قوت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے ہمیں دونوں سے استفادہ کرنا ہے کیونکہ مسلمانوں نے حضرت محمدﷺؐ کو دیکھ کر ہی اپنا کردار بدلا اور دنیا کے مہذب ترین لوگ بن گئے آج ہم جن حالات سے دوچار ہیں اور جو ہمارے اعمال ہیں تو ایسے وقت میں تبدیلی کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہم فلاح کا راستہ اپنا کر مستقبل کو خوشحال بنائیں ۔ مملکت خداداد کو اللہ تعالیٰ نے ان گنت وسائل سے مالا مال بنایا ہے۔ ہمیں اپنے اعمال درست کر کے ان سے استفادہ کرنا ہے ہمارے مسائل ہماری ہٹ دھرمی ، غفلت ، قیادت کے فقدان اور ایمانی جذبے کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہیں اگر ہم اپنے کردار کو بدل دیں اور قوانین پر عملدرآمد شروع کر دیں تو تمام مسائل نہ صرف ختم ہو جائیں گے بلکہ ترقی کے اس بام عروج پر بھی پہنچ جائیں گے جہاں ہمارے اسلاف نے پہنچ کر دنیا پر راج کیا ۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے لیکن حکمرانوں کی لوٹ مار نے اس کو کچہرے کا ڈمپر ، صنعتوں کا قبرستان اور تاریکیوں کا شہر بنا دیا ہے ۔ کراچی کے حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے ۔اگر ہم دین کے اصولوں پر عمل شروع کر دیں صفائی نصف ایمان ہے لیکن کراچی سے کچہرا اٹھانے والا کوئی نہیں ۔ ہمیں ایک پورا نظام دینا ہو گا ۔بلدیاتی نظام ، پولیس اور ایف بی آر جیسے اداروں کو بہتر اور ٹھیک بنا کر ہی نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک کے مسائل سے چھٹکارا حاصل کیا سکتا ہے ۔ ملک کو چلانے کے لئے ایماندار قیادت کی ضرورت ہوتی ہے ہم نے خیبرپختونخوا میں عملی طور پر اقدامات کر کے نہ صرف گلیات اور نتھیا گلی میں قبضہ مافیا سے زمین واگزار کرائیں بلکہ تعلیم ، صحت سمیت دیگر شعبوں کو بھی قانون کے مطابق آزاد خود مختار اور شفاف بنا دیا ۔صرف پشاور کے میئر کے ناظم کے پاس 30 فیصد اختیارات ہیں جو ملکی تاریخ کی بہت بڑی مثال ہے دیگر صوبوں میں بلدیاتی نظام آدھا تیتر آدھا بٹیر کے مترادف ہے ۔ وسیم اختر بھی کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے خیبرپختونخوا جیسے اختیارات مانگ رہے ہیں جو بالکل درست ہے ۔ ہم پشاور اور لاہور سے بڑا شوکت خانم ہسپتال کراچی میں شروع کریں گے لیکن ملک کی ترقی کے لئے ہم سب کو کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم واقعی پاکستان اور ترقی کی راہ پر گامزن کرکے خوشحال رہنا چاہتے ہیں تو پہلے اپنے کردار کو بدلیں پھر اچھی اور ایماندار قیادت کا انتخاب کریں جو بڑے بڑے چوروں اور ڈاکوؤں سے حساب لے سکیں ۔ انشاء اللہ ہمیں موقع ملا تو سیاستدانوں اور دیگر بڑے بڑے لوگوں سے احتساب کا عمل شروع کر کے نیچے تک آئیں گے ۔عمران خان نے کہا کہ ملک سے 800 ارب روپے باہر جا رہے ہیں ان لوٹ مار کرنے والوں کو روکنا ہو گا اور حب الوطنی سمیت اخلاقیات اور ایثار کے جذبے کو فروغ دینا ہو گا صرف اسی صورت ہمیں موجودہ حالات اور مسائل سے نمٹنے میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے ایان علی کی طرح لوگ بریف کیسز بھر بھر کر ملک سے باہر لے جاتے رہے اور ہم خواب غفلت میں پڑے رہے تو ہماری حالت موجودہ حالت سے مزید بدتر ہوتی جائے گی۔

عمران خان

مزید : صفحہ اول