ایجنسیاں حساس علاقے کا تحفظ نہیں کر سکتیں تو یہ انکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے : وزیر داخلہ

ایجنسیاں حساس علاقے کا تحفظ نہیں کر سکتیں تو یہ انکی کارکردگی پر سوالیہ نشان ...

واہ کینٹ (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوزایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے اگر سکیورٹی ایجنسیاں حساس علاقے کی حفا ظت اور اسے محفوظ نہیں رکھ سکتیں تو انکی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھائے جا سکتے ہیں۔ گزشتہ روز پی او ایف واہ کینٹ میں یوم مزدور کی تقر یب سے خطاب کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا مجھے معلوم نہیں یہاں پر کیا کھچڑی پکتی رہی۔ نادان کیسے سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی تھریٹ دے کر ہمیں روک سکتے ہیں۔ میں یہاں مزدوروں سے یکجہتی اور وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے مبارکباد پیش کرنے آیا ہوں، میں اس حلقے کا نمائندہ نہیں لیکن پی او ایف کے مزدوروں کیسا تھ ایک رشتہ ہے، آج مزدوروں کا جوش و محبت دیکھی ہے، مجھے کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ، یہاں کے مزدوروں پر جب بھی کوئی مشکل وقت آئے گا، میری آواز پی او ایف کے مزدوروں کیساتھ ہو گی۔ کوئی مزدور کش فیصلہ ہماری حکومت میں لاگو اور نہ ہی مسلط ہوگا۔ ہر کوئی کان کھول کر سن لے، پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی شان مزدوروں کے حوالے سے ہے۔ پی او ایف کے مزدور سول آرمڈ فورسز کیساتھ شانہ بشانہ لڑتے ہیں، مزدوروں کی محنت سے ہی پاکستان کی فیکٹریاں چلتی ہیں،ان کی محنت سے گولہ اور بارود بنتا ہے، افواج وہی اسلحہ دشمنوں پر برساتے ہیں۔ خدا کیلئے ان مزدوروں کے پسینے کو پونچھو، جنہوں نے اس ادارے کو زندگی دی اس کا اعتراف کرو۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا مزدور مزدور نہیں بلکہ پاکستان کا مجاہد ہے۔ اگر واہ فیکٹری کا مزدور محفوظ نہیں تو ہمارا اللہ کی حافظ ہے ۔ انہوں نے کہا صبح مجھے رپورٹس آئی تھیں یہاں دہشت گردی کا خطرہ ہے گزشتہ رات ہم نے دو دہشت گرد بھی پکڑے ہیں ۔ میں نے ایجنسیوں کو رپورٹ کا پیغام دیا رپورٹ دینا آپ کا کام ہے جانا یا نہ جانا میرا کام ہے اور اگر انتہائی حساس فیکٹری بھی محفوظ نہیں تو ہمارا تو پھر اللہ ہی حافظ ہے۔ اگر پی او ایف کے مزدور محفوظ نہیں تو ہمیں بھی اپنے تحفظ کی پرواہ نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے یکم مئی کو پی او ایف ملازمین کی تقریب ہورہی ہے اس روایت کو کسی صورت رکنے نہیں دیا جائے گا ۔ نواز شریف حکومت میں مزدوروں کو جو الاؤنس دیا گیا وہ مشرف دور میں واپس لے لیا گیا جبکہ مشرف دور میں مزدوروں پر جو کالا قانون نافذ کیا گیا اسکے خلاف میں نے سخت احتجاج کیا اور اس قانون کیخلاف اپوزیشن کو اکٹھا بھی کیا۔ انہوں نے تقریب کے اختتام پر فیکٹری کے ملازمین کیلئے الاؤنسز اور تنخواہوں میں اضافے کا بھی اعلان کیا۔یاد رہے میڈیارپورٹ کے مطابق حساس اداروں نے وزارت داخلہ کو رپورٹ بھیجی تھی جس میں کہا گیا کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اور یوم مزدور کی مناسبت سے منعقدہ تقریب پر دہشت گرد کارروائی کرسکتے ہیں لہٰذا تقریب میں مدعو وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار اور دیگر 2وفاقی وزرا شرکت سے گریز کریں۔

وفاقی وزیر داخلہ

مزید : صفحہ اول