حاصل پور‘ گندم خریداری سنٹرز پر ملی بھگت سے کروڑوں کی کرپشن‘ فرضی اندراج سے اپنوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ‘ کاشتکاروں کا احتجاج بے سود

حاصل پور‘ گندم خریداری سنٹرز پر ملی بھگت سے کروڑوں کی کرپشن‘ فرضی اندراج سے ...

حاصل پور(نمائندہ پاکستان) وزیراعلیٰ پنجاب کے اربوں روپے سبسڈی برائے خریداری گندم کی اشتہاری مہم کو حاصل پور (بقیہ نمبر34صفحہ12پر )

میں محکمہ مال فوڈ انسپکٹر اور اسسٹنٹ کمشنر حاصل پور عامر حسین پنہوار کی مبینہ ملی بھگت سے ناکام بنا دیا گیا ہے حاصل پور کے نواحی علاقہ جمال پور کے محمد حسین، محمد شاہد، محمد مشتاق، محمدسلیم و دیگر نے درخواست بنام وزیراعلیٰ پنجاب و ڈی سی او بہاولپور رانا محمد افضل میں موقف اختیار کیا ہے کہ متعلقہ حکام کی مبینہ کرپشن سے حقیقی کاشتکار و مالکان کو تو باردانہ میسر نہ ہے جبکہ ان کا حق سلب کرکے اپنے ذاتی بندے فرضی کاشتکار بنا کر انکو باردانہ جاری کیا گیا ہے اور اسطرح مارکیٹ سے ایک ہزارروپے فی من 40 کلوگرام گندم خریدکر کے 1300 روپے فی من سرکاری نرخ پر حکومتی سنٹر پر فروخت کر رہے ہیں جسکے باعث 750 روپے فی بوری کسانوں کا حق سلب کر کے کروڑوں روپے کمایا جا رہا ہے انہوں نے بطور ثبوت جی پی نمبر5 کتاب نمبر441 کا بل بنام محمدحفیظ ولد محمد عثمان 350 بوری اسی طرح بل نمبر70 ،27-04-2017 کا بل بنام محمد صابر ولد محمد اشرف 350 بوری اور بل نمبر441 ، 26-04-2017 بوری 330 عدد تقریبا 20 لاکھ روپے کا بل بنا کر دے دیا جبکہ ان تین بلز میں درج شدہ کاشتکاران نہ تو موضع لڈن و موضع ابلانی میں نہ کوئی رقبہ موجود ہے اور نہ ہی یہ لوگ یہاں کے کاشتکار ہیں یہاں یہ بات قابل فکر ہے کہ باردانہ تقسیم سے قبل حاصل پور کے درجنوں کاشتکاروں و سیاسی و سماجی حلقوں نے درخواست اسسٹنٹ کمشنر حاصل پور محمد عامر حسین پنہوار دفتر میں دی اور ان سے ملاقات کر کے باردانہ کی شفاف تقسیم کی استدعا کی مگر اسسٹنٹ کمشنر نے درخواست پر کوئی کاروائی نہ کی اور فرضی رپورٹس افسران بالا کو بھجوا دیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنر عامرحسین پنہوار نے کہا ہے کہ وہ معاملات کو دیکھ کر ذمہ دارن کا تعین کریں گے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر