بھارتی ریاست آسام میں گائے چوری کے الزام میں 2مسلمان نوجوان قتل

بھارتی ریاست آسام میں گائے چوری کے الزام میں 2مسلمان نوجوان قتل

نئی دہلی(اے این این)بھارت میں گؤرکھشک کے نام پر غنڈہ گردی جاری ہے،تنگ نظری اور مذہب کے نام پر تشدد کا ایک اور واقعہ،شمال مشرقی ریاست آسام کے ایک گاؤں میں گا رکھشکوں نے گائے چوری کے الزام میں دو مسلمان نوجوانوں کوڈنڈے مار کر موت کے گھاٹاتاردیا ہے۔مقامی میڈیا کے مطابق نوگاں ضلعے کے کاساماری علاقے میں تشدد کا یہ واقعہ ہوا،مقامی پولیس کے سپرنٹینڈنٹ کا کہنا ہے جب پولیس موقع پر پہنچی تو لوگ دو نوجوانوں کو لاٹھیوں سے مار رہے تھے،بھیڑ میں شامل لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اساماری کے پاس ایک مخصوص چراگاہ سے گائے چوری کی تھی۔پولیس اہلکار انہیں ہسپتال لے گئے لیکن شدید چوٹوں کی وجہ سے دونوں نے دم توڑگئے ۔مرنے والوں کی شناخت ابو حنیفہ اور ریاض الدین علی کے نام سے کی گئی ہے،انکی عمریں 20 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست آسام میں آسام کیٹل پریزرویشن ایکٹ کے تحت اجازت نامہ حاصل کیے بغیر گائے ذبح کرنے پر پابندی ہے، اس ایکٹ کے تحت صرف عید الاضحی کے موقع پر کسی بھی عمر کی گائے کو ذبح کیا جاسکتا ہے۔گذشتہ سال بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)کے ریاست آسام میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندو انتہا پسند گروپ گائے ذبح کرنے پر مکمل پابندی کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔بھارت کی دیگر ریاستوں کی طرح ریاست آسام میں بھی گائے چوری یا اسے ذبح کرنے کے شبہ میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے متعدد واقعات سامنے آچکے ہیں تاہم حالیہ دنوں میں تشدد سے ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

گائے چوری پر قتل

مزید : کراچی صفحہ اول