گرلز ڈگری کالج لیہ کے سپرنٹنڈنٹ کی کرپشن کے انکشافات کا سلسلہ جاری

گرلز ڈگری کالج لیہ کے سپرنٹنڈنٹ کی کرپشن کے انکشافات کا سلسلہ جاری

چوک اعظم (نامہ نگار )گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین لیہ کے سپرنٹنڈنٹ کیخلاف انکشافات کا تسلسل ،تعلیمی ماحول کی تباہی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے میں بھی پیش پیش ،دو ماہ قبل کالج ہذا کے لاکھوں روپے کے قیمتی سرسبز درخت چوری کٹوا کر بیچ کھائے تفصیل کے مطابق (بقیہ نمبر30صفحہ7پر )

کالج برائے خواتین لیہ کے سپرنٹنڈنٹ چوہدری شبیرکے خلاف کرپشن کے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں موصوف نے کالج ہذا میں ایک برس قبل سرسبز اور سایہ دارلاکھوں روپے کے قیمتی درخت جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کا سبب تھے بلکہ ان سایہ دار درختوں سے ایک تعلیمی ادارہ کی خوبصورتی وابستہ تھی کو موصوف نے بااثر اور سیاسی اثرو رسوخ کی بنا پر کٹوا ڈالا اور ساری رقم اپنی جیب میں ڈال کر قومی خزانے کو لاکھوں روپے کا ٹیکہ لگایاجبکہ اس مالی کرپشن پر جب کالج ہذا کے درجہ چہارم کے دو اہلکاروں غلام حسین اور غلام مصطفےٰ نے اپنی زبان کھولنا چاہی تو اُن کو چوہدری شبیر کے انتقامی تبادلہ کا نشانہ بننا پڑا اورُُ اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘‘کے مصداق دونوں اہلکاروں پر چوری کے درخت ڈال کر غلام مصطفےٰ کا تبادلہ کوٹ سلطان اور غلام حسین کا تبادلہ گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج لیہ کرا دیا گیا چاہیئے تو یہ تھا کہ پرنسپل انکوائری کرتیں بلکہ موصوف کے سیاسی اثرورسوخ سے خائف موجودہ پرنسپل گورنمنٹ کالج برائے خواتین بھی اس انتقامی کارروائی میں پیش پیش رہیں اور کسی قسم کے رد عمل سے قاصر نظر آتی ہیں اسی طرح دو ماہ قبل بھی مذکورہ اہلکار نے دیدہ دلیری سے لاکھوں روپے کے قیمتی درخت بیچ کھائے جس پر کوئی انکوائری نہ ہوئی اور نہ تادیبی کارروائی ہو سکی عوامی و سماجی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ کی انکوائری کراکے موصوف کو اس کرپشن پر قرار واقعی سزا دی جائے ۔

کرپشن انکشافات

مزید : ملتان صفحہ آخر