غریب والدین کے بچے آگے لائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا:محمود خان

غریب والدین کے بچے آگے لائے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا:محمود خان

مٹہ (نمائندہ پاکستان )خیبر پختونخوا کے وزیر کھیل ، ثقافت ، میوزیم اور امورنوجوانان اور پاکستان تحریک انصاف ملاکنڈ ریجن کے صدر محمود خا ن نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو بہترین ماحول میں اچھی اور معیاری تعلیم کی فراہمی ہے کیونکہ سرکاری سکولوں میں غریبوں کے بچے پڑھتے ہیں جن کو آگے لائے بغیر صوبے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنا ممکن نہیں ۔ ان خیالات کا انہوں نے یونین کونسل بڑتانہ مٹہ سوات میں ایک شمولیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنما عمرا خان ،گل نبی ، محمد رحمان ٹھیکیدار ، سید رحمان ، نعمت گل ، خائستہ محمد ، اکبر زیب ، بختی رحمان اور شیر بہادر خان نے اپنے خاندانوں کے ہمراہ مستعفی ہو کر پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ محمو دخان نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ ادوار حکومت میں صوبہ تعلیم سمیت تمام سرکاری اداروں کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کیا تھا لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کی قیادت میں اقتدار سنبھالتے ہی تمام اداروں کی حالات زار بہترکرنے کے لئے ریکارڈ اقدامات اٹھائے اور آج تمام سرکاری ادارے میرٹ کے مطابق اپنے فرائض بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ انہو ں نے کہا کہ بھوت سکولوں کو کھولنے اور اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک شفاف نظام کے تحت 40ہزار اساتذہ کو بھرتی کئے اور ہزاروں سکولوں کی چاردیواریاں تعمیر کیں ، اس کے علاوہ اربوں کی لاگت سے تمام سرکاری سکولوں کو فرنیچر اور دیگر ضروریات پورا کئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک تنخواہ دار مشیر اپنے اقاؤں کو خوش کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈے کی ناکام کوشش کر رہا ہے لیکن صوبے کے عوام میں اب سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے اور اب وہ ان کے جھانسے میں آنے والے نہیں ۔انہوں نے علاقے میں ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چار ارب کی لاگت سے حلقہ پی کے 84مٹہ سوات میں سیلاب سے بچاؤ کے منصوبے اور آبباشی کے لئے ایریگیشن چینلز کی منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور اسی طرح گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بھی منظور ہو چکا ہے جس پر عنقریب تعمیراتی کام شروع کیا جائے گا ، اس کے علاوہ تین ارب روپے کی لاگت سے پینے کے لئے صاف پانی کی منصوبوں میں 22آبنوشی ٹیوب ویلز اور ہینڈ پمپ اور واٹر سپلائی کی بوسیدہ پائپوں کی تبدیلی اور چشموں سے پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی جیسے منصوبے شامل ہیں جس سے علاقے کے لوگوں کو پینے پانی کی کمی کو پورا کر دیا گیا ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر