مزدوروں کی فلاح وبہبود کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں ،گل زمین خان

مزدوروں کی فلاح وبہبود کے دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں ،گل زمین خان

بٹ خیلہ(بیورورپورٹ) اس جدید دور میں بھی واپڈا ملازمین سے کئی کئی مزدوروں کاکام ایک فرد اور 24گھنٹے ڈیوٹی ان سے لی جارہی ہے۔ مزدوروں کی فلاح و بہبود کے سب دعوے جھوٹے ہیں۔تپتی دھوپ، یخ بستہ راتوں میں روشنی پھیلانے والے کی زندگی جہنم میں گزر رہی ہے۔ آئے روز بجلی ایکسڈنٹ سے معذوریا موت کے منہ میں چلے جارہے ہیں لیکن ان کو شہید کہنا بھی گناہ ہے ۔ ایکسیڈنٹ ہونے کے کئی کئی مہینے بلکہ سال گزرنے کے باوجود انکوائری نام کا چیز نہیں ہوتا۔ہر وقت موت سے لڑنے والے واپڈا ملازمین کی قسمت میں عوام کی ننگے گالیاں ،کم تنخواہ اور سزا در سزا ہی لکھی گئی ہے۔ ان خیالات کااظہار یوم مئی پر ہائیڈرو یونین درگئی کی ڈویژنل چیئر مین بابائے مزدورحاجی گل زمین خان، جنرل سیکرٹری ارشاد خان،شیر محمد خان، محمد طارق، جاوید خان، شاہ حسین خان،نواب علی خان، گل زمین گلے، ابراہیم خان،سرکل وائس چیئر مین نورزاد خان،فضل رازق،وہاب گل خان، آمجد علی خان،نثار خان، اعجازخان،الیاس گوہر،محمد طاہر خان،خان محمد اور دیگر یونین عہدیداروں نے میٹ دی پریس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ آج کا دن مزدور دن ہے وزیر اعظم ، وزراء اور سبھی لوگ بڑے بڑے دعوے کر یں گے لیکن ا س جدید دور میں بھی واپڈا کے ہر ملازم سے دو، دو ،تین ، تین آدمیوں کے برابر کا کام لیاجارہاہے ، 24گھنٹے ڈیوٹی کانہ صرف پابند ہے بلکہ ڈیوٹی لیاجارہاہے۔ ایک واپڈا ملازم پورے کمپلینٹ آفس کا ذمہ دار بنایاگیا ہے وہ نہ دن کو فارغ ہوتا ہے اور نہ ہی رات کو۔ایکسیڈنٹوں کی بھرمار ہے۔کوئی مرتا ہے اور کوئی معذور ۔ لیکن آفسران بالا اور حکومت کو کوئی پروا نہیں۔ عوام بھی ایسا کہ جس کے گھر کی بجلی ٹھیک کرتے ہو وہی منہ پر واپڈا کو ننگی گالیاں دیتے ہیں۔محکمہ میں سیاسی اثرو رسوخ اس حد تک ہے کہ کسی بھی بڑے شخص پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے ۔ خواہ وہ بجلی کا کیسا بھی چوری کرے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ واپڈا میں ہزاروں پوسٹیں خالی ہیں ان پر بھرتی کیاجائے، ہماری تنخواہوں کو سی ڈی اے، او جی ڈی سی ایل اور دیگر اداروں کی برابرلایاجائے، جو شخص اس ادارے کیلئے جان دے ان کو شہید قرار دے کر موت کے بعد ان کو ذلیل اور گناہ گار نہ سمجھا جائے۔8گھنٹے کی ڈیوٹی کا قانون لاگو کیاجائے۔آف ڈے ویجز اور ٹی اے بلز بروقت ادا کئے جائے،جان بچانے کی سامان اور آلات فراہم کئے جائیں۔تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیاجائے۔ملاکنڈ ڈویژن کے واپڈا ملازمین کو ہارڈا یریا الاؤس دیاجائے۔ دوران ٹریننگ ڈینجر الاؤنس کی ظالمانہ کٹوتی بند کی جائے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر