پاکستانی زبانوں کی اجتماعیت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،مقررین

پاکستانی زبانوں کی اجتماعیت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،مقررین

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں قومی ادیبوں ٗ شعراء اور کالم نگاروں کی دو روزہ کہکشاں )کانفرنس(کے اختتامی تقریب میں مقررین نے اپنی سفارشات میں کہا کہ پاکستان کے تمام صوبوں کے لوگوں کے سماجی و ثقافتی تعلق کو بہتر اور مضبوط بنانے کے لئے زبانوں کی اجتماعیت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے یونیورسٹی کو علمی ٗ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا گہوارہ بنادیا ہے جو امن و آشتی ٗ ہم آہنگی اور یکجہتی کے لئے نہایت اہم ہے کیونکہ ان تقاریب میں ہر صوبے بلکہ پاکستان کے ہر خطے کے لوگ شرکت کرتے ہیںٗ ان کو ایک دوسرے کی بات سنتے کا موقع ملتا ہے جن سے وہ ایک دوسرے کی حالات ٗ زبان ٗ ثقافت اور روایات سے باخبر رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے باخبر رہنے کا واحد راستہ اس طرح کی قومی کانفرنسسز کاانعقاد ہے۔ کانفرنس میں قومی ادیب ٗ شعراء ٗ سکالرز ٗ کالم نگار ٗ اینکرز ٗ دانشور اور ماہرین تعلیم میں خورشید ندیم ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی ٗ پروفیسر فتخ محمد ملک ٗ سجاد میر ٗ منصور آفاقی ٗ حارث خلیق ٗ وجاہت مسعود ٗ ڈاکٹر یوسف خشک ٗ پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور میمن ٗ پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی ٗ ڈاکٹر علی خیل دریاب ٗ پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر ٗ پروفیسر ڈاکٹر نصراﷲ وزیر ٗ پروفیسر ڈاکٹر نبیلہ رحمن ٗ ڈاکٹر عبدا لصبور ٗ ڈاکٹر یار محمد مغموم ٗ ڈاکٹر امان اﷲ میمن ٗ ڈاکٹر عبداﷲ جان عابد ٗ ضیاء لرحمن بلوچ اور ڈاکٹر حاکم علی برڑو شامل تھے۔ کانفرنس کا اہتمام شعبہ پاکستانی زبانیں نے کیا تھا ۔ پاکستان کی مختلف زبانوں میں امن و آشتی کے پیغام کی تحقیق کے لئے راستے ہوار کرنا اور پاکستان کی زبانوں میں موجود امن و آشتی کے پیغام کو فروغ دینا کانفرنس کے مقاصد تھے۔ ادب سماج اور اقدار ٗ پاکستانی زبانوں کا ادب اور انسان دوستی ٗ پاکستانی زبانوں کا ادب اور سماجی و معاشرتی اقدار ٗ ادب معاشرہ اور سماجی اقدار ٗ پاکستانی زبانوں کا ادب اور عصر حاضر اور معاشرے کی تعمیر میں ادب کا کردار کے موضوعات پر مقالے پیش کئے گئے۔ مقررین نے کہا کہ انسان کو تہذیب ٗ معاشرت اور رہن سہن سے آشنا رکھنا ادیبوں کا کام ہےٗ اس لئے ادیبوں کے کام کا فروغ امن و آشتی کے لئے ضروری ہے۔ تقریب سے شعبہ پاکستانی زبانیں کے چئیرمین ٗ ڈاکٹر عبداﷲ جان عابد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ملک کی واحد یونیورسٹی نے جس میں پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کے فروغ اور تدریس کے لیے شعبہ پاکستانی زبانیں قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سبھی زبانیں علم و ادب کا ایک گنج گراں مایہ رکھتی ہے۔ ان زبانوں کا ادب انسانی جذبات و احساسات کا ترجمان ہونے کے ساتھ ساتھ امن ٗ یکجہتی ٗ بھائی چارے اور اعلیٰ انسانی اقدار کا امین بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان زبانوں کے شعرا نے خیر کے فروغ اور مثبت اقدار کے احیا کے لیے ہر دور میں ادب تخلیق کیا ہے۔ ڈاکٹر عبداﷲ جان عابد نے کہا کہ امن و آشتی کے نغمے سبھی پاکستانی زبانوں میں تواتر و تسلسل کے ساتھ گونجتے رہے ہیںٗ اس لئے اس پیغام کو عام کرنا موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ افتتاحی تقریب میں ڈاکٹر شاہد صدیقی نے اعلان کیا تھا کہ اوپن یونیورسٹی پاکستانی زبانیں و ادب کے نام سے تمام علاقائی زبانوں کے مقالوں پر مشتمل جرنل جلد شائع کر ے گی۔ انہوں نے مزیدکہا تھا کہ پاکستانی زبانوں کے ادب میں معاشرتی تعمیر اور سماجی اصلاح پر قومی کانفرنس ہر سال باقاعدگی سے منعقد کی جائے گی اور پاکستانی زبانوں کو عام فہم اور سمجھنے کے لئے یونیورسٹی میں" زبانوں کی ٹرانسلیشن سینٹر" قائم کیا جائے گا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر