لائبریری نہ لیبارٹری ، کمرے پورے نہ ٹیچنگ سٹاف ، سکول طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے لگے

لائبریری نہ لیبارٹری ، کمرے پورے نہ ٹیچنگ سٹاف ، سکول طلبہ کے مستقبل سے ...

ملتان(رپورٹ: اعجاز مرتضیٰ ) ملتان سمیت صوبے بھر میں ہزاروں پرائیویٹ ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولز میں مطلوبہ سہولیات ہی نہیں ہیں‘ان سکولز میں لیبارٹری ہے نہ لائبریری ہے ‘ ہائی سکول میں کم از کم 12کمرے ہونے چاہئیں ‘ان میں 10کلاس رومز‘ ایک کلرک کا کمرہ اور ایک پرنسپل کے آفس کے طور پر استعمال کیا جانا ہوتا ہے اور ہائر سیکنڈری سکول میں کم ازکم 14کمرے ہونے چاہئیں ‘ ان میں 12کمرے کلاس رومز ‘ ایک کمرہ کلرک اور (بقیہ نمبر34صفحہ7پر )

(بقیہ نمبر3صفحہ7پر )ایک کمرہ پرنسپل آفس کے طور پر استعمال کیا جانا چاہئیے مگر بیشتر سکولز میں کمرے کم ہیں اور ان میں مطلوبہ معیار کا فرنیچر بھی نہیں ہے ‘ ان سکولز کے پلے گراؤنڈ ز ہیں نہ ٹیچنگ سٹاف تعلیمی قابلیت پر پورا اترتا ہے ‘ 70فیصد سکولز رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں اور جو رجسٹرڈ ہیں ‘ ان کا تعلیمی بورڈسے الحاق ہی نہیں ہے اور وہ طلباوطالبات کے داخلے یا تو تعلیمی بورڈ سے الحاق شدہ دیگر سکولز کے ذریعے بھجواتے ہیں یا پھر پرائیویٹ ہی داخلے بھجوا دیتے ہیں ‘ اس طرح دولت کمانے کے چکر میں طلبا وطالبات کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے ‘ یہ صورتحال محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے علم میں ہے مگر جان بوجھ کر چشم پوشی کی جا رہی ہے‘ محکمہ تعلیم کے افسر وں و اہلکاروں کی موجیں لگی ہوئی ہیں ‘ قوانین کے برعکس کھلنے والے تعلیمی ادارے محکمہ تعلیم کے افسروں و اہلکاروں کی کمائی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں ‘ اس بارے میں محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ غیر رجسٹرڈ و قوانین کے برعکس چلنے والے اورطلبا وطالبات کو سہولتیں فراہم نہ کرنے والے پرائیویٹ سکولز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور ان کو نوٹس دے کر کارروائی کی جائے گی غیر معیاری رجسٹرڈ سکولز کی رجسٹریشن کینسل کرکے ان کی ’’دکانداری‘‘ بند کر دی جائے گی ۔

سکولز

مزید : ملتان صفحہ آخر