لیڈی ڈاکٹرز ہراساں کیس: ملزم کے لیپ ٹاپ سے 2 ہزار قابل اعتراض تصاویر، ویڈیوز نکلیں

لیڈی ڈاکٹرز ہراساں کیس: ملزم کے لیپ ٹاپ سے 2 ہزار قابل اعتراض تصاویر، ویڈیوز ...
لیڈی ڈاکٹرز ہراساں کیس: ملزم کے لیپ ٹاپ سے 2 ہزار قابل اعتراض تصاویر، ویڈیوز نکلیں

  

لاہور (ویب ڈیسک) لیڈی ڈاکٹرز کو ہراساں کرنے کے کیس میں مرکزی ملزم کے لیپ ٹاپ میں 2 ہزار کے قریب قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔لیپ ٹاپ کی جانچ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی نے کی۔ جس نے اپنی رپورٹ انسداد دہشت گردی عدالت کو بطور ثبوت فراہم کردی ہے۔ جن میں 108 شناختی کارڈز کا استعمال بھی شامل ہے۔ ڈسٹرکٹ لیہ سے تعلق رکھنے والے ملزم عبدالوہاب پر لیڈی ڈاکٹرز کو ہراساں اور بلیک میل کرنے کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ 200 سے زائد خواتین جن میں لیڈی ڈاکٹرز اور لاہور کی گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتالوں کی نرسز بھی شامل تھیں، انکی جانب سے ہراساں اور بلیک میل کئے جانے کی شکایات سامنے آنے کے بعد اپریل 2015ءمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملزم کو ناران سے گرفتار کیا تھا جبکہ گوالمنڈی پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا۔ بلیک میلنگ کا نشانہ بننے والوں میں زیادہ تر کنگ ایڈورڈز میڈیکل یونیورسٹی، فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی اینڈ چلڈرن ہسپتال لاہور کی ہاﺅس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ٹرینیز شامل تھیں۔

بدچلنی سے منع کرنے پر اہلیہ نے خاوند کو ڈنڈے مارمارکر قتل کر دیا‘ ملزمہ گرفتار

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم مختلف ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتے ہوئے لیڈی ڈاکٹرز کے موبائل فونز، چیٹ، تصاویر، واٹس ایپ چیٹ، وائبر اور فیس بک اکاﺅنٹس تک رسائی حاصل کرنے کے بعد لیڈی ڈاکٹرز کو پھنساتا تھا۔ فرانزک سائنس ایجنسی نے لیپ ٹاپ کی جانچ کے دوران 4 لاکھ 28 ہزار 322 گرافکس/ تصاویر کی نشاندہی کی اور واضح طور پر کہا کہ ان میں سے زیادہ تر ایڈٹ شدہ یا جعلی تھیں۔لیپ ٹاپ کے تجزیے کے دوران ملزم پر لگنے والا بلیک میلنگ کا الزام بھی درست ثابت ہوا۔لیپ ٹاپ میں موجود کل تصاویر میں سے 2159 قابل اعتراض تصاویر کا ڈیٹا پیش کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ،آڈیو ویڑوئل اینالسس ڈیپارٹمنٹ کے مروجہ طریق کار کے تحت ان میں سے ایک بھی تصویر کے اصل ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔اسکے علاوہ فیس بک چیٹس، واٹس ایپ اور دیگر کی 667 علیحدہ تصاویر بھی پائی گئیں۔ 108 شناختی کارڈز/ پاسپورٹس اور کال کی تفصیلات کا بھی جائزہ لیا گیاہے۔

فرانزک ایجنسی کو دوران تفتیش یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بعض فون کالز میں ملزم نے خود کو حساس ادارے کا سینئر عہدیدار بھی ظاہر کیا۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 2 ہزار 454 ملٹی میڈیا فائلز کی نشاندہی ہوئی جن میں سے 266 آڈیو کال ریکارڈنگز ہیں جن میں بلیک میلنگ سے متعلق مواد ہوسکتا ہے۔

مزید : لاہور