بچے آپ کا وقت مانگتے ہیں

بچے آپ کا وقت مانگتے ہیں
بچے آپ کا وقت مانگتے ہیں

  

بچے عقل کے کچے مگر دل کے بہت ہی سچے ہوتے ہیں ۔ ہمارا کل ہمارا مستقبل انہیں بچوں کے دم قدم سے ہے ۔ بچہ امیر کا ہو یا غریب کا ماں کی جان اور باپ کے نام کی پہچان ہوتا ہے ۔ بچے کی ایک آہٹ اور معصوم مسکراہٹ سونے گھر میں وہ رونق جماتی ہے کہ باپ کو اپنے دن کی تھکاوٹ اور ماں کو روزانہ کی سب  تکلیف بھول جاتی ہے۔

مگر زمانے کی رفتار نے جہاں احساس مروت چھین لیا ہے وہاں بچے کے حصہ میں آتا  ہوااحساس محرومی اس کے بچپن کو داغ دار کر رہا ہے ۔ آئے دن مجرمانہ حملوں کا شکار یا آلہ کار بننے والے بچے والدین کی بے توجہی اور عدم دلچسپی کا آئینہ دار ہیں ۔ بچوں کے اذہان پہ معاشرے کی کج ادائی اور برائی کا رنگ کچھ ایسے چڑھتا ہے کہ نفع و نقصان سے لا علم بچے کا اختیار کیا رستہ والدین کو آٹھ آٹھ آنسو رلاتا ہے ۔ لیکن اس کا سب سے بھیانک رخ چھتوں سے جھولتے یا خودکشی کے دوسرے ذرائع ڈھونڈتے وہ بچے ہیں جو خود تو ملک عدم سدھار جاتے ہیں لیکن والدین کی زندگیاں زندہ در گور کر دیتے ہیں - احساس ِ جرم میں جیتے مرتے ، بین کرتے ۔بے ہوش ہوتے اور اپنے  بال نوچتے  ذمہ داران  سسکیوں اور آہوں  میں  سارے  معاشرے کو  یوں  رلاتے ہیں  کہ سب نظریں   چراتےاور سوگ مناتےنظر آتے ہیں ۔

پچھلے دنوں سکول بیگ میں پستول لاتا بچہ ہو  یا اپنی خاتون ٹیچر کے عشق میں گولی سے موت کو گلے لگاتا بچہ کس کس کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ کیا کوئی اس کا ادراک کرنے یا وجوہات ڈھونڈنے کو تیار ہے یا پھر وہی روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم آگے بڑھتے کسی ایسے ہی اور حادثے سے نبرد آزما ہوں گے ۔ آخر بچے ان انتہائی اقدام کو اٹھاتے کن مراحل سے گذرتے ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جن سے چھٹکارا پانا صحت مند معاشرے کے لئیے بہت ضروری ہے۔ بچوں کے مصروف ماں باپ ۔ زندگی کی گاڑی کھنچتے پیٹ کی آگ بجھانے اور گھر کچھ کما لانے کی فکر سے دوچار اپنے بچوں کو درکار وہ توجہ دے ہی نہیں سکتے ۔ دن بھر کی بھاگ دوڑ کے بعد تھکے ہارے یہ والدین گھر لوٹتے ہی روز مرہ گھریلو زندگی سے بر سر پیکار ہو جاتے ہیں ۔ مصروفیت سے چھٹکارا ملتے اگلے دن کی فکر میں سوتے جاگتے یہ ذہن بچوں کو بستروں میں دھکیلتے کچھ ایسے دراز ہوتے ہیں کہ بچوں کے دن بھر کے شغل سے سروکار ہی نہیں ۔نہ ان کے پاس پوچھنے کا وقت نہ بچوں کو کچھ بتانے کی دقت۔ باہمی لا علمی کن حالات کو جنم دیتی ہے خدا جانے۔

ایک دوسرے قسم کے والدین وہ ہیں جو اپنے فارغ وقت میں سوشل میڈیا کی زینت بنے دوسروں کے لیے فکر مند دکھائی دیتے ہیں اور مفاد عامہ کا علم اٹھائے اپنے بچوں سے بالکل لا علم ۔اگر کسی بچے کو کوئی مدد درکار بھی ہو تو فون کی سکرین پہ آنکھیں جمائے اشاروں کی زبان بروئے کار لائے مہارت کا وہ ثبوت دیتے ہیں کہ بھاڑ میں گئی توجہ اور سر پرستی ۔ پھر والدین کی راہ پہ چلتے بچے سوشل میڈیا پہ دوست بناتے کس سوچ کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ان کی قسمت ۔ کچے ذہن جب ان بھول بھلیوں میں پھنسے خود راستہ ڈھونڈتے ایسے بھٹکتے ہیں کہ راہ راست پھر میسر نہیں آتا ہے-                                                                                    

 کچھ ماں باپ اپنے بچوں سے جڑے بے جا احتیاط کرتے  ہیں ۔ بچے کی ذہنی نشوونما میں ٹانگ پھنساتے ہر وقت بچوں کی سر گرمیوں پہ لیکچر دیتے ہیں کہیں پہ کھیلنے سے منع ہو رہا ہے تو کہیں سکول کے دوست سے ملنے پہ قدغن لگاتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ سن بلوغت کو پہنچتا بچہ جب اپنی جگہ بناتا ہے اور سوچتا ہے کہ وہ یہ کرے وہ کرے کچھ ایسا کرے کہ اس سے اس کی اپنی شخصیت ابھرے ایسے ماحول سے باغی ہو جاتا ہے یا اس سے وہ فلاسفر جنم لیتا ہے جو کسی طور پہ بچہ نہیں ہوتا ۔ دوستی کا باہمی رشتہ ایسا مفقود ہوتا ہے کہ پھر توجہ کا طلب گار بچہ ہر پیار سے بولنے والے کے حصار میں گرفتار ہو جاتا ہے اور اسے اپنا درماں سمجھتا سب کچھ لٹا دیتا ہے ۔

اب ذکر کرتے ہیں ان ماں باپ کی جنہیں کچھ فکر نہیں کہ بچے کیا کرتے ہیں ۔ عموماً ایسے گھرانے غیر تعلیم یافتہ اور خط غربت کی لکیر سے نیچے ہوتے ہیں کم سنی میں بچپن چھوڑ اور گھر کے سربراہ بنتے انہیں دیر ہی کتنی لگتی ہے ۔ مختلف کارخانوں اور ورکشاپوں پہ کام کرتے بچے جرائم کی اس درس گاہ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔ سڑکوں پہ ہاتھ پھیلائے بھیک مانگتے اور دھتکارے جاتے بچے کب وہ تہذیب سیکھتے ہیں جو ان کی درست خطوط پہ شخصیت استوار کر سکے ۔ جو کچھ وہ سیکھتے ہیں جب آشکار ہوتا ہے تو اس وقت تک معاشرہ پیشہ ور مجرموں کے نرغے میں ہوتا ہے ۔

میں قدامت پسند نہیں ہو لیکن کیا تدریسی اداروں کے معلم ویسے ہی ہیں ۔ غربت میں بھی اپنے آپ کو ایک مثال بنائے سب کے لئے باعث تقلید ۔ لباس اور چہروں سے ٹپکتی محبت اور شفقت وہ کمی پورا کرتی تھی جو گھروں میں ناپید ہوتی تھی ۔ پھر سرکاری ادارے تباہ ہوئے اور آ گئے پرائیوٹ سکولوں میں فیشن کے ماڈل ٹیچرز جو جدت پسندی سے دوڑ لگائے اپنی اقدار بھلائے وہ تعلیم دے ہی نہیں سکتے ہیں جو قوموں کی معمار ہوتی ہے ۔ ایک ٹیلیویژن اور ایک ڈرامہ۔ سبق آموز سب کے لئے کچھ نہ کچھ پیغام لئے ہوئے۔ اگلے دن ہر طبقہ فکر کی فراغت میں موضوع سخن اور اگلی قسط پہ پیش گوئی کرتے سادگی کے مصداق سادہ ذہن اداکاروں کی شخصیت سے کچھ اخذ کرتے اورخود بھی انہیں میں ڈھلتے لوگ کہاں گئے ہیں ۔کچھ سمجھ نہیں آتا ۔ ان کی جگہ لے لی مار دھاڑ اور خودکار ہتھیاروں سے لیس ان کرداروں نے جو قتل و غارت سے فارغ ہوں تو پردہ سیمیں پہ ان اخلاق باختہ مناظر کا حصہ بن جائیں کہ ساتھ بیٹھے والدین کے لئے ریموٹ کنٹرول ڈھونڈتے ننھے ذہنوں پہ وہ کچھ نقش کر جائیں کہ آہستہ آہستہ شرم کے سب پردے ہی اٹھتے جائیں اور پھر دکانوں پہ وہی بندوق اور سڑکوں پہ ویسے ہی کردار ڈھونڈنے میں مصروف بچے معاشرے کو فلمی رنگ ہی تو دے دیتے ہیں۔

خدارا بچوں کو وقت دیں ان کو دی ہوئی مثبت سوچ ہی کل کے صحت مند معاشرے کو جنم دے گی اور انگریز معاشرے کی تصویر بنتا معاشرہ اپنے مشرقی دور میں لوٹ آئے گا جہاں عزت کرتے اور ایک دوسرے کے کام آتے لوگ روشن مستقبل کی راہیں متعین کریں گے ۔ بچوں کے لئے شاعرمشرق  علامہ اقبال کا درس ہی مشعل ِ راہ ہے ۔ اپنے اجداد کو پہچانیئے اور ان کی امنگوں کے ترجمان بن جائیے-                                                                                                                                                            

جوانواں  کو   مری  آہ ِ   سحر  دے

پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر  دے

خدایا    آرزو    میری     یہی    ہے

میرا   نورِ بصیرت  عام   کر  دے

 .

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ