گاڈ فادر،نوازیازرداری ؟

گاڈ فادر،نوازیازرداری ؟
گاڈ فادر،نوازیازرداری ؟

  

پانامہ لیکس کیس کے فیصلے کے ابتدائی نوٹ میں معروف ناول’’ گاڈ فادر‘‘ کے اس جملے کا ذکر کیا گیا ’’دولت کے ہر خزانے کے پیچھے جرم کی داستان چھپی ہے ‘‘۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لکھا ‘ ایسا اتفاق ہے کہ یہ جملہ نواز شریف کے خلاف کیس پر صادق آتا ہے۔ اگرچہ اکثریتی فیصلے کے نتیجے میں پانامہ کا کیس اب جے آئی ٹی کے حوالے کیا جا رہا ہے جو دو ماہ میں معاملات کو کھنگال کر حقائق کو سامنے لائے گی‘ لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے کئے گئے فیصلے میں اس طرح کے جملے موجود ہونا ظاہر کرتے ہیں کہ اس کیس کے حوالے سے جو شواہد فاضل جج صاحبان کے روبرو پیش کئے گئے‘ وہ ان سے مطمئن نہیں اور یہ محسوس کرتے ہیں کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

فاضل جج کی ججمنٹ بھی کیس کی نوعیت سمجھنے اور فیصلے کی بنیاد فراہم کرتی ہے عدالت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ بے حد اہمیت و افادیت کے حامل ہوتے ہیں‘ لہٰذا کیا یہ بہتر نہیں کہ مبہم جملوں میں مدعا بیان کرنے کے بجائے اور ناولوں میں سے حوالے دینے کے بجائے ٹو دی پوائنٹ‘ یعنی سیدھی بات کی جائے تاکہ ہر کوئی ان کا اپنی مرضی کا مطلب اور معنی اخذ نہ کرے اور ججمنٹ کا وہی مفہوم لیا جائے ‘ جج صاحبان شواہد کے جائزے کے بعد جس نتیجے پر پہنچے ہوں۔

بات کہیں اور چلی گئی‘ میں دراصل آپ کو یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ گاڈفادر ناول کی کہانی کیا ہے اور اس پر بننے والی فلموں کی تاریخ کیا ہے۔ 2005میں ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’’سرکار‘‘ماریو پُوزو کے ناول گاڈ فادر سے موخوذ ہے۔ اس فلم میں امیتابھ بچن نے وہی کردار ادا کیا جو انگریزی فلم میں مارلن برانڈو نے ادا کیا تھا۔فلم کی دیگر کاسٹ میں ابھیشک بچن‘ شنکر ناگرے‘ انوپم کھیر‘ سپریا پاٹھک‘ تانیشا مکھرجی اور کترینہ کیف شامل ہیں۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد اس کا دوسرا حصہ بھی بنایا گیا‘ جس کا ٹائٹل تھا: سرکار راج اور اس میں زیاد ہ تر پہلی فلم والے اداکار تھے‘ کترینہ کی جگہ البتہ ایشوریہ رائے کو لیا گیا۔ اب سرکار راج تھری کے نام سے بھی ایک فلم بن رہی ہے جو جلد ہی سینماؤں کی سکرین پر ہو گی۔ حقیقت یہ ہے سرکار بھارت میں گاڈ فادر سے ماخوذ پہلی فلم نہیں ہے۔ اسی ناول پر اس سے پہلے کئی فلمیں بن چکی ہیں۔مثلاً فیروز خان نے 1976میں دھرماتما کے نام سے فلم بنائی جو ناول گاڈ فادر سے ماخوذ تھی۔ اس میں فیروز خان کے علاوہ ہیمامالنی‘ ریکھا اور ڈینی ڈیزونگپا نے کام کیا۔ اسی فیروز خان نے بعد ازاں دیاوان کے نام سے اسی ناول پر مبنی کہانی کو پردہ سکرین پر منتقل کیا۔ فلم ودھاتا کی کہانی بھی کسی حد تک گاڈفادر سے مستعار لی گئی تھی۔ پاکستان میں اقبال یوسف نے 1975میں ان داتا کے نام سے گاڈ فادر کی کہانی پر فلم بنائی‘ جس میں سدھیر‘ محمد علی‘ سلطان راہی اور ممتاز نے مرکزی کردار ادا کئے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ گاڈ فادر پر فلموں کے بننے کا آغاز 1972میں ہوا جب ڈائریکٹر فرینکوئس فورڈ کوپولا نے 1972میں اسی نام سے فلم بنائی‘ جس میں مارلن برانڈو نے ڈون ویٹو کورلیون کا کردار ادا کیا‘ جبکہ ال پیچینونے مائیکل کورلیون کا کردار نبھایا۔ اس فلم نے بہترین فلم کا اکیڈیمی ایوارڈ حاصل کیا تھا۔ دو سال بعد اس فلم کا دوسرا حصہ بنایا گیا۔ انگریزی میں بننے والی فلموں کی کہانی چونکہ براہ راست انگریزی میں لکھے گئے ناول سے لی گئی ہے‘ اس لئے خاصی سست ہے اور ایڈونچر فلمیں دیکھنے والوں کو قدرے بورنگ محسوس ہو سکتی ہے‘ لیکن اردو اور ہندی میں بننے والی فلموں میں وہ سارا مرچ مصالحہ موجود ہے‘ جو برصغیر کی فلمی ناظرین کو چاہئے ہوتا ہے۔

یہ ناول 1969میں شائع ہوا تھا اور اس میں 1954تا 1955کے عرصے کی کہانی بیان کی گئی ہے ؛ تاہم درمیان میں کہانی کے مرکزی کردار یعنی وائیٹو کورلیون کے بچپن اور جوانی کے زمانے کو بھی فلیش بیک میں بیان کیا گیا ہے‘ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کہانی کا کرکزی کردار جرائم کی دنیا میں داخل کیسے ہوا۔اطالوی زبان میں وائیٹو کورلیون کا مطلب ہے لائن ہارٹ‘ یعنی شیر کا دل۔ اب آتے ہیں‘ گاڈ فادر کی کہانی کی طرف۔کورلیون ایک ڈون ہے اور اپنے پورے خاندان کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔اس کے دو بیٹے سینٹینو اور مائیکل بھی اس دھندے میں اس کے ساتھ پوری طرح ملوث ہیں۔ ڈون ہونے کی وجہ سے کورلیون کے بہت سے دشمن بھی ہیں اور کاروباری رقابتیں بھی اپنا پورا رنگ دکھاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک رقابت کا نتیجہ کورلیون کے قتل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔منشیات کا دھندا کرنے والاسولوزو اسے قتل کرا دیتا ہے اس طرح پورے خاندان کا بار اور باپ کا کاروبار کا بوجھ دونوں بیٹوں کے کندھوں پر آ جاتی ہے۔ وہ یہ کام اپنے دو ساتھیوں پیٹر کلیمنزا اور سیلواٹور ٹیسیو کی مدد سے کرتا ہے۔ مائیکل جب اپنے باپ کے قاتل سولوزو اور اس کے ساتھ ایک ڈرگ لارڈ کے لئے کام کرنے والے آئرش پولیس افسر کیپٹن میک کلسکی کو قتل کرتا ہے تو دونوں مافیا گینگز کے درمیان مکمل جنگ چھڑ جاتی ہے۔ اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک بھائی سینٹینو قتل کر دیا جاتا ہے اور اپنے گینگ کی ذمہ داری مائیکل کو اٹھانا پڑتی ہے۔مائیکل خود کو سدھارنے اور اپنے کاروبار کو قانونی بنانے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن حالات کی دلدل میں وہ اتنا گہرا دھنس چکا ہوتا ہے کہ باہر نکلنا ممکن نہیں رہتا۔ اس طرح وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ بے رحم اور جنونی بن جاتا ہے۔ وہ اپنے خاندان کے تمام دشمنوں کا خاتمہ کرا دیتا ہے‘ جن میں اس کا سالا کارلو رِضی بھی شامل ہوتا ہے۔ دراصل یہ کارلو ہی تھا‘ جس نے دشمنوں کے ساتھ مل کر مائیکل کے بھائی اور ڈون کورلیون کے بیٹے کے قتل کی راہموار کی ہوتی ہے۔ اس کے بعد مائیکل نیو یارک میں اپنے خاندان کا سارا کاروبار فروخت کر دیتا ہے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ نیواڈا میں لیک تھوئے کے علاقے میں چلا آتا ہے۔

اگرچہ اس کہانی اور اس ناول کا حکمران خاندان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘ لیکن گاڈ فادر کے ایک فقرے کا حوالہ دے کر شاید یہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی کہ جب کوئی جرائم کی دلدل میں گرتا ہے تو پھر وہ اس میں نیچے ہی نیچے دھنستا چلا جاتا ہے۔ لوگ دنیا داری میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ انہیں اپنی آخرت کی بھی خبر نہیں رہتی۔

گارڈ فارد کی کہانی اور نواز شریف کی فیملی سے مناسبت پرسوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر سوالات اٹھ رہے ہیں لیکن مجھے یہ سوال پریشان کر رہا ہے کہ گارڈ فادر کی کہانی تو زرداری صاحب سے قدرے مناسبت رکھتی ہے لیکن ان کے متوقع کیس میں انگریزی ادب سے کون سی مثال لی جائے گی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ