ڈاکٹروں نے اس چوہے کا آپریشن کرکے اس کی گردن پر دو منہ کیوں لگادئیے؟ وجہ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

ڈاکٹروں نے اس چوہے کا آپریشن کرکے اس کی گردن پر دو منہ کیوں لگادئیے؟ وجہ جان ...
ڈاکٹروں نے اس چوہے کا آپریشن کرکے اس کی گردن پر دو منہ کیوں لگادئیے؟ وجہ جان کر آپ بھی داد دینے پر مجبور ہوجائیں گے

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین اور اٹلی کے ڈاکٹروں نے انسان کا ’ہیڈ ٹرانسپلانٹ‘ کرنے کا انتہائی متنازعہ اعلان کر رکھا ہے جس میں کسی انسان کا پورے کا پورا سر نیا یا دوبارہ لگایا جائے گا۔ اب ان ڈاکٹروں نے انسان پر یہ تجربہ کرنے سے پہلے چوہوں پر اس کی کامیاب آزمائش کر ڈالی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کی اس ٹیم نے ایک چوہے کا سر کاٹ کر دوسرے چوہے کے سر کے اوپر لگا کر اسے دو سر والا چوہا بنا دیا۔ اس تجربے میں تین چوہے استعمال کیے گئے۔ ایک چھوٹا چوہا جس کا سر کاٹ کر دوسرے بڑے چوہے کے سرکے اوپر پیوند کیا گیا جبکہ تیسرے چوہے سے دوران آپریشن خون حاصل کیا گیا۔

پیشاب روک کر رکھنے کے مردانہ طاقت پر حیرت انگیز اثرات،امریکی ماہر نے ناقابل یقین دعویٰ کر دیا

رپورٹ کے مطابق یہ دو سر والا چوہا 36گھنٹے تک زندہ رہا اور اس تجربے کی کامیابی یہ تھی کہ پورا سر کاٹ کر دوسرے چوہے کو لگانے کے اس انتہائی پیچیدہ آپریشن میں اس چوہے کا دماغ متاثر نہیں ہوا اور آپریشن کے بعد بھی بالکل درست کام کرتا رہا۔ اس سے قبل یہ تجربہ کتوں اور بندروں پر بھی کیا جا چکا ہے اور اب ڈاکٹر اسے انسانوں پر آزمانا چاہتے ہیں۔ تاہم انسان پر ایسے تجربے کی سائنسدانوں اور ڈاکٹروں کی طرف سے شدید مخالفت بھی کی جا رہی ہے۔سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے نیویارک یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہنٹ بیجر کا کہنا تھا کہ ”یہ تجربہ کسی انسان پر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس میں موت کے علاوہ بھی کئی طرح کی بری چیزوں کا امکان بہت زیادہ ہے۔“

تاہم یہ تجربات کرنے والے ڈاکٹر کیناویرو اور ان کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ”اس تجربے کی کامیابی کسی بھی انسان کو نئے جسم کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے تیار کرے گی۔“ اس ٹیم نے 2016ءمیں انسان پر یہ تجربہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا تاہم شدید مخالفت کے باعث وہ نہ کر سکی۔ اب ایک بار پھر وہ اس کا اعلان کر چکی ہے اور اس کے لیے ایک روسی نوجوان نے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات کی پیشکش بھی کر دی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی نہیں چاہتی کہ یہ تجربہ اس پر کیا جائے۔ اگر ڈاکٹر واقعی یہ تجربہ کرتے ہیں تو پہلے اس نوجوان کا سر کاٹ کر دھڑ سے الگ کیا جائے گا اور پھر اسے دوبارہ جوڑا جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس