اترپردیش میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں ایک اور مسلمان شہید ، 2 روز میں شہدا کی تعداد 3 ہوگئی

اترپردیش میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں ایک اور مسلمان شہید ، 2 روز میں شہدا ...
اترپردیش میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں ایک اور مسلمان شہید ، 2 روز میں شہدا کی تعداد 3 ہوگئی

  

آسام(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کے سب سے بڑے  صوبے اترپردیش میں ہندو انتہاپسندوں نے ایک اور مسلمان کو شہید کردیا ہے ، 2 روز میں شہدا کی تعداد 3 ہوگئی ، انتہا پسند ہندو   رہنما یوگی ادتیہ ناتھ کے  وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ،مسلمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مزید پڑھیں:بھارتی مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ،اقوام متحدہ سے رجوع کیا تو مودی کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے :سماج وادی پارٹی رہنمامحمد اعظم خان

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ریاست آسام میں انتہا پسند ہندو گائے رکشکوں نے گائے چوری کے الزام میں 2 مسلمانوں کو شہید کردیا تھا ، ایک روز کے بعد ریاست اترپردیش میں ایک اور مسلمان 45 سالہ غلام محمد پر بھی ہندو انتہا  پسندوں نے  تشدد کرکے اسے شہید کردیا گیا۔ اتر پردیش کے بلند شہر کے پولیس حکام نے میڈیا کو بتایاکہ کچھ روز پہلے سوہی نام کے

گا ؤں سے ایک نوجوان  مسلمان محمد یوسف نے 19 سالہ ہندو لڑکی کو اغوا کیا تھا۔ دائیں بازوں کے جنگجوؤں نے غلام محمد سے یوسف سے متعلق معلومات لینا چاہی لیکن معلومات نہ ملنے پر اسے سوہی گا ؤں میں تشددد کرکے شہید کردیا گیا۔واضح رہے کہ اتر پردیش میں مودی کی جماعت بی جے پی کی انتخابات میں کامیابی اور ریکارڈ یافتہ انتہا پسند ہندو یوگی ادتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے فوری بعد  ہی سے یوپی میں مسلمانوں کے خلاف سرکاری و غیر سرکاری سطح پر پر تشدد کارروائیوں میں نمایاں ترین  اضا فہ بڑھ گیا ہے ،یوگی  حکومت نے  پوری ریاست میں گائے ذبح کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام سلاٹر ہاؤس (مذبح خانے) بند کر دیئے ہیں جبکہ مسلمانوں میں پر تشدد کارروائیوں میں اضافے سے عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو چکا ہے اور مسلمان کیمونٹی میں گہری تشویش پیدا ہو گئی ہے ۔

مزید : بین الاقوامی