بچوں کا کھیل

بچوں کا کھیل
بچوں کا کھیل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بچوں کا کھیل بڑا منفرد اور دلچسپ ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی دریا کے کنارے رہنے والے بچوں کو دیکھا ہو تو یہ ریت کے گھروندے بناتے ہیں ،چکنی کچی مٹی سے گھگھو گھوڑے تیار کرتے ہیں ۔دن کا زیادہ وقت انہیں تیار کرنے میں لگا دیتے ہیں اور جب ایک خوبصورت گھر سا بن جاتا ہے اس میں گھگھو گھوڑے بڑے حسین منظر پیش کرنے لگتے ہیں تو یہ بچے اپنی دن بھر کی محنت کو اچانک سے مسمار کر دیتے ہیں اور اگلے دن پھر یا جب ان کا من چاہے ایسے ہی ریت کے گھروندے اور کچی مٹی کے گھگھو گھوڑے تیار کر کے اپنا کھیل کھیلتے ہیں۔

لاابالی عمر کا یہ کھیل ہمیں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ بچوں کے اندر کوئی مستقل مزاجی نہیں ہوتی اور ان کا کھیل عارضی ہوتا ہے۔وہ جو محنت کرتے ہیں وہ محض ایک شغل میلہ ہے اور مزے دار بات یہ ہے کہ بچے اپنے ہاتھوں سے جب محنت سے بنائے گئے گھر اورگھگھو گھوڑے توڑتے ہیں تو ان کے چہرے پر افسوس کی کوئی شکن بھی نہیں ہوتی وہ انتہائی مطمئن نظر آتے ہیں۔

ہمارا ننہال نالا ڈیک کے کنارے ہے ہم خود بھی بچپن میں یہ دلچسپ کھیل کھیلتے رہے ہیں، یقین جانئے دن بھر محنت کے بعد تیار کئے گئے یہ ریت کے گھروندے اورگھگھو گھوڑے توڑتے وقت بعض اوقات تو خوشی سے نعرے لگائے جاتے اور اپنی محنت ضائع ہونے کا بالکل بھی قلق نہ ہوتا۔

بچپنا بڑا حسین ہوتا ہے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ بچوں کی حد تک تو یہ کھیل ٹھیک ہے، لیکن عرض یہ کرنی تھی کہ حضور بچوں کا کھیل بچپنے کی حد تک ہی اچھا ہوتا ہے۔

ریت کے گھروندے اورگھگھو گھوڑے تیار کرنا دریا کی ریتلی زمین پر ہی جچتا ہے، ملک اور ریاستیں ریت کے گھروندے نہیں ہوتے کہ برسوں کی محنت سے انہیں تعمیر کیا جائے اور پھر انہیں توڑ یا مسمار کردیا جائے ۔

نظام مملکت بچوں کا کھیل نہیں کہ جب چاہا کھیلا اورپھر اسے تہہ وبالا کردیا۔لیڈر گھگھو گھوڑے نہیں ہوتے کہ انہیں تیار کیا جب عوام سے ان کا رومانس ہوگیا تو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا یا کان سے پکڑ کر باہر کر دیا اور ناک رگڑنے پر مجبور کر دیا۔

ملکی نظام اور کاروبار مملکت کو عوامی امنگوں کے مطا بق چلا نا باقاعدہ ایک دیر پا عمل ہے۔ پالیسیوں کے تسلسل سے ترقی کا سفر آگے بڑھتا ہے۔ آنے والے برسوں کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جاتا، جس کے لئے جمہوریت کا تسلسل اور عوامی مینڈیٹ کا احترام لازم ہے،جو پالیسیوں کے تسلسل کے لئے ہی دیا جاتا ہے۔

مختلف طبقوں، فرقوں اور گروہوں کو ایک سیاسی پلیٹ فارم پر لانے سے ہی قوموں کا وجود تشکیل پاتا ہے اس کے لئے برسوں کی ریاضت درکار ہوتی ہے۔عصبیت اور لسانیت کا زہر ختم کرنے کے لئے قومی سیاسی جماعتوں کی مضبوطی لازم ہوتی ہے۔یہ مہلک زہر کہیں برسوں بعد جا کر ختم ہوتا ہے۔ہر پانچ دس سال بعد ان جماعتوں کو توڑنے اور کمزور کرنے سے یہ زہر ختم کرنا ممکن نہیں یہ کسی اور روپ میں مزید طاقت سے ابھرنے لگتا ہے۔لیڈر گھگھو گھوڑے نہیں ہوتے کہ انہیں پہلے یہ رتبہ دیا جائے کہ اپنا کورنگ امیدوار بنا دیا جائے پھر جب وہ عوام کے دِلوں میں سما جائے تو تختہ دار پر لٹکا دیا جائے۔

کسی کو فیکٹری چلاتے پکڑ کر وزیراعلیٰ نامزد کر دیا جائے اسے اپنی عمر لگنے کی دُعا دی جائے پھر سب فصلی بٹیروں کو پکڑ کر اس کے جال میں دے کر آئی جے آئی بنوا کر اسے عظیم لیڈر بنا دیا جائے اور جب وہ عوام کے ساتھ رشتہ بنا لے تو اسے اُٹھا کر باہر پھینک دیا جائے اور نیا گھگھو گھوڑا تیار کرنا شروع کر دیا جائے۔

حضور بس کردیں ریاستیں اور ملک ریت کے گھروندے نہیں ہوتے نہ ہی لیڈر مٹی کے گھگھو گھوڑے اور نہ ہی ملکی نظام بچوں کا کھیل کہ جب چاہا کھیلا اور جب چاہا توڑ دیا۔پچھلی سات دہائیوں سے یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔

کسی کو راتوں رات کراچی کا وارث بنا دیا جاتا ہے اس کی مرضی سے پتا نہیں ہل سکتا پھر وہ بنانے والوں کی مرضی کے بغیر اپنے لب تک ہلانے سے قاصر ہوتا ہے،جنہیں ان کا پڑوسی نہیں جانتا انہیں اٹھا کر چیئرمین سینٹ بنا دیا جاتا ہے۔کنونشن لیگ، جونیجو لیگ ،ق لیگ، پیٹریاٹ، آئی جے آئی ، ایم ایم اے،ایم کیو ایم ،بلوچستان حقوق پارٹی ،سرائیکی بیلٹ ڈرامہ اور نت نئے گھگھو گھوڑے اور دلچسپ نعرے جانے دیں حضو ر اب اس کھیل کو مزید نہ کھیلیں اس کھیل نے مُلک و قوم کو کچھ نہیں دیا ۔

سوائے اس کے کہ ایک حصہ الگ ہوا ۔ نفرتیں بڑھ گئیں ،صوبائیت اور لسانیت کو فروغ ملا، کلاشنکوف ،ہیروئن ، لاقانونیت ، دہشت گردی اور جہالت نے پنجے گاڑ لئے اور کیا حاصل ہوا؟؟؟۔لوگوں کو پینے کا صاف پانی آج اکہتر سال بعد بھی میسر نہیں، صحت و تعلیم کی سہولتوں کا فقدان ہے۔

گرین پاسپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں پھر ناکام تجربات کو آخرکب تک دہراتے رہنا ہے۔ شغل میلے کی بھی کوئی تو حد ہونی چاہئے ۔

دُنیا کی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ قومیں سالوں کے سفر کے بعد جا کر بنتی ہیں۔جمہوری و سیاسی عمل کو مضبوط بنانے کے لئے تسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔پالیسیاں وہی جاری رہتی ہیں جن کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہو۔

گھگھو گھوڑے کبھی کامیاب حکمران نہیں ہوتے ۔کامیاب حکمران وہی ہوتے ہیں، جنہیں عوام اپنی بصیرت سے چنتے ہیں اور عوام کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے۔لیڈر ہر گز ہر گز لیبارٹریوں اور ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر تیار نہیں کئے جاسکتے یہ صرف عوام کے اندر سے اُبھر کر باہر آتے ہیں اور اس کا حق صرف عوام کو ہے کہ وہ کسے اپنا لیڈر مانتے ہیں۔

مُلک ریاستیں، سیاسی و جمہوری نظام اور لیڈر یہ ایک طویل عمل کے متقاضی ہیں بچوں کا کھیل ہرگز نہیں کہ ریت کے گھروندے بنائے پھر توڑ دئیے ،گھگھو گھوڑے تیار کئے جب ایک خوبصورت گھر کا نقشہ بن جائے تو اسے تہہ بالا کردیا جائے۔

اب یہ کھیل بند ہونا چاہئے اور مہذب معاشروں کی طرح ہمیں بھی ایک سیاسی جمہوری عمل کے ذریعے آگے کا سفر کرنا چاہئے، جس میں کلی اختیار عوام کو ہو کہ وہ کس کو مینڈیٹ دیتے ہیں اور کیسی حکمرانی چاہتے ہیں۔

بچوں کے کھیل میں ہم نے فضول محنت سے بہت نقصان اٹھا لیا اب مزید یہ نقصاندہ کھیل چلانا مزید نقصان کا سبب بنے گا، جس کا ہم معاشی ابتری کے ساتھ متحمل نہیں ہو سکتے۔

ملکی حالات اب مزید کسی کھیل تماشے کے بالکل بھی متقاضی نہیں۔کھیل کھیل بہت کھیل لیا اب سنجیدگی سے اس پاک دھرتی کا قرض اتارنا ہے۔

معاشی و معاشرتی قرض کا بہت بڑا بوجھ پڑ چکا جسے اُتارنے کے لئے اگر سنجیدگی نہ دکھائی تو نقصان کا خدشہ ہے ناقابلِ تلافی نقصان۔دُعا ہے پاک دھرتی شاد باد رہے ۔

مزید : رائے /کالم