کنٹرول لائن کی خطرناک کشیدگی

کنٹرول لائن کی خطرناک کشیدگی

  

بھارتی فوج نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر گولہ باری جاری رکھی،جس سے فوج کا ایک جوان اور قریبی آبادی کی دو خواتین شہید ہو گئیں،تازہ ترین واقعات کیلر اور رکھ چکری سیکٹروں میں ہوئے۔ بھارتی فوج نے پاکستانی پوسٹ اور شہری آبادی پر گولہ باری کی، دفتر خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہی ہے،جس میں شہری آبادیوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو انتہائی قابل ِ افسوس،انسانی وقار، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے منافی ہے۔ بھارتی فوج کی ان خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جس کا نتیجہ سٹرٹیجک غلطی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ ایل او سی پر کشیدگی میں اضافے سے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم سے دُنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

کشمیر کی کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا معاہدہ2003ء میں ہوا تھا، جس کی بھارت ہزاروں خلاف ورزیاں کر چکا ہے،حالانکہ یہ معاہدہ ایک ایسا موقع فراہم کرتا تھا، جس پر عمل کر کے نہ صرف کنٹرول لائن پر کشیدگی کم کی جا سکتی تھی، بلکہ مجموعی طور پر ایسی فضا پیدا کرنے میں بھی مدد مل سکتی تھی، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتری کی جانب گامزن کر دیتی،لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ بھارت ایک محدود سیکٹر میں بھی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے ہر وقت خدشہ ہے کہ یہ جنگ پھیل کر پورے خطے کے امن کو جلا کر راکھ نہ کر دے۔پاکستان اگر صبر و تحمل کا مظاہرہ نہ کرے تو ایسا موقع کسی وقت بھی آ سکتا ہے۔بھارت نے گزشتہ برس فروری میں ایک ایسی ہی حماقت کی جب پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالا کوٹ پر حملہ کیا گیا۔ سراسیمگی کے عالم میں بھارتی پائلٹ نے ایک جنگل پر چند گولے پھینکے اور فرار کی کوشش میں گرفتار ہو گیا،اس پائلٹ کو بھی پاکستان نے فراخ دِلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رہا کر دیا۔

اس حملے کے حوالے سے بھارت نے بے بنیاد دعوؤں کی ایک سیریز چلا دی اور ہر روز پہلے سے متضاد موقف سامنے آیا، آغاز ”350 دہشت گردوں“ کو ہلاک کرنے سے کیا گیا،لیکن زمین پر ایسا کوئی نشان نہیں تھا،جو اس دعوے کے ثبوت میں پیش کیا جاتا،جب پاکستان نے غیر ملکی صحافیوں کواس علاقے کا دورہ کرایا تو موقع پرکوئی ایسے آثار نہیں تھے جو بھارتی دعوے کو درست ثابت کرتے، چنانچہ بار بار موقف بدلنے کے بعد بالآخر کھسیانی بلی کو کھمبا نوچتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا تھا، پاکستان نے کئی بار بھارت کو اس حملے کی یاد دلاتے ہوئے باور کرایا کہ آئندہ ایسا کوئی حملہ کرنے سے پہلے سوچ لیا جائے۔ یہ پاکستان کا ضبط و تحمل ہی ہے، جس کی وجہ سے کنٹرول لائن کی کشیدگی پھیل نہیں رہی ورنہ بھارت تو اپنی جانب سے کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔

شہری آبادیوں پر گولہ باری کا سلسلہ بھی جاری ہے، رکھ چکری سیکٹر میں آبادی پر بمباری سے دو خواتین شہید ہو گئیں۔ یہ آبادیاں کنٹرول لائن سے زیادہ دور نہیں ہیں اور ہر وقت گولہ باری کے خدشات کے باوجود ان آبادیوں کے مکین حوصلے اور جرأت کے ساتھ رہ رہے ہیں، نہتی شہری آبادیوں پر بھارت کی یہ گولہ باری بھی اس کی فرسٹریشن ہی کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے، نہتے لوگوں کو نشانہ بنا کر بھارتی فوج اپنے سینے پر جرأت و بہادری کا کوئی تمغہ تو نہیں سجا سکتی؟ تو پھر کشمیر کی کنٹرول لائن کے محاذ کو گرم رکھنے کی ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دُنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے، کہنے کو تو مودی نے ریاست کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی،لیکن اس کے بعد آج تک کشمیریوں کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی، اب تو خیرپورا بھارت ہی لاک ڈاؤن ہے،لیکن کشمیر میں جو لاک ڈاؤن مودی کے اقدام سے پہلے کیا گیا تھا وہ بھی اب تک ختم نہیں ہو سکا، بھارتی قیادت کو یہ خوف لاحق ہے کہ کشمیر کے لوگ اگر سڑکوں پر آ گئے تو احتجاج کا یہ سلسلہ روکنا ممکن نہیں ہو گا۔

نریندر مودی کی حکومت نے متنازع شہری بل کے ذریعے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی جو کوشش کی تھی وہ بھی فائر بیک کر چکی ہے، اب دُنیا کو اندازہ ہو چکا ہے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد مسلمانوں کے خلاف ہندتوا کا ایجنڈا پورا کرنا ہے۔ دہلی کے فسادات نے بھی اس امر پر مہر تصدیق ثبت کر دی بھارت نے مسلمان ممالک میں اپنے سیکولر ازم کا جو ڈھونگ رچا رکھا تھا اس کا پردہ بھی بُری طرح چاک ہو گیا اور ہر گزرتے دن کے ساتھ واضح ہوتا چلا جا رہا ہے کہ بی جے پی کی حکومت بھارت سے مسلمانوں کا وجود ختم کرنے کے در پے ہے۔دہلی کے ریاستی انتخابات میں اُسے جس بُری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اِس سے ثابت ہو گیا کہ اس کی یہ مہم جوئی بالآخر ناکام ہو گی اور یہ سودا مودی کو مہنگا پڑے گا۔

کنٹرول لائن پر کشیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے واضح ہو گیا ہے کہ بھارت کا اصل ایجنڈا کیا ہے اور یہ سوچ سمجھ کر بنایا گیا۔بھارت کی پیدا کردہ کشیدگی کسی وقت بھی پھیل کر ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے جس سے خطے کا امن تباہ ہو جائے گا۔ دُنیا کو اس کا ادراک ہے کہ دو ایٹمی ممالک کی جنگ کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے، اِس لئے عالمی شخصیات اور ادارے بھارتی حکومت کو خبردار کرتے رہتے ہیں کہ وہ کشیدگی بڑھانے سے گریز کرے۔ کورونا کے آغاز ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پوری دُنیا سے اپیل کی تھی کہ وہ اِن حالات میں جنگ بندی کر دیں،لیکن اُن کی اِس تجویز پر بھارت نے توجہ نہیں دی اور کشیدگی کو مسلسل ہوا دے رہا ہے اس کا مقصد اگر یہ تھا کہ دُنیا کشمیر کے حالات پر توجہ نہ دے تو یہ مقصد بھی حاصل نہیں ہوا اور بھارتی عزائم آشکار ہو چکے ہیں۔ کشیدگی کی موجودہ صورتِ حال اگر جاری رہی تو یہ ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -