قرنطینہ میں بدانتظامی کی شکایت!

قرنطینہ میں بدانتظامی کی شکایت!

  

لاہور کے ایکسپو سنٹر میں فیلڈ ہسپتال میں قرنطینہ کے گئے مریضوں اور انتظامیہ کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد سمجھوتہ طے پایا اور مشتبہ مریض پھر سے واپس چلے گئے، ان مریضوں نے ایک روز قبل زبردست احتجاج کیا اور کھڑکیوں کے کچھ شیشے بھی توڑ دیئے اور قرنطینہ ترک کر کے باہر آ گئے،حفاظت پر مامور پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے لئے مسئلہ بن گیا کہ وہ ان کو روکتے بھی اور فاصلہ بھی مناسب رکھنے پر مجبور تھے۔ ان مریضوں نے متعدد شکایات کیں، الزام لگایا کہ کوئی ڈاکٹر دیکھنے نہیں آتا، صرف سویپر صفائی کرنے آتا ہے، کھانا صحیح نہیں ملتا، جن کے ٹیسٹ منفی آئے ان کو بھی جانے نہیں دیا جاتا، جبکہ ٹیسٹ کے لئے بعض نجی لیبارٹریوں کے لوگ آتے اور فیس لے جاتے ہیں، ان لوگوں نے سنٹر کے باہر نعرے بازی بھی کی۔ میو ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو اور ایم ایس کے آنے پر طویل مذاکرات ہوئے اور مریض واپس چلے گئے،ان کو شکایات دور کرنے کا یقین دلایا گیا، انگریزی معاصر کے مطابق ڈاکٹر حضرات نے بتایا کہ ان میں کچھ تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے اور اب اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں۔ دوسرے لوگ ایسے ہیں جو اپنے گھرانے کے واحد کفیل اور واپس جا کر بچوں کے لئے دال روٹی کا بندوبست کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر حضرات کے مطابق طبی طور پر قرنطینہ والوں کے ایک بار منفی ٹیسٹ ناکافی ہوتے ہیں، ایسا دو بار ہونا چاہئے اور بمشکل ان کو سمجھایا گیا ہے یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جو پیش آیا، بعض اور مقامات سے بھی بدانتظامی کی شکایات ملی ہیں، اِس لئے حکومت اور وزارتِ صحت کو توجہ دینا ہو گی کہ ابھی تو بقول حکومت پھیلاؤ کم ہے یہ بتدریج بڑھ رہا ہے،اگر مریض زیادہ ہو گئے تو کیا ہو گا، پھر بقول ڈاکٹر حضرات بعض لوگ گھرانے کے واحد کفیل ہیں یہ امر احساس پروگرام کے ذریعے مستحقین کو رقوم اور راشن کی تقسیم کے نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے کہ قرنطینہ میں متاثر لوگ ناک کے نیچے اور واضح طور پر مستحق ہیں تو ان کے گھرانوں کی مدد کر کے ان کی تسلی کرانے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ انتظامات اور حُسن ِ سلوک میں بھی بہتری کی ضرورت ہے، شکایات کا ازالہ فوری ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -