درِ توبہ اب بھی کھلا ہے!

درِ توبہ اب بھی کھلا ہے!
درِ توبہ اب بھی کھلا ہے!

  

کورونا،اس کے اثرات، عوام کی زندگی پر اثرات اور لاک ڈاؤن، یہ سب چل رہا ہے، تاہم اِس دوران عالمی سطح پر جو ہو رہا ہے اور جو ہم پاکستانیوں پر گزری اور گذر رہی ہے اس پر غور کی ضرورت اور دعوت ہے۔ سوچا تھا کہ اس موضوع پر نہیں لکھوں گا،لیکن حالات مجبور کرتے ہیں کہ اسی پہلو پر ذرا مختلف پہلوؤں سے بھی بات کی جائے۔ اِس بات پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ دُنیا میں یہ وبا اپنی شدت کے بعد اب کمی کی طرف آ رہی ہے اور نہ صرف اموات میں کمی ہونا شروع ہو گئی،بلکہ نئے متاثرین بھی اب کم ہو رہے ہیں اور اعداد و شمار سے یہ توقع کی گئی ہے کہ کورونا جون تک اتنی مہلت دے دے گا کہ بعض احتیاطی تدابیر کے ساتھ کاروبارِ حیات پھر سے رواں دواں ہو جائے، دِل سے دُعا نکلتی ہے، اللہ کرے ایسا ہی ہو، تاہم ساتھ ہی ساتھ خدشات بھی موجود ہیں۔ حضرت ٹرمپ نے جو نیا سلسلہ شروع کر دیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ میں اگر انسان کے مقابلے میں کورونا تھک کر آرام کرنے جا رہا ہے تو اس انسان کو چین نہیں اور حضرت ٹرمپ صاحب اپنے انتخابی مفادات کے تحفظ کے لئے دُنیا کو ایک نئی سرد جنگ میں جھونک دیں گے۔ یہ کیسا اتفاق ہے کہ صدر امریکہ ٹرمپ کی موجودہ ٹرم کے انتخابات کے حوالے سے روس زیر بحث، زیر غور اور زیر الزام آیا، اور اب جب دوسری ٹرم کی تیاری ہے تو الزام چین پر ہے۔بہرحال امریکی صدر کا یہ الیکشن بھی الزام در الزام سے مبرا نہیں ہو گا، لہٰذا ایک اطمینان تو دوسری فکر سوار ہو گئی ہے، اللہ خیر کرے۔

جہاں تک ہمارا، ہمارے ملک اور ہمارے پاکستانی بھائیوں کا تعلق ہے تو یہ سب غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں، بلا شبہ کورونا کی وبا کوئی پہلی نہیں، انسانیت عالمی جنگوں کے علاوہ ہیضہ، طاعون، انفلوائنزہ اور ڈینگی جیسی بیماریوں سے بھی نبرد آزما رہ چکی ہے۔ تاہم کورونا ذرا مختلف چیز ثابت ہوا، جس کے بارے میں اب تک ماہرین اتفاق رائے پر نہیں پہنچے کہ یہ دراصل ہے کیا بلا اور اس کا علاج کیا ہے، دُنیا بھر میں جو متاثرین صحت یاب ہوئے وہ کسی ایک دوا کے استعمال سے نہیں، مختلف ممالک میں مختلف ادویات استعمال کی گئیں، ہمارے ملک میں بھی ایسا ہوا۔ یہاں ملیریا اور نمونیہ کی ادو یات مختلف خوراکوں کی صورت میں استعمال کرائی گئیں اور مریض صحت یاب ہوئے۔اگرچہ یہ وضاحت نہیں کی جا رہی کہ صحت یاب ہونے والے مریضوں پر کورونا کا حملہ کس قدر تھا۔عام تصور یہی ہے کہ صحت یاب ہو جانے والے حضرات و خواتین وہ ہیں، جن کو ابتدا ہی میں شبہ ہونے پر علاج کے لئے لے آیا گیا اور اموات کا سامنے ایسے مریضوں کو ہوا جو تاخیر سے آئے، ویسے اب تک جو علامات بتائی جا رہی ہیں، وہ ہمارے ملک کے اگر 90فیصد افراد میں نہیں 80فیصد میں ضرور ہیں کہ بدترین آلودہ شہروں کے لوگ پہلے ہی سے ایسی امراض میں مبتلا ہیں۔ اگرچہ یہ ان کے فائدے میں بھی گیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کے باعث قوتِ مدافعت والے ہو گئے اور اس لئے کورونا میں یہ بدعملی بھی کام آ گئی۔

چھوڑیں، یہ تکنیکی سی باتیں ہیں اور ماہرین اس بارے میں تحقیق شروع کر چکے ہوئے ہیں۔ اگرچہ انسانی عمل کی تھیوری پھر سے زیر گردش ہے، ٹرمپ صاحب نے الزام تراشی کی مہم شروع کی ہے تو یہاں پھر سے ہالی وڈ کی فلم اور کتاب کا ذکر چل نکلا ہے(راقم یہ ذکر اپنے کالم میں شروع میں کر چکا اور یہ بھی عرض ہے کہ یہ کتاب اور فلم یہاں موجود ہے) نئی ویڈیو محترم رضاعابدی کے انٹرویو پر مشتمل ہے، جس میں کتاب کے صفحات اور فلم کے سین دکھا کر ثابت کیا گیا کہ یہ دس سے بارہ سال پہلے کی ہے اور سو فیصد حالات حاضرہ کے مطابق ہے۔ یوں یہ الزام امریکہ پر آتا ہے، مَیں تو پہلے عرض کر چکا اور اب پھر دہراتا ہوں کہ ”وائرس“ سے انکار نہیں،لیکن یہ مختلف ہیں اور آج تک عموماً جتنے بھی وائرس سامنے آئے وہ موسمی اور فضائی آلودگی والے ہی تھے،

لیکن ایڈز اور ڈینگی بخار والے وائرس مبینہ طور پر انسانی پیداوار ہیں تو کیمیائی اور بیالوجیکل جنگ کے شاہکار ہیں اور اس نسبت اور ارادے سے بنا کر تجربہ کے طور پر پھیلائے گئے کہ ضرورت کے وقت مخالفین کی قوتِ مدافعت کو کمزور تر کر کے فائدہ اٹھایا جائے اور جب تک یہ نوبت نہ آئے اُس وقت تک ادویات تیار کر کے ان کی فروخت سے فائدہ اٹھایا جائے۔اب بھی جو تحقیق ہو رہی ہے اس میں ان بین الاقوامی ادویات ساز اداروں کا فائدہ ہے۔ اگرچہ بعض ممالک کی یونیورسٹیوں کے سائنس دان بھی مصروف عمل ہیں۔ ان کی ایجادات سے بھی فائدہ تو بہرحال بین الاقوامی ادویات ساز اداروں ہی کو ہو گا، ہمارا ملک تو یوں بھی اس پر نازاں ہے کہ یہاں ماسک95 کی تیاری شروع جو دس روز تک دستیاب ہوں گے۔ دعویٰ تو وینٹی لیٹر کی تیاری کا بھی کیا گیا ہے اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ سینی ٹائزر تو برآمد بھی کئے جا رہے ہیں، بس یہ کافی ہے اور اس سے ہم ایک عظیم قوم اور ملک کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، ”اللہ اللہ خیر سلا“۔

بات آج کچھ اور کرنا اور خود اپنے ضمیر کو جھنجھوڑنا تھا،لیکن جب قلم اٹھا تو بات بڑھتی چلی گئی۔ مَیں نے تو آج یہ گذارش کرنا تھی کہ ہم پاکستانی جو بھاری ترین اکثریت میں مسلمان اور اللہ کے دین اور رسول اکرمؐ کی اطاعت کے دعویدار ہیں، اس آفت نے ہم سب کو یہ موقع دیا کہ ہم اپنے کردار اور اعمال پر غور کر کے خود کو راہِ راست پر لا سکیں۔حفاظتی تنہائی میں یہ موقع موجود تھا اور ہے کہ ہم خود اپنے کردار اور عمل پر غور کریں، اپنی کوتاہیوں اور بے عملی پر نظر ڈالیں اور پھر توبہ کریں اور اللہ سے رحم اور معافی طلب کر کے خود کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ِ اطہر پر چلنے کا عہد کر لیں،لیکن دُکھ سے کہتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوا،ہم نے بھی ماضی کی اقوام کی طرح اس وبا کو انہی انتباہ سے تعبیر نہیں کیا، بدقسمتی سے ہم نے تو نماز روزے کو پھر سے اختلافی موضوع بنا کر بحث کا آغاز کر دیا۔ غبث ِ باطن کے ایسے ایسے مظاہرے پڑھنے اور دیکھنے کو ملے کہ خود پر ترس آنے لگا کہ یا اللہ مَیں کس معاشرے کا فرد ہوں،

یقین جانئے مجھے تو اس تنہائی نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا اور مَیں نے اس بار بعض ایسی کتابیں بھی پڑھ لیں جن کا نام لکھوں تو میرے ”دوست“ چیلوں کی طرح جھپٹیں گے۔بہرحال حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کی تصنیف کشف المحجوب نے جو سبق دیا وہ ناقابل ِ فراموش ہے، بلاشبہ یہ کتاب تصوف کے حوالے سے بھی اپنی مثال آپ ہے،لیکن اس کی روح عمل سے ہے اور یہ بزرگ واضح طور پر انسان کو اس کے اپنے عمل کی تلقین کرتے اور فرماتے ہیں کہ جنت از بر سر زمین کوئی مشکل کام اور عمل نہیں۔ اگر انسان اپنے اعمال کو اللہ کے دین اور رسولؐ کی تعلیمات کے مطابق کر لیں تو یہی زمین جنت ورنہ جہنم،شرط عمل کی ہے اور وہ مزید تلقین انسانیت کے حوالے سے بھی کرتے ہیں،اس میں وہ سب مذاہب شامل ہو جاتے ہیں جو کسی بھی حوالے سے وحی کے قائل ہیں،خواہ وہ عیسائی ہوں یا یہودی۔

دُکھ یہ ہے کہ ہم نے ماضی کی طرح اس وبا سے بھی سبق حاصل کرنے کو نظر انداز کر دیا،سماجی دور کو بھی ہوا میں اڑا دیا، عبادت پر بحث چھیڑ دی، مساجد والے ہدایات اور عمل کو نظر انداز کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور بے عمل حضرات دین کا مذاق اڑانے کے لئے فضا کو ساز گار پا رہے ہیں۔ حکمران، سرکاری مشینری، سیاست دان، سیاسی کارکن، تاجر، صنعت کار، دکاندار، عالم، فاضل اور عام انسان بھی توبہ پر آمادہ نہیں ہوئے، رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی ہر وہ کام سامنے آ گیا جو ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے، ہم کسی ضابطے، قانون اور اخلاق کے پابند نہیں ہیں اور جو غلط کام ممکن ہم کر رہے ہیں۔ دُکھ یہ ہے کہ ہم نے یہ موقع بھی گنوا دیا جو وبائی انتباہ کی صورت میں ملا تھا۔ اب بھی موقع اور وقت ہے کہ ہم توبہ کریں اور سدھر جائیں۔

مزید :

رائے -کالم -