ہیپی پرنس

ہیپی پرنس
ہیپی پرنس

  

وبا کے دن متفقہ طور پر کتا بوں سے بر سوں پرا نے تعلق کی تجدید کے دن قرار پا ئے ہیں۔ کتا بوں کی پرا نی الما ریاں اور گرد کی جمی ہو ئی تہیں صاف کر نے کے بعد بہت سی کتا بوں کے سر ورق نئے نئے سے لگ رہے ہیں، یاد میں اک دھند لا سا نقشہ ابھر تا ہے اور پھر ذہن بکھری یادوں اور تجر بات سے ہم آ ہنگ ہو کر جو ڑ نے لگ پڑ تا ہے اور یوں ان کتا بوں سے جڑی دوستی اور قربت کے دنو ں کا نقشہ بھی پو ری آ ب و تاب کے ساتھ نظروں کے سا منے گھوم جا تا ہے۔۔شا ید اسی کیفیت کو ”یا دوں کی بارات“کہا جا تا ہے۔آ سکر وائلڈ کی کہا نیوں کا ایک چھو ٹا سا کتا بچہ ہاتھ لگا کہا نی کے عنوان ”ہیپی پرنس“ پر نظر پڑتے ہی کچھ دیر کے لیے میں اسی شہزادہ مسرت کے شہر کا با سی بن گیا۔ اس خو بصورت مگر با رعب شہزا دے کی آ نکھو ں سے ٹپ ٹپ گر تے آ نسو نیچے بیٹھی چڑ یا کے بجا ئے میرے دل پر پڑتے محسوس ہوئے۔ درحقیقت اس شہزا دے کی سلطنت اور میرے ملک میں بہت کچھ مشترک تھا۔اس نر م دل شہزا دے کی بپتا سننے کی بجا ئے میں نے اپنا دل اس کے سا منے کھو لنے کی اجازت یوں چا ہی کہ اے پُر مسرت شہزا دے میرے ملک میں بھی کچھ خاندان روز اول سے مالک و مختار ہیں، ان کے چشم و چراغ بھی ہیپی پرنس کی مانند ہیں۔مگر اس شہزا دے کے دل کی طر ح ان کا دل نرم نہیں ہے۔یہ عوام کی بے چا رگی، بے بسی اور جہا لت پر راج کر تے ہیں، غریبوں اور مفلسوں کی کھال مزید کھینچتے ہیں۔ ایک ایسے بد نصیب دیس میں مفا دات کا ٹکرا ؤ ان کی سیا ست اور طرزِزندگی کا پہلا اصول ہے جہاں دیس کا ہر بلا ول مقروض ہے اور بے نظیر بیٹیوں کے پا ؤں ننگے ہیں۔

ان شہزا دوں کی شو گر ملوں کے باہر کسان اپنے خوا بوں کا سودا کر تے ہیں۔ایک زرعی ملک میں غریب عوام مہنگی چینی کا کڑوا گھو نٹ بھر نے پر مجبور اس لیے ہو تے ہیں کہ اقتدار کے ایوا نوں میں مرا عات یا فتہ طبقے کی لو ٹ مار کے لیے سب قا نون اور رعا یتیں پیدا کر لی جا تی ہیں۔ یوں میرے ملک میں طا قت کے پجا ری یہ شہزا دے ہیپی پرنس کے مجسمے کی طرح ندا مت اور بے بسی کے آ نسو نہیں بہا تے بلکہ کسی نئی واردات پر نکل کھڑے ہو تے ہیں۔میرے ملک کی فوڈ باسکٹ بھر نے والا کسان اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج بن جا تا ہے، مجھے اس نرم دل شہزا دے کو بھا ری دل سے بتا نا پڑا کہ پو رے ملک میں گندم وا فر ہو تی ہے مگر غریب کی قوت خرید نہ ہو نے کے برا بر ہے۔

سا دگی کے ما رے ہو ئے عوام بھو ک کے ہا تھوں تنگ اور قحط الرجالی کا شکا ر ہیں۔ دہا ئیوں سے سلطا نی جمہو ر کو ترس رہے ہیں مگر انہیں آ ج بھی کسی ان دیکھی غلا می کا سامنا ہے۔

ایک سے ٹھو کر کھا کر دوسرے کی طرف متوجہ ہو تے ہیں وہاں سے ما یوسی کے بعد کو ئی نیا مسیحا تلاش کر لیتے ہیں۔اس سفر میں انہیں ایک اور شہزا دہ مل گیا جس نے سا ری جو انی یو نان کے اس شہزا دے کی طر ح گزار دی جسے آ سکر وائلڈ نے ڈھونڈ نکا لا تھا۔جوانی آ کسفورڈ یو نیور سٹی کے مہذب ما حول میں گذ ری، کر کٹ کے میدا نوں میں خوب نام اور پیسہ کما یا۔ملک کے غریب اور ما یوس عوام نے اسے بھی ایک ہیپی پرنس کی طرح ہا تھوں ہا تھ لیا اور شہرِ اقتدار تک چھو ڑآ ئے۔ مگر اس کے اقتدار میں بھی عام آ دمی کی کما ئی ما ضی کی طر ح ویسے ہی لٹتی رہی۔

مفا دات کے ٹکرا ؤ کے خلاف ما لا جپنے وا لا یہ انسان بھی مرا عات یا فتہ طبقے کے آ گے ڈھیر ہو گیا۔ہما را شہزادہ وزیر اعظم پہلے تقریریں بہت کر تا تھا مگر ہم سو چتے تھے کہ اپو زیشن میں اختیار نہیں ہو تا مگر اب جو اقتدار ملا ہے تو علاج غم کر نے کی بجا ئے سرِ منبر صرف تقریر کر تے ہیں۔اور ان کے نیچے عوام کو چو نا لگا نے وا لے اپنی واردات ڈا لتے رہتے ہیں۔میں نے اسے بتا یا کہ ہما را ملک بننے کے بعد علی بابا اور چا لیس چوروں کا ایک ٹو لہ ہے جو ہر وقت بر سرِ اقتدار رہتا ہے۔ تبدیلی فقط علی بابا کے بد لنے کا نام رہ گیا ہے اورسیا سی شہزا دے ہر بار رنگ و روپ بدل کر کسی نئے بہروپ میں کو ئی پرانا خواب پھر سے بیچ ڈا لتے ہیں۔

مرا عات یا فتہ طبقے،با دشاہ اور انصاف کے ترازو کا گٹھ جو ڑ آ ج بھی مضبو طی سے قا ئم ہے۔ میں نے شہزا دے کو یہ بھی بتا یا ایک با اثر شخص کی منی لانڈرنگ پکڑی گئی وہ پیسہ جب ملک میں واپس آ یا تو اسی شخص کولوٹا دیا گیا گو یا ہما رے با دشاہ نے اسے منی لانڈرنگ کا انعام دے ڈالا۔میں اپنے جذ بات پر قا بو نہ رکھ سکا کہہ ڈا لا کہ میرے دیس میں ایک شخص احتساب کی سب سے بڑی کر سی پر فا ئز ہے جو”فیس نہیں کیس“ کی ما لا جپتا ہے مگر جب مو قع ملتا تو پہلے چہرہ دیکھتا ہے پھر”سر تا پا“ احتساب کر تا ہے۔

مجھے محسوس ہوا کہ ہیپی پرنس کے ٹپ ٹپ گرتے آ نسوؤں کی رفتار بڑ ھ چکی ہے گو یا اسے اپنے شہر کی کہا نی بھول چکی ہے اور ہما رے دیس کی کہا نی اسے جذ بات کی رو میں بہا لے گئی ہے۔اسے اندازہ ہو گیا کہ ہما رے سیا سی خانوادوں، مقتدر حلقوں اور بے رحم شہزا دوں نے ہمیشہ عوام کی حا لت اور بیچا ر گی کوبیچا۔اس لمحے جب میں ہیپی پرنس کے قدِ آ دم مجسمے کے نیچے بیٹھا اپنی رام کہا نی سنا رہا تھا اس کے ٹپ ٹپ گر تے آ نسوؤں سے مجھے یقین ہو چلا کہ مخلو ق خدا کا استحصال اوربنیا دی حقو ق پر ڈا کہ ڈا لنے وا لے رسہ گیروں اور جھو ٹے شہزا دوں کا احتساب اگر یہاں نہ ہو سکا تو یہ نرم دل شہزا دہ ضرور خدا سے اس کے بندوں کی شکا یت پہنچا دے گا۔ خو شیوں کے شہزا دے کا دل اچا نک مجھے لو ہے کے ایک بلیک با کس میں تبدیل ہو تا دکھا ئی دیا اور گمان ہوا کہ اب اس میں میرے دیس کی حکا یتِ خو نچکاں محفوط کر لی گئی ہے۔

پھر ایک دن اس پُر مسرت شہزا دے کا دل ایک بلیک با کس کی طر ح با ہر کہیں پھینک دیا گیا۔ خدا نے اپنے فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین سے دو قیمتی چیزوں کا انتخاب کر کے لا ئیں تو انہوں نے اس شہزا دے کا دل اور اس کی مددگار چڑ یا کاانتخاب کیا۔ خدا نے فرشتوں کے انتخاب کی داد دی اور چڑ یا کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بہشت کے با غوں میں نغمے گا نے کے لیے چھو ڑ دیا اور شہزا دے کا دل جو ایک بلیک با کس کی ما نند تھا اسے روزِ جزا کے لیے رکھ چھو ڑا۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے! جب طا قتور طبقات کی مکروہ کہا نیاں مخلو قِ خدا کے سا منے عیاں کردی جا ئیں گی۔اس بلیک با کس میں وہ سب کچھ مو جود اور محفوظ رہے گا جسے اس خو بصورت مجسمے نے اپنی آ نکھوں سے دیکھا اور کا نوں سے سنا۔اس میں ان تما م شہزادوں،استحصال کر نے وا لوں اور مفادات کے ٹکرا ؤ پر یقین رکھنے وا لوں کے کا ر نامے ضرورمحفوظ رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -