مسیح علیہ السلام کی آمد ِ ثانی اور تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر

مسیح علیہ السلام کی آمد ِ ثانی اور تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر
مسیح علیہ السلام کی آمد ِ ثانی اور تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر

  

دو سو سے زائد ممالک اِس وقت کورونا کے ہاتھوں نڈھال پڑے ہوئے ہیں،دُنیا کی20بڑی اقوام بشمول امریکہ، فرانس، برطانیہ، جرمنی وغیرہ، سارا یورپ وائرس کے باعث حقیقی معنوں میں پریشان ہے۔ عالمی معیشت کے دو انتہائی عامل، آئل اور شرح سود پٹ چکے ہیں۔عالمی منڈی میں تیل مفت بِک رہا ہے، لیکن اس کا خریدار کوئی نہیں ہے۔ شرح سود صفر قرار پا چکی ہے،لیکن بینکوں سے سرمایہ حاصل کرنے والا کہیں نظر نہیں آتا ہے، وینٹی لیٹر کی مانگ ایٹمی ہتھیاروں کی طلب کی طرح ہو چکی ہے، معمولی نوعیت کی ادویات کی دستیابی ناممکن نظر آ رہی ہے، تین وقت کی روٹی روزی تو دور کی بات ہے ایک وقت کی روٹی روزی کی فراہمی/ دستیابی مشکل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ لامحدود ترقی کرنے والا انسان ایک اَن دیکھے، غیر مرئی وائرس کے سامنے مکمل طور پر بے بس نظر آ رہا ہے، انسان کی عظیم الشان ترقی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ ہلاکت خیز اور تباہ کن ہتھیاوں کے ذخائر صفر ہو چکے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ ”کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے،

لیکن کیسے؟ صرف چھپ چھپا کر، گھروں میں مقید رہ کر، کاروبارِ حیات ختم کر کے، لاک ڈاؤن، جزوی یا مکمل، اس پر بحث جاری ہے اب تو سمارٹ لاک ڈاؤن کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ اب تو ہلاکت ہی ہلاکت نظر آ رہی ہے کہا جا رہا ہے کہ ہمیں طے کرنا ہے کہ بھوک و افلاس سے مرنا ہے یا وائرس کے ہاتھوں ہلاک ہونا ہے۔ ہلاکت یقینی ہو چکی ہے، سینکڑوں نہیں، ہزاروں اور لاکھوں انسان اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں، بچاؤ کی صورت واضح نہیں ہے،لیکن ایک ملک دُنیا کے نقشے پر اپنی نوعیت کی اکلوتی قوم یہودی، اپنی موعودہ ریاست اسرائیل میں بیٹھ کر اسے اپنی الہامی کتب کے مطابق عظیم بنانے کی کاوشوں میں مصروف ہے۔ بنی اسرائیل گزرے 2500 سال سے اپنے ”نجات دہندہ“ یعنی ”مسیح موعود“ کی آمد کے منتظر ہیں اسی مسیحا کی آمد کی تیاریاں جاری ہیں۔ 1948ء میں ریاست اسرائیل کا قیام ایسی ہی کاوشوں کی کڑی ہے۔ تھیوڈوا ہڑزل کی صہیونی تحریک کے زیر اثر ریاست اسرائیل کا قیام یہودیوں کی2500سالہ کاوشوں اور سازشوں کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے۔یہودیوں نے ایک دن بھی اپنی اس منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے سے نظریں نہیں پھیری ہیں۔ گریٹر اسرائیل کے قیام کی کاوشیں جس طرح 2500 سال سے جاری تھیں آج بھی اسی جذبے اور جرأت کے ساتھ جاری وساری ہیں۔

جاری عرب۔ اسرائیل تنازعہ اسرائیل کے قیام کے وقت سے شروع ہوا ہے جب یہودیوں نے ان علاقوں پر بھی اپنی بستیاں بنانی شروع کیں، جہاں عرب فلسطینی مسلمان رہتے تھے۔ ویسے تو فلسطینی مسلمان اور اسرائیلی یہودی2500سال سے بھی اس سرزمین کے دعویدار ہیں لیکن جاری تنازعہ بیسویں صدی میں اس وقت ابھرنا شروع ہوا جب یورپ میں یہودیوں نے قتل ِ عام سے بچنے کے لئے بھاگنا دوڑنا اور چھپنا شروع کیا اور انہوں نے خلافت ِ عثمانیہ کے زیر انتظام عرب مسلح اکثریتی علاقوں میں ریاست اسرائیل قائم کرنے کی کاوشیں شروع کیں۔ جنگ ِ عظیم اول کے دوران یہ علاقے عثمانیوں سے چھن کر برطانوی حکومت کے قبضے میں چلے گئے اور پھر اقوام متحدہ نے بھی اس زمین کو عرب مسلمانوں کی ریاست فلسطینی اور یہودی اسرائیل کے درمیان تقسیم کرنے کی پلاننگ کی۔1948ء اور1967ء میں دو بڑی جنگیں اسی تقسیم کا نتیجہ تھیں۔1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی پر بھی قبضہ کر لیا، جہاں واضح طور پر فلسطینیوں کی اکثریت تھی۔آج کل مغربی کنارہ فلسطینیوں کے انتظامی کنٹرول میں ہے،لیکن عملاً اس پر اسرائیل کا قبضہ ہے یہاں اسرائیلی فوجی تعینات ہیں اور وہ فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر نہ صرف نظر رکھتے ہیں، بلکہ کنٹرول بھی کرتے ہیں۔اسی علاقے میں یہودی آباد کاروں کی بستیاں بھی ہیں اور یہ بستیاں فلسطینیوں کی زمین پر قائم کی گئی ہیں۔ ایسی بستیوں کے قیام کا سلسلہ ایک عرصے سے شروع ہو کر ہنوز جاری ہے اب اس طرح فلسطینیوں کی اکثریت اس علاقے میں بتدریج کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یہودی یہ کام بڑے منظم انداز میں اپنے طے شدہ پلان کے مطابق سرانجام دے رہے ہیں۔

دوسری طر ف غزہ کی پٹی حماس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے یہاں حماس کی حکومت ہے،لیکن اسرائیل نے اس کا محاصرہ کر رکھا ہے یہاں بالفعل یہودی فوجی تعینات نہیں ہیں،لیکن اسے چاروں طرف سے محاصرے کا سامنا ہے۔ اسرائیل یہاں بھی بڑے منظم انداز میں برسر عمل ہے اپنے طے شدہ پلان کے مطابق زمینی معاملات، یعنی اسرائیل کی سرحدات کو عظیم اسرائیل کے الہامی اور تاریخی نقشے کے مطابق مسلسل بڑھاتا چلا جا رہا ہے۔ آج تک عرب فلسطین اور اسرائیل تنازع کے حوالے سے ایک بات تو طے ہو چکی ہے کہ عربوں میں عسکری طاقت ہر گز نہیں ہے کہ وہ بالعزم یہودیوں سے فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ منوا سکیں گزری چھ سات دہائیوں کے دوران عربوں فلسطینیوں میں جتنی بھی عسکری تحاریک اٹھی ہیں وہ یہودیوں کے ساتھ پنجہ آزمائی میں ناکام ہوئی ہیں۔تنظیم آزادی فلسطین سے لے کر حماس اور انتفادہ تک تمام عسکری و مسلح جدوجہد یہودیوں کو ان کے عزائم سے روکنے میں بھی ناکام ہوئیں،بلکہ فلسطینیوں کے لئے ایک آزاد ریاست کے قیام میں بھی ناکام رہی ہیں۔

نظریاتی و سیاسی میدان میں بھی فلسطینی اور عرب ریاستیں متحدہ محاذ قائم نہیں کر سکی ہیں۔ عرب نیشنلزم کی صورت میں عربوں کے حقیقی اسلامی تشخص کو مجروح کیا جاتا رہا ہے۔عرب ریاستی قائدین عرب نیشنلزم اور بعث ازم کے ذریعے اپنی اپنی کرسیاں بچانے میں مصروف رہے ہیں انہوں نے امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور دیگر استعماری قوموں کے ساتھ مل کر اپنے ہی عوام کو کمزور کرنے اور اپنے اقتدار کو پختہ کرنے کی پالیسی اختیار کئے رکھی،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ و دیگر یورپی عیسائی اقوام، عربوں کی دولت کو لوٹنے میں مصروف رہے ہیں۔ جمہوریت کی پرچارک مغربی اقوام مشرقِ وسطیٰ میں بدترین عرب آمریتوں کو سپورٹ کرتی رہی ہیں لیکن عرب حکمران ان کے مفادات کے لئے کام کرتے رہے ہیں،اِس لئے انہیں اقتدار میں رکھنا ان کے لئے بہتر ہے، باقی رہا جمہوریت اور انسانی حقوق تو وہ ایک نعرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔

طویل سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں دو ریاستی فارمولے کے ذریعے اسرائیل اور فلسطین کے لئے بقائے باہمی کی صورت پیدا کی گئی تھی، جس کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جانی تھی، نظری اعتبار سے یہ منصوبہ درست اور فٹ تھا،لیکن اس کے عملی نفاذ میں اسرائیلی عزائم مزاحم ہیں۔ اس فارمولے کے تحت مشرق یروشلم اس فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار پانا ہے، جو کہ اسرائیل کو کسی طور بھی قبول نہیں ہے، اسرائیل یروشلم، شہر مقدس، القدس کو، سارے کے سارے یروشلم کو الہامی و تاریخی ریاست اسرائیل کا جزو لاینفک اور دارالحکومت سمجھتا ہے۔ یہودیوں کے لئے یروشلم کی وہی حیثیت ہے جو ہمارے لئے حرمین شریفین کی ہے۔ اسرائیلی ریاست صہیونی تحریک کی دین ہے۔ صہیونی اسرائیلی، نہ صرف اسرائیل میں بلکہ امریکی اعصابی مراکز اور فیصلہ ساز اداروں میں کلیدی عہدوں پر تعینات ہیں، کوئی بھی امریکی صدر چاہے وہ ڈیمو کریٹک پارٹی سے ہو یا ری پبلکن سے،صہیونی لابی کی مدد اور مرضی کے بغیر وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہو سکتا۔

موجودہ امریکی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ عقیدے کے اعتبار سے ایوینجلسٹ/ صہیونی عیسائی ہے جو عیسیٰ ابن ِ مریم علیہ السلام کی آمد ثانی کے منتظر ہیں، ان کے عقائد کے مطابق عیسیٰ علیہ السلام کی آمد کے آثار پیدا ہو چکے ہیں، کلام مقدس میں بیان کردہ نشانیوں کے مطابق دُنیا میں ان کی آمد اور استقبال کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ ان کی آمد سے پہلے ہیکل سلیمانی کی تیسری دفعہ تعمیر ہونی ہے۔ ریاست اسرائیل کا قیام کلام مقدس میں درج نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔گریٹر اسرائیل کی تعمیر، مسیح کی آمد ثانی سے قبل ہونا ہے اس کے لئے امریکی اور دیگر صہیونی عیسائی بھی اسرائیلی کاوشوں میں مددگار ہیں جبکہ مسلمانوں کا بالعموم اور عربوں کا بالخصوص بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔

کورونا کے ذریعے پوری دُنیا کو اپنی اپنی پڑ گئی ہے لیکن یہودی یکسوئی سے طے شدہ معاملات آگے بڑھا رہے ہیں۔ تین دفعہ الیکشن ہونے کے باوجود امیدوار کی واقع فتح کا سامنے نہ آنا حیران کن ہے،لیکن نیتن یاہو کی وزارتِ عظمیٰ پر اتفاق اس بات کی علامت ہے کہ یہودی اپنے مشن، یعنی تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر کے لئے یکسو ہیں۔عالمی حکومت کے قیام کے ذریعے، یہودیوں کا عالمی غلبے کا خواب حقیقت کے قریب ہوتا چلا جا رہا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -