کیا حکمران کا ایماندار ہونا ہی ضروری ہے؟

کیا حکمران کا ایماندار ہونا ہی ضروری ہے؟
کیا حکمران کا ایماندار ہونا ہی ضروری ہے؟

  

کرونا وائرس کے پیش نظر چند روز قبل عطیات اکٹھا کرنے کیلئے ایک ٹیلی تھو ن ٹرانسمیشن کا اہتمام کیا گیا۔ اس خصوصی ٹرانسمیشن میں وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کئی اینکرز بھی شر یک ہو ئے۔ٹرانسمیشن میں ایک عالم دین کی جانب سے کی گئی بہت سی با توں پرملکی میڈیا میں بھر پور بحث و مباحثہ کیا گیا۔ان عالم دین کی جا نب سے عمران خان کو ایک مرتبہ پھر ایک ایماندار لیڈر قرار دیا گیا۔ظاہر ہے ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ عمران خان کو ذاتی اعتبار سے ایک ایماندار لیڈر قرار دیا گیا ہو۔حقیقت بھی یہی ہے کہ پا کستان جیسے ایک کرپٹ سماج کے تنا ظر میں دیکھا جا ئے تو یقینی طور پر عمران خان پر ما لی اعتبار سے کرپشن کے کو ئی ٹھوس الزامات بھی نہیں ہیں۔عمران خان خود بھی اپنی24سالہ سیاست کے دوران اس با ت کا بھر پور دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ وہ ایک ایما ندار لیڈر ہیں۔تاہم ہمارے آج کے کالم کا موضوع یہ نہیں ہے کہ کو ن سا لیڈر ایماندار ہے اور کونسا کرپٹ بلکہ آج ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا کسی سماج میں لیڈر یا حکمران کا ہی ایماندار ہو نا کا فی ہو تا ہے؟ خود وزیر اعظم عمران خان کا یہ موقف رہاہے کہ اگر حکمران ایماندار ہو تو سما ج سے بھی کرپشن کم ہونے لگتی ہے، لوگ لوٹ کھسوٹ، غبن، اور رشوت ستانی کرنے سے باز آجاتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں اگر اوپر بہتری آجائے تو نیچے بھی سب کچھ ٹھیک ہونے لگتا ہے۔اب یہاں پر بنیادی سوال یہی پیدا ہو تا ہے کہ کیا یہ دعویٰ درست ہے کہ کسی سماج میں بہتری کیلئے صرف حکمران کا یماندار ہونا ہی کا فی ہو تا ہے؟ اس بات کا تعلق سیاست اور سما جی رویے کے ساتھ ہے۔ دراصل سیاسیات اور عمرانیات کے ما ہرین اور مفکرین کے ہاں یہ بحث بڑی پرانی ہے کہ کیا سیاست، سما جی رویے کے تا بع ہو تی ہے یا پھر سماجی رویے سیاست کے تابع ہو تے ہیں؟۔ اس سوال کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی کیا جا سکتا ہے کیا سیاسی نظام، سماجی رویے کو تبدیل کرنے کی سکت رکھتاہے یا پھر سیاسی نظام اس وقت تک تبدیل نہیں ہو سکتا کہ جب تک سماجی رویے تبدیل نہ ہو جائیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سماج مجموعی طور پر ایک ایماندار سماج نہیں ہے۔ پا کستان کے ہر شعبے میں کرپشن مو جو د ہے۔جبکہ ہمارے حکمران طبقات کے بارے میں بھی یہ بات نہیں کہی جا سکتی کہ وہ مکمل طور پر ایما ندار ہیں۔مگر کیا پا کستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کوئی ایماندار شخص حکمران نہیں بنا؟۔ یقینا پا کستان کی تاریخ میں ایسے افراد بھی حکمران رہے کہ جن کی اپنی ذات پر کرپشن کا کو ئی الزام نہیں لگا۔ حالیہ تا ریخ کی با ت کی جائے تو بے نظیر بھٹو، نواز شریف،، شوکت عزیز، راجہ پرویز اشرف اور یو سف رضا گیلانی ایسے وزرائے اعظم رہے ہیں کہ جن پر ما لی کر پشن کے الزامات تھے مگر اسی طرح تاریخ میں دیکھیں تو پا کستان میں محمد خان جو نیجو بھی وزیر اعظم رہے ہیں کہ جن کی اپنی ذات پر کرپشن کا کائی الزام نہیں لگا۔

پا کستان کی ابتد ائی تاریخ کی بات کی جائے تو لیاقت علی خان، خواجہ نا ظم الدین ، چوہدری محمد علی، آئی آئی چند ریگر اور حسین شہید سہر وردی ایسے وزرائے اعظم رہے کہ جن کو مالی طور پر کرپٹ نہیں کہا جا سکتا۔گورنر جنرل غلام محمد اور سکندر مرزا ہما ری تا ریخ کے ایسے کردار ہیں کہ جن کوکو ئی مثبت کردار نہیں کہہ سکتا مگر اس کے با وجود غلام محمد اور سکندر مرزا پر مفاد پرستی یا نا اہلی کے الزامات تو لگ سکتے ہیں مگر ان شخصیات پر بھی مالی کرپشن کا لزام نہیں لگا اسی طرح ذولفقار علی بھٹو کی طرز سیاست اور رویے پر تو بہت تنقید کی جا سکتی ہے مگر بھٹو کے بدترین مخالف بھی ان پر مالی طور پر کرپٹ ہو نے کاالزام نہیں لگا سکے۔یوں پاکستان کی سیاسی تا ریخ سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ پا کستان میں کئی ایسے حکمران رہے ہیں کہ جو ما لی طور پر کر پٹ نہیں تھے اس کے باوجود پاکستانی سماج میں کرپشن نہ صرف مو جود رہی بلکہ ایک سماج کے طور پر ہم پہلے سے زیادہ کرپٹ ہو تے رہے۔ہم اپنے اس موقف کو مزید واضح کرنے کیلئے بھارت کی مثال بھی سامنے رکھ لیتے ہیں۔ بھارت کی تاریخ میں بھی کئی ایسے وزرااعظم آئے کہ جن پر مفاد پر ستی یا سیاسی موقع پر ستی کے الزامات تو لگتے رہے مگر مالی کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا۔

جیسے جواہر لعل نہرو، لعل بہادر شاستری، وی پی سنگھ، اندر کمار گجرال، اٹل بہاری واجپائی اور حالیہ تاریخ میں من مو ہن سنگھ ایسے بھارتی وزرا ئے اعظم رہے کہ جن کی اپنی ذات پر تو کرپشن کے الزامات نہیں تھے مگر ان میں سے کئی وزرا ئے اعظم(واجپائی اور من مو ہن سنگھ) ایسے بھی رہے کہ جن کے ادوار میں کرپشن کے میگا اسکینڈلز سامنے آئے۔ان مثالوں سے واضح ہو رہاہے کہ یہ تاثر ہرگز درست نہیں ہے کہ اگر حکمران ایما ندار ہو تو سماج سے بھی کرپشن کم ہوجا تی ہے۔دراصل ہمارے جیسے سماجوں میں سیاست اور سیاسی حرکیات کو ہمیشہ شخصیات کے تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جا تی ہے اور یہ نظر انداز کر دیا جا تا ہے کہ سیاسی مقاصد کیلئے کس نظام پر انحصار کیا جا رہاہے۔اگر کسی سیاسی نظام کی بنیا د ہی ”زر“ اور سرمایہ داری کے اصولوں پر استوار ہو گی تو پھر ایسے نظام میں اس سماج کا ایما ندار ترین شخص بھی حکمران بن جائے وہ معاشرے کو سدھار نہیں سکتا۔

جیسا کہ اس آرٹیکل کے آٖغاز میں کہا گیا کہ پاکستان کے معروضی حالات میں عمران خان مالی طور پر ایک کرپٹ سیاستدان نہیں ہیں۔ وہ اقتدار میں آنے سے پہلے یہ دعویٰ کرتے تھے کہ چونکہ وہ خود ایماندار ہیں اسلئے اقتدار میں آئیں گے تو پاکستان سے بھی کرپشن کو ختم کر دیں گے مگر عمرا ن خان کھل اس با ت کا اعتراف نہ کرپائے پا کستان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے وہ جس اقتدار کے آرزو مند ہیں اس تک پہنچنے کا راستہ مصالحتوں اور سمجھوتوں سے بھر ا ہو ا ہے۔وہ اپنے حامیوں کو یہ بھی بتانے میں ناکام رہے کہ پا کستان کے تمام مسائل کی ذمہ دار صر ف دو جما عتیں ہی نہیں بلکہ اس ملک کا سیاسی اور طبقاتی نظام ہے۔اس نظام کے تحت کسی بھی سیاسی جما عت کو اکثر یت حاصل کرنے کیلئے ذات پات، برادریوں، فرقوں، سرمایہ داروں، پیروں، سرداروں اور جا گیر داروں کو اپنے ساتھ ملا نا پڑتا ہے اگر ان طبقات کو اپنے ساتھ نہیں ملا یا جا ئے گا تو قومی اسمبلی کی کل272 منتخب نشستوں میں اکثر یت حاصل کرنا تو بہت دور کی با ت کو ئی سیاسی جماعت زور لگا کر 10نشستیں بھی حاصل نہیں کر پائے گی۔

۔ پی ٹی آئی کو1997،2002 اور2013کے انتخابات میں کامیا بی نہیں مل پا ئی مگر2018کے انتخابات میں ان طبقات کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ہی پی ٹی آئی اس پوزیشن میں آئی کہ حکومت بنا سکے۔اب اگر کوئی بھی راہنما ایسے طبقات کہ جن کے سیاست میں آنے کا مقصد ہی کرپشن، اقربا پروری، تھانے کچہری کی سیاست اور اپنے معاشی مفا دات کا تحفظ ہو تا ہے کو اپنے ساتھ ملا کر کیسے حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے؟۔ اب اس نظام کے ہوتے ہوئے اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ25 جولائی 2018کے انتخا بات کے نتیجے میں ”نئے پا کستان“ نے جنم لیا تو اس کو تو سادہ لوحی بھی نہیں بلکہ بے وقوفی سے ہی تعبیر کیا جا ئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی کبھی ”چینی کا سکینڈل“ سامنے آرہاہے تو کبھی ”آٹے کا بحران“ جنم لے لیتا ہے۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کا سب سے بڑا المیہ ہی یہ ہے کہ وہ ایک کرپٹ نظام پر کھڑے ہوکر کرپشن کے خلاف جنگ کرنا چاہ رہے ہیں جبکہ تبدیلی لانے کیلئے سماجی رویوں کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔نظام کو چیلنج کرنا پڑتا ہے نہ کے اسی نظام سے مصالحت کرکے اقتدار حاصل کیا جا تا ہے۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے پرو گرام اور منشور سے اصولی طور پر پر کوئی بھی حساس ذہن رکھنے والا پا کستانی انکار نہیں کر سکتا۔ کونسا ایماندار پا کستانی ایسا ہو گا کہ جو کرپشن کی لعنت سے نجات نہیں چاہے گا، کیا پا کستان کا قابل اور پڑھا لکھا نوجوان نہیں چا ہے گا کہ پا کستان سی لوٹی گئی دولت واپس لائی جائے اورنوجوانوں کو ان کی جائز صلا حیتوں کے مطابق پاکستان میں ہی رہ کر ترقی کرنے کا موقع ملے،عام لوگوں کو انصاف ملے اور غر یبوں کے گھر بنیں مگر ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے اس نظام کو تبدیل کرنا ضروری ہے کہ جس نظام کے باعث یہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔اور اس نظام کو تبدیل کرنے کیلئے سماجی رویے کو بدلنا ہو گا۔عوام کو تھانے کچہری، ذات اور بر ادری کی محدود سوچ سے اوپر اٹھ کر سیاسی فیصلے کرنا ہوں گے۔مگر صدیوں پر محیط ایسے سماجی رویوں کو بدلنے کیلئے تاحال ہمیں امید کی کوئی روشنی نظر نہیں آرہی۔

مزید :

رائے -کالم -