30اضلاع میں ڈائریکٹر کالجز کی تقرری نہ ہونے سے تعلیمی اداروں کے معاملات ٹھپ

  30اضلاع میں ڈائریکٹر کالجز کی تقرری نہ ہونے سے تعلیمی اداروں کے معاملات ٹھپ

  

جام پور (نامہ نگار)پنجاب کے تیس اضلاع میں ڈائریکٹر کالجز کی تقرری نہ ہو نے سے کالجوں کے تعلیمی ومالی معاملات شدید متاثر ہونے لگے تفصیل کے مطابق چھ ماہ قبل تین سال کا عرصہ پورا ہونے اور سیاسی طور پر (بقیہ نمبر44صفحہ6پر)

پنجاب کے تیس اضلاع میں ڈائریکٹر کالجز کو ہٹا کرکے سیکرٹریٹ لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا۔ نئے ڈائریکٹر کالجز کی تقرری کے لیے درخواستیں طلب کی گئی اور انٹرویوکی تاریخیں دو مرتبہ دی گئی لیکن انٹرویو کا سلسلہ شروع نہ ہو سکا۔ تقرری نہ ہونے سے صوبہ بھر کے کالجوں میں تعلیمی اور انتظا می اور مالی حالات بری طرح متاثر ہیں۔ڈیرہ ڈویژن میں سابق ڈائریکٹر کالجز پر وفیسر مظہر حسین گشکوری کی کاوشوں سے محمد پور۔ فاضل۔ پور۔ عمر کوٹ۔ شاہ صدردین۔ درخواست جمال میں کالجز کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے فنڈز کا اجراء کیا گیا جس پر اسی فی صد کام بھی مکمل کیا گیا۔ عارضی طور پر ڈائریکٹر کالجز وسیم احمد جو محکمہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ کنٹرولر بورڈ کی سیٹ پر تقرری کی دوران ناقص انتظامات پر سیکرٹری کی طرف سے فارغ کیے جانے والے کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بارہ ملین کے فنڈز واپس پنجاب حکومت کو بھجوائے گئے ہیں۔ بدقسمتی سے ان علاقوں میں دوہزار بیس میں فرسٹ ائیر کی کلاسز کا اجراء ہو ناتھا اور سٹاف کی منظوری کے لیے ایس این ہونی تھی۔ وہ بھی ختم ہوگئی ہیں۔ شہری غلام شبیر۔ نذر حسین نے جہاں ڈائریکٹر کالجز کی طرف سے علاقہ کے لیے تعلیمی نقصانات پر معطل کرکے کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا وہاں پر وزیر اعلی پنجاب سے اپنے ضلع کے لیے فوری طور پر فنڈز کا اجراء کرتے ہوئے ڈائریکٹر ز کی بھرتی کی منظوری کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف قائم مقام ڈائریکٹر کالجز سے موقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیاتو موصوف کرونا کی وجہ سے دفتر نہیں آئے تھے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -