نازک حالات میں 18ویں ترمیم کی باتیں کہاں کی دانش مندی،رضا ربانی کھر

  نازک حالات میں 18ویں ترمیم کی باتیں کہاں کی دانش مندی،رضا ربانی کھر

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ملک رضا ربانی کھر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت 18ویں آئینی ترمیم کی غلط تشریح کر کے ملک کے لیے ایک جامع حکمت عملی بنانے کی اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتی،پوری دنیا میں ایک وبا پھوٹی ہوئی ہے اور ملک میں جنگ کی سی صورتحال ہے مگر حکمران اٹھارویں ترمیم کی بات کررہے ہیں،عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی پر پاکستان نے تیل نہیں خریدا جس کی سزا اور خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے(بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

،حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمت 50 روپے فی لٹر کرے،ان خیالات کااظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم وفاقی صوبوں کو اختیار دیتی ہے لیکن وفاقی حکومت کو راہ فرار نہیں دیتی، انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی سطح پر پالیسی بنانے کی ذمہ داری وفاق کی ہی ہے اور اس وقت وہاں 'قیادت کا فقدان ہے۔‘پوری دنیا میں ایک وبا پھوٹی ہے اور ملک میں جنگ کی سی صورتحال ہے تو اِس وقت وہ اٹھارویں ترمیم کی بات کرتے ہیں،انہوں نے کہا 47 روپے فی لٹر پٹرول دینے کا وعدہ کرنے والے آج صارفین کو ان کا حق دینے پر تیار نہیں، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بھی 50 فیصد یا کم ازکم ایک تہائی کمی کی جائیاور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کرکے ڈیزل اور پٹرول 50روپے لیٹر کرے،پٹرول اور ڈیزل 50 روپے فی لٹر کرنے سے معاشی صورتحال میں بھی بہتری آسکتی ہے،پٹرول اور ڈیزل 50 روپے کم کرنے سے آٹا، دال، گھی، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں۔

رضاربانی کھر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -