ملتان سمیت مختلف شہروں میں تقریبات، ریلیاں، مزدوروں کوخراج تحسین

  ملتان سمیت مختلف شہروں میں تقریبات، ریلیاں، مزدوروں کوخراج تحسین

  

ملتان(سپیشل رپورٹر، سٹی رپورٹر) پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے پارٹی کی فیڈرل کونسل کے رکن عبدالقادرشاھین جنوبی پنجاب کے سنئیر نائب صدر خواجہ رضوان عالم اور میڈیا کوواڈینیٹر جنوبی پنجاب محمد سلیم مغل کے ہمراہ میڈیا آفس سے یکم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر شکاگو کے مزدوروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت اور تمام مزدور طبقہ سے اظہارِ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کا دارومدار مزدورں کے حقوق کے تحفظ اور تمام تر بنیادی سہولیات پر ہوتا ہے۔تمام تر بنیادی سہولیات مزدوروں کو باہم(بقیہ نمبر31صفحہ6پر)

پہنچانے کے لییپاکستان پیپلز پارٹی مزدوروں کی جدوجہد میں شانہ بشانہ کوشاں ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی ہر سطح ہر مزدوروں کے لیے آواز بلند کرتی رہِ گی۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور مزدور طبقے کے حقوق کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے یہ دن منایا جارہا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1972 میں لیبر پالیسی متعارف کروائی تھی، جس نے مزدوروں کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں لائیں۔اولڈ ایج بینیفٹس (Old Age Benefits) اور پنشن نظام، فیکٹری ورکرز کا تحفظ، مزدوروں کے لیے شراکت داری، یہ تمام تر اقدامات مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کیلیے پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی کیے ہیں۔مزدور پاکستان اور عالمیِ دنیا کا سرمایہ ہیں، کرونا کے باعث جاری لاک ڈاون کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ مزدور کا ہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی یقین دلاتی ہے کہ اِس مشکل گھڑی میں اُن کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ہر ممکن اپنا تعاون جاری رکھے گی۔ مخدوم احمد محمود نے کہا کہ 134 سال قبل شکاگو کے محنت کشوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے محنت کشوں کے نہ صرف بنیادی مسائل کو اُجاگر کیا تھا بلکہ اس جدوجہد کی روشنی میں آٹھ گھنٹے کے اوقات کار اور لیبر قوانین کے اجراء کرانے کی تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ ہم آج۔گر 134 سال قبل مزدوروں کے مسائل کے ساتھ مواذنہ کریں تو اسوقت محنت کشوں کو جو مسائل درپیش ہیں وہ تمام تر قوانین کے بننے کے باوجود پہلے سے زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔ آئی ایل او کنوینشن سے لے کر وفاقی اور صوبائی سطح پر ملک کے دستور کی روشنی میں مرتب ہونے والے لیبر قوانین پر عمل درآمد کرنے کے بجائے طاقت کے بل بوتے پر محنت کشوں کیبنیادی حقوق کو سلب کرکے اداروں کی بیوروکریسی اور مالکان ملک کے آئین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے ایک تو ملکی سطح پر محنت کشوں کی تنظیمیں متحد نہیں ہیں سونے پر سہاگہ جو لوگ پارلیمنٹ میں عوام کے اور محنت کشوں کے ووٹوں سے جاتے ہیں وہ بھی سرمایہ داروں اور اداروں کی بیوروکریسی کی بیساکھیاں بن جاتے ہیں جس کی وجہ سیپارلیمنٹ کی سطح پر محنت کشوں کی ترجمانی نہ ہونے کی وجہ سے جو لیبر قوانین محنت کشوں کے تحفظ کیلئے مرتب کئے گئے ہیں ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔ ان پالیسیوں کی خلاف ورزیوں اور روزگار کے تحفظ کیلئے جب اداروں کے ورکرز انصاف کے حصول کیلئے عدالتوں میں اپنے بچوں کے پیٹ کاٹ کر پٹیشنیں لے کر جاتے ہیں تو ٹیکینکل بنیادوں پر محنت کشوں کی پٹیشنیں خارج کر دی جاتیں ہیں جس کی وجہ سے محنت کشوں کو ریاست کا کوئی بھی ادارہ انصاف فراہم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔عبدالقادرشاھین نے کہا کہ اس وقت صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اداروں میں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کے ذریعے اکثریت ورکرز کو ملازمتوں پر رکھا جاتا ہے جنہیں تقرر نامے تک ادارے جاری نہیں ہوتے، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پرملازمتوں پر بھرتیاں عارضی طور کرکے محنت کشوں کا استحصال کیا جارہاہے ان حالات میں ملک کا وزیر اعظم کرونا وائرس کی وبا سے پیدا ہونے والے حالات پر مسلسل قوم سے خطاب میں کہہ رہا ہیں کہ دہاڑی دار مزدور کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا لیکن دہاڑی دار مزدور کو چند ہزار ماہانہ عوام کے ٹیکس سے مالی مدد کرکے ان کے بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا یہی وجہ ہے پیپلز پارٹی مسلسل وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ ملک بھر کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز میں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ پر ملازمتوں پر رکھے گئے ورکرز کو ملازمتوں پر مستقل کرنے کے لئے ملک کی ہنگامی صورتحال میں قانون سازی کی جائے تاکہ تمام ورکرز کوملازمتوں پر مستقل کیا جائے پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمتوں کرنے والے ورکرز کی رجسٹریشن سوشل سیکورٹی کے اداروں میں ہو سکے جس سے محنت کشوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی ہو سکے گی۔خواجہ رضوان عالم نے کہا کہ یوم مئی محنت کشوں کو جہاں جدوجہد کا پیغام دیتا ہے وہاں یوم مئی متحد ہو کر حقوق کے حصول کیلئے منظم و متحد ہونے کیلئے محنت کشوں کی بنیادی ضرورت کا احساس بھی دلاتا ہے۔عوامی ورکرزپارٹی ملتان اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے زیر اہتمام شکاگو کے شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات سماجی فاصلہ کو قائم رکھتے ہوئے ریلی نکالی گئی جس کی قیادت مزدور رہنماؤں کا مریڈ یامین، ملک بشیر مکول، عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماؤں نوازپاندہ، دلاور عباس صدیقی، فرحت عباس، مصور نقوی سبطین رضا نقوی نے کی شرکائنے پریس کلب ملتان کے سامنے سماجی فاصلہ برقراررکھتے ہوئے امریکہ کے شہر شکاگو میں 1886ئکو محنت کشوں پر ہونے والے ظلم کی بھرپور مذمت کی اس دن محنت کش پرامن طور پراپنے اوقات کارکے تعین کے لیے مظاہرہ کررہے تھے جس پر نہتے محنت کشوں پر وحشیانہ فائرنگ کی گئی اور اس طرح مزدوروں کی جدوجہد نے ایک نئی تاریخ رقم کی اور بعد ازاں مزدوروں کے منظم ہوکر اپنی تنظیمیں قائم کی مظاہرین سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان کے مزدوروں کے حالات زندگی بھی شکاگو کے مزدوں کی طرح اب کروناوائرس کی وجہ سے بند ہونے ولای انڈسٹری کے مالکان بڑی تعداد میں فیکٹری ورکرز کو ملازمتوں سے فارغ کررہے ہیں جو کہ سراسر زیادتی ہے دوسری طرف سرکار کے پاس ہر قسم کے وسائل موجود ہیں غلہ اور اناج کے گودام موجود ہیں لیکن محنت کش طبقہ بھوک اور بیماری کی وجہ جان کی بازی ہاررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت قانون سازی کے ذریعے فیکٹری مالکان کو پابند کرے کہ وہ لاک ڈاؤن کے دوران کسی ورکرز نہ تو بے روزگار کرے اور نہ ہی اس کی تنخواہ بند کرے نیزلاک ڈاو?ن پر مکمل پابندی کی جائے اور اس دوران ریاست کی ذمہ داری کہ غریب اور مستحق افراد کے راشن مہیا کیا جائے۔ساوتھ پنجاب ورکرز فیڈریشن کے عہدیداران مھر محمد اشرف ساقی '' دلاور عباس صدیقی '' مصور حسین '' شیخ شاہد حسین '' ملک محمد اصغر ڈوگر '' ملک محمد رمضان نے یکم مئی یوم مزدور کے حوالے سے اپنے مشترکہ بیان میں شکاگو محنت کشوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ اج پاکستان میں محنت کش طبقہ کے حالات 1886 سے بھی بد تر ہیں ایک سازش کے تحت بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا ہوا ہے ایک طرف کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں پوری دنیا متاثر و رہی ہے وہاں پر مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے بے روزگاری اور مہنگاء میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے حکومتی وعدے صرف زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہیں کارخانوں فیکٹریوں کے بند ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے حکومت کی طرف سے 12000 ہزار روپے سے مسائل حل نہیں ہوتے مہنگائی میں گنا اضافہ سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی ہے حکومت فوری طور پر محنت کش طبقہ کے لیے ریلیف کا اعلان کرے بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے جامعہ لائحہ عمل بنایا جاے مہنگاء روکنے میں حکومت یکسر ناکام ہو چکی ہے۔عالمی یوم مزدور دراصل مزدوروں کیلئے تجدید عہد کا دن ہے۔ پاکستان میں آج بھی مزدور ان حالات سے گزر رہے ہیں جو1886ء میں امریکہ کے شہر شکاگو میں تھے۔ شکاگو کے شہداء نے اوقات کار اور اُجرتوں میں اضافے کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج پاکستان میں اوقات کار کے قانون کی موجودگی میں آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کی بجائے بارہ، بارہ گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے۔ کم از کم اُجرت کے قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اور کم ازکم ماہانہ اُجرت حکومتیں مقرر کر رہی ہیں جبکہ مزدوروں سے اس پر کوئی مشاورت کا عمل نہیں ہوتا۔ ہم آج یوم مئی کے موقع پر حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ضرورت کے مطابق اُجرتیں مقرر کی جائیں۔لیبر قوانین پر عملدرآمد کانہ ہونا صنعتی مزدوروں کیلئے پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی یوم مزدور کی مناسبت سے منعقدہ مجلس مذاکرہ بعنوان”ہے تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات“ کے شرکاء سے پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن کے سیکر ٹری جنرل معروف مزدور رہنما محمد عاشق بھُٹہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزدور کے حالات جتنے اس وقت تلخ ہیں اس سے پہلے کبھی نہ تھے۔ مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ بند پڑے تمام صنعتی اداروں کو چالو کئے جانے کے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ زیرِ التوارء میرج گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ، ٹیلنٹ سکالرشپ کی درخواستوں پر فیصلہ کر کے حقداران کو گرانٹ کے چیک جاری کئے جائیں۔ مہنگائی کے تناسب سے اُجرتوں میں اضافہ کیا جائے۔ ٹھیکیداری نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔دریں اثناء جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی یکم مئی کے حوالے سے تقریبات منعقد ہوئیں جس میں مزدوروں کوخراج تحسین پیش کیاگیا۔

خراج تحسین

مزید :

ملتان صفحہ آخر -