بزنس مین گروپ کا 15رمضان سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ

        بزنس مین گروپ کا 15رمضان سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا مطالبہ

  

کراچی(اکنامک رپورٹر) کرونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 23مارچ سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد سے سندھ حکومت کے اقدامات کی تعریف بالخصوص(بقیہ نمبر22صفحہ6پر)

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سخت محنت جس میں وہ ذاتی طور پر وائرس سے متعلق سرگرمیوں اور پیش رفت کا جائزہ لیتے، ریلیف حکمت عملی وضع کرتے اور مسلسل پیروی اجلاسوں کے انعقاد کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرتے نظر آئے ان تمام تر کاوشوں کو سراہتے ہوئے، چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کراچی چیمبر سراج قاسم تیلی نے کہا کہ کرونا وائرس کہیں جانے والا نہیں اور فی الوقت ہمارے ساتھ ہی رہے گا۔ یہ ہماری زندگی کا حصہ بن گیا ہے اور ہمیں اس کے ساتھ رہنا ہوگا۔ تاہم ہم کاروبار کو ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے لہٰذا حکومت کوحکمت عملی وضع کرنی ہی ہوگی کہ کس طرح وائرس کی موجودگی میں ہی روزمرہ کے معمولات زندگی کو محفوظ طریقے سے بحال کیا جاسکے۔چیئرمین بی ایم جی نے مطالبہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پریشان حال چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو 15رمضان سے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ تاجروصنعتکار برادری کے ممبران باالخصوص چھوٹے تاجرو کانداروں کسی حد تک اپنے نقصانات کو رمضان کے آخری دو ہفتوں میں کم کرسکیں جب عیدالفطر سے قبل تمام تجارتی مارکیٹوں میں کاروباری سرگرانہوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن کی طویل بندش کے دوران شدید مشکلات کے باوجود چھوٹے تاجروں، دکانداروں سمیت تاجروصنعتکاربرادری نے بھاری نقصانات برداشت کیے اس کے باوجود حکومت کے ہر فیصلے میں بھرپور تعاون اور حمایت کا سلسلہ جاری رہا لہٰذا اب حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے تمام چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کو لازمی طور پر پہلے سے بیان شدہ فارمولے کے تحت ریلیف دینا چاہئے جس میں تمام چھوٹے تاجروں و دکانداروں کو صرف ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی واحد شرط پر اپنے کاروبار کھولنے کی اجازت دی جائے جبکہ ایس اوپیز باہمی اتفاق سے مرتب کیے جائیں اوریہ قابل عمل ہوں جن کو اختیار کرکے خطرات کو بھی کم سے کم کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ایس اوپیز میں ہر وقت لوگوں کے درمیان کم ازکم 2 میٹر کا فاصلہ لازمی قرار دیا جائے۔ ایس اوپیز کے تحت کاروباری اوقات کارکو کم کرنے کے ساتھ ساتھ عملہ اورصارفین کی گنجائش کی حد بھی کم کی جائے جبکہ احتیاطی تدابیر کے تحت گاہکوں کے لیے دکان میں 40فیصد گنجائش رکھی جائے چاہے نیز ہاتھ ملانے سے گریز جبکہ صارفین اور عملے کے لیے ہر وقت ماسک پہننا بھی لازمی قرار دیا جانا چاہیے اور دکاندار وقفے وقفے سے اپنی دکانوں کو ڈس انفیکٹ کریں جبکہ آنے والے کسٹمرز کے لئے سینٹائزر کے علاوہ جسمانی حرارت چیک کرنے کا آلہ بھی دکان کے داخلی راستے پر موجود ہونا چاہئے۔ یہ تمام ایس او پیز صرف رمضان کے شاپنگ سیزن کے لئے نہیں انہیں ہمیں روزمرہ کی زندگی اور معمول کی کاروباری سرگرمیوں کا حصہ بناناہی ہوگا کیونکہ کرونا وائرس اب کچھ عرصہ تو رہے گا۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے حقیقتاً بہت زیادہ کاوشیں کی ہیں اور دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک اور شہروں کی نسبت ہمارے ہاں صورتحال بہت بہتر ہے۔ہم ان تمام کوششوں کو ہر گز ضائع نہیں ہونے دیں گے لہٰذا دکانداروں کو لازمی طور پر سماجی فاصلے کو یقینی بنانا ہوگا اور کارباری احاطے کے اندر، باہر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی جو نہ صرف ان کی جانوں اور کاروبار کے حق میں ہے بلکہ یہ ملک کے بہتر ترین مفاد میں ہے۔ہر ایک زندگی انتہائی اہم ہے لہٰذا ہم سب کو سخت نظم وضبط کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور طے شدہ ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا جس سے کاروبار کوجاری رکھنے میں مدد ملے گی۔چونکہ شہر بھر کی تقریباً400 مارکیٹوں کے نمائندوں نے بی ایم جی سے مداخلت کی درخواست کی تھی لہذا سراج تیلی نے انہیں حمایت اور تعاون پیش کرتے ہوئے چھوٹے تاجروں، دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ شہر کی تمام تجارتی مارکیٹوں میں نظم وضبط قائم کریں اور ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ جب مارکیٹیں کھلیں تو کرونا کا مہلک مرض قابو میں رہے۔کمرشل مارکیٹیں مسلسل 40دن بند رہنے کے بعد جب دوبارہ کھلیں گی تو یقینی طور پر عید کی خریداری کی وجہ سے بہت زیادہ رش ہوگا لہٰذا چھوٹے تاجر اور دکانداروں کو تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ذمہ داری وسمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگر کسی دکان کو ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سیل کردیا تو ایسی صورت میں نہ کراچی چیمبر اور نہ ہی چھوٹے تاجروں کی کوئی بھی ایسوسی ایشن کی جانب سے ایسے دکانداروں کو ہر گز سپورٹ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 9 مئی تک لاک ڈاؤن میں توسیع کی ہے مگر اب 15رمضان سے نرمی کرتے ہوئے اس میں مزید توسیع نہ کی جائے کیونکہ ماہ مقدس کے آخری دو ہفتوں میں پوری تاجروصنعتکار برادری عید سے قبل ہونے والے بے پناہ خرید و فروخت کی وجہ سے کسی حد تک اپنے نقصانات کی تلافی کرسکے گی بصورت دیگر ان کے کاروبار کا پورا سال ہی داؤ پر لگ جائے گا۔سراج تیلی نے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران 200کے قریب صنعتوں کو اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دینے کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ان صنعتوں کو تیار مال زیادہ تر مقامی مارکیٹوں، تاجروں، ہول سیلرز، ریٹیلرز اور دکانداروں کو فراہم کیا جاتا ہے جو صنعتوں کو مختلف خام مال اور مرمت کا دیگر ضروری سامان بھی فراہم کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان تمام چھوٹے تاجروں، دکانداروں کا کاروبار مکمل طور پر بند ہے جس سے کاروباری سائیکل مکمل طور پر رک گیا ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جبکہ کاروباری اداروں کو ملک بھر میں 40دنوں سے جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے لہٰذا کارباری سائیکل کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو چھوٹے تاجروں اور ریٹیل کاروبار کو کھولنے کی اجازت دینے کے امکانات پر ضرور غور کرنا چاہیے جس سے یقینی طور پر مزید بحرانوں کو روکنے میں مدد ملے گی۔چیئرمین بی ایم جی نے وزیراعلیٰ سندھ کی دانشمندی کو مدنظر رکھتے ہوئے امید ظاہر کی کہ سندھ حکومت 15رمضان سے دکانوں کو دوبارہ کھولنے کا سمجھداری سے فیصلہ کرے گی جس کا تاجربرادری خیرمقدم کرے گی کیونکہ اس سے یقینی طور پر تاجروں اور دکانداروں کو کسی حد تک ریلیف ملے گا جنہیں شدید نقصانات برداشت کرنا پڑے اور ان میں سے بہت سے مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔یہ چھوٹے تاجر اور دکاندار اپنا کاروبار چلانے کے لیے سیکڑوں بلکہ ہزاروں لوگوں کو روزگار دیتے ہیں جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ملک کو بڑے پیمانے پر غربت اور بے روزگاری سے بچانے کے لیے ان چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کی بقا کو قائم رکھنا انتہائی اہم ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -