فضول خرچ کا حشر

فضول خرچ کا حشر

  

سلمیٰ بہت اترا کے بولی میرے گھر میں تو بہت ساری چیزیں ہیں۔ میرے پاس تو بہت سارے کپڑے اور زیورات ہیں لیکن تمہارا گھر تو بالکل سادہ ہے۔ سارہ خاموشی سے سلمیٰ کی باتیں سنتی رہی اور کچھ نہ بولی۔ سلمیٰ نے پھر کہا ”بہن“ چلو میرے ساتھ بازار چلو۔اآج بہت ساری چیزیں خرید لائیں گے لیکن سارہ نے کہا ”نہیں بہن! میرے پاس اتنے فالتو پیسے نہیں ہیں کہ بلاوجہ خرچ کرتی پھروں میں وہی چیزیں لیتی ہوں جن کی مجھے ضرورت ہوتی ہے۔

جس وقت سلمیٰ اور سارہ یہ باتیں کر رہی تھیں تو اس وقت ایک پری اْوپر سے گزر رہی تھی وہ ان کی باتیں سننے لگی۔پری کو بھی سلمیٰ کی باتیں بہت برْی لگیں۔ پری نے سوچاکہ سلمیٰ کو فضول خرچی کی سزا تو ملنی چاہیے۔

پری نے اپنی جادو کی چھڑی گھمائی اور کہ سلمیٰ کے پرس میں گھس گئی۔ اب سلمیٰ جو بھی پیسے پرس میں ڈالتی وہ غائب ہو جاتے۔ سلمیٰ پہلے تو یہی سمجھتی رہی کہ پیسے اس سے ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔مگر جب یہ عمل مستقل رہنے لگا تو وہ پریشان ہوگئی۔ ایک دن سلمیٰ، سارہ کے پاس آئی اور اس کو ساری بات بتائی۔ سارہ نے کہا”بہن تم بھی تو بہت فضول خرچ ہو“ سلمیٰ نے کہا نہیں میں جتنے پیسے خرچ کرتی ہوں اس سے کہیں زیادہ پیسے پرس میں سے غائب ہو جاتے ہیں۔

اس طرح کئی دن گز ر گئے اور سلمیٰ کاحال یہ ہوا کہ وہ بہت غریب ہو گئی اور جوتھوڑے بہت پیسے اس کے پاس موجود ہوتے اْن پیسوں کو سلمیٰ بہت دیکھ بھال کر خرچ کرتی۔ ایک دن سلمیٰ اور سارہ دونوں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ سلمیٰ نے کہا ”اب تو میں بہت ہی دیکھ بھال کے پیسے خرچ کرتی ہوں۔“سارہ نے پوچھا تو اس سے تمہیں کیا فائدہ ہوا؟ سلمیٰ نے کہا اب میں بہت خوش اور سکون سے ہوں۔

سلمیٰ نے کہا ”بہن سارہ مجھے معاف کردو میں نے تمہارا بہت مذاق اْڑایا تھا۔مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ ہمیشہ دیکھ بھال کر ہی پیسے خرچ کرنے چاہئیں۔ پری ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔ جب پری کو اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ سلمیٰ کو غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو پری ایک دم سے سلمیٰ کے پرس سے باہر نکل آئی۔

پری کو دیکھ کر پہلے تو سلمیٰ اور سارہ ڈر گئیں۔ لیکن جب پری نے ان سے باتیں کیں تو اْن دونوں کو بہت اچھا لگا۔ سلمیٰ نے کہا ”بہن پری تم میرے پرس میں رہتی ہو؟“پری نے کہا ”نہیں جب میں نے دیکھا کہ تم سارہ کا مذاق اْڑا رہی ہو تو میں نے سوچا کہ تمہیں اس کی سزا ملنی چاہیے۔اس لیے میں تمہارے پرس میں گھس گئی اور پیسے غائب کرنا شروع کر دیئے۔ یہ سب میں نے اس لئے کیا تاکہ تم پیسے محتاط ہو کر خرچ کرو۔“سلمیٰ نے کہا کہ مجھے سمجھ آگئی ہے کہ پیسے ہمیشہ دیکھ بھال کر خرچ کرنے چاہئیں۔ پری نے کہا شاباش تم نے بہت اچھی بات کہی۔ پری نے سلمیٰ کے سارے پیسے واپس کر دیئے اس طرح سلمیٰ کو بھی اچھا سبق ملا۔

پیارے بچو! ہمیں چاہیے کہ ہم بہت احتیاط سے پیسے خرچ کریں۔ اور ایسی چیز یں نہ خریدیں جن کی ضرورت نہ ہو۔

مزید :

ایڈیشن 1 -