صحب ناجنس

صحب ناجنس

  

بیان کیا جا تا ہے، کسی صیاد نے ایک کوّے اور ایک طوطی کو ایک ہی پنجرے میں بند کر دیا۔ طوطی کے لیے کّوااور کوّے کے لیے طوطی اجنبی تھے۔ طوطی کّوے کو دیکھتی او ردل ہی دل میں کڑھتی کہ تقدیر نے مجھے کس عذاب میں پھنسا دیا۔ یہ موا کالا کلوٹا ہر وقت نگاہوں کے سامنے رہتا ہے۔ اس کی شکل تو ایسی منحوس ہے کہ اگر کسی دیوار پر اس کی تصویر بنی ہو توکوئی اس کے سائے میں آرام کرنے بھی پسند نہ کرے۔

جو حال طوطی کا تھا، وہی حال کّوے کا بھی تھا۔ وہ ہر وقت اس خیال سے پریشان رہتا تھا کہ کاتب تقدیر نے کس کی ہم نشینی مقدر میں لکھ دی۔بکواسن ہر وقت بکواس کرتی رہتی ہے۔ اگر تقدیر میں قیدہونا ہی لکھا تھا تو کوئی خاندانی کّوا ساتھی ہوتا۔ اس کی تو صورت دیکھ کر وحشت ہوتی ہے۔

نیک ہوں یا بد ہوں ناجنسوں میں رہتے ہیں ملول۔

صحبت ناجنس سے بڑھ کر نہیں کوئی عذاب

اپنے ہم مسلک کو بخشوہم نشینی کو شرف

غیر کی محفل میں جا کر حالت ہوتا ہے خراب

مزید :

ایڈیشن 1 -