ضمیر کی عدالت

ضمیر کی عدالت

  

بریک کے بعد جو نہی مس سحر ش کلاس روم میں داخل ہوئیں،دیکھا بہت سی بچیاں انایہ کے اِردگر د کھڑی تھیں۔مِس سحر ش نے پوچھا بچو! خیر تو ہے؟یہ شور وغْل کیسا ہے؟ٹیچر! کسی نے انایہ کے جیو میٹری باکس سے ایک ہزار روپے نکا ل لئے ہیں۔

”یہ ایک ہزار لائی کیوں تھی؟“مِس سحرش نے پوچھا۔”ٹیچر!میں نے بازار سے جرسی لینی تھی“؛انایہ نے کہا۔ ”چوری کرنا بہت بْرا فعل ہے“؛ مس سحر ش نے کہا،”اگر چوری پکڑ لی گئی تو وہ تمام عمر چورنی ہی کہلائے گی۔

میں آپ کوایک واقعہ سناتی ہوں،جسے سْن کر شاید اْس لڑکی پر کچھ اثر ہو اور وہ پیسے واپس کردے“۔خلیفہ ہارون الرشید کا نام تو آپ نے سْنا ہی ہو گا،اْن کا ایک دوست بہت عقلمند،ذہین اور دْنیا دار بھی تھا۔ خلیفہ اْس سے کسی مسئلہ پر مشاورت بھی کرتا تھا۔

خلیفہ ہارون الرشید بہت انصاف پسند تھا کہ اُس کے محل میں آنے والا ہر فریادی اُ س کے حضور پیش کیا جائے۔ دربان اکثر اوقات فریادیوں کو بادشاہ کے سامنے پیش کرتے رہتے تھے اور بادشاہ معمول کے کاموں کے ساتھ اْن کی فریاد سْن کر احکامات جاری کرتارہتا تھا۔

خلیفہ ایک دن اْس دوست کے ساتھ دو پہر کا کھانا کھا رہا تھا کہ ایک فر یادی کو پیش کیا گیا۔فریادی نے روتے ہوئے عرض کی۔”آپ کے اس دوست نے میری زمین پر نا جائز قبضہ کیا ہوا ہے۔بادشاہ نے پریشانی کے عالم میں اپنے دوست کی طرف دیکھا۔ دوست نے نیپکن سے ہاتھ صاف کئے اور فریادی سے مْسکر ا کر کہا میں نے تمہاری کتنی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔اْ س فریادی نے بتا یا کہ اتنے ایکڑ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔اْس دوست نے دربان سے کاغذ قلم منگوایا اور اْسی وقت ساری زمین اُُس کے نام لکھ دی۔

بادشاہ نے پوچھا:”پھر تْم نے اْسے اپنی ساری زمین کیوں لکھ کر دی“؟ دوست نے مْسکر ا کر کہا؛”بادشاہ سلامت آپ پوری اْمتِ ْْمْسلمہ کے خلیفہ ہیں۔دْنیا میں اِس وقت آپ سے بڑاکوئی نہیں اور مجھے آپ جیسی ہستی کا قْرب حاصل ہے جو میراسب سے بڑا اثاثہ ہے۔اگر میں زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے عوض یہ اثاثہ کھو دوں تو مجھ سے بڑا بیوقوف کون ہوگا؟چنانچہ میں نے اپنی ساری زمین اْس جھوٹے دعویٰ دار کو دے کر اپنا عظیم اثاثہ بچا لیا“۔بادشاہ نے مْسکرا کر کہا؛”کیا تجھے مجھ پر اور میرے قاضیوں پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ انصاف دیں گے؟“دوست نے غرض کی؛”آپ سے بڑا دنیا میں اس وقت انصاف پسند اور کوئی نہیں اور مجھے یقین ہے کہ پہلی پیشی میں فیصلہ میرے حق میں ہو جائے گا مگر میں نے سوچا کہ دنیا بادشاہ کے دوست کو کٹہرے میں دیکھے گی تو یقینا مجھ پر ہنسے گی۔

میں رعایا کی ہنسی کو آپ کی توہین سمجھتا ہوں میں آپ کا دوست اور سچا خیر خواہ ہوں میری وجہ سے آپ کی بے عزتی نہیں ہونی چاہیے۔وہ رْکااور بولا بادشاہ سلامت آپ یہ ذہن میں رکھیے اور لوگ سمجھیں گے کہ بادشاہ کا دوست ہونے کی وجہ سے بچ گیا۔

میں نہیں چاہتا کہ آپ کا دوست ایک لمحے کے لئے بھی مشکوک سمجھا جائے۔بادشاہ اْٹھا، اس نے اپنے دوست کو گلے سے لگایا اور دربان سے کاغذ اور قلم لانے کا حکم دیا، بادشاہ نے دریائے فرات کے کنارے زرخیز چالیس میل زمین کا رقبہ اْس کے نام لکھ دیا۔

پیارے بچو! میری درخواست ہے کہ جس نے چوری کی وہ چپکے سے پیسے دے دے۔میں کسی کو نہیں بتاؤں گی۔اگر وہ پکڑی گئی تو وہ ساری عمر چور کہلائے گی۔اگر پکڑی نہ بھی گئی تو جب آئینہ دیکھے گی تو اْسے وہ چہرے چورنی کا نظر آئے گا۔وہ مجھ پر بھروسہ کرسکتی ہے، اگلے دن بریک کے بعد مِس سحرش نے ایک ہزار روپیہ انایہ کے حوالے کرتے ہوے کہا؛”آئندہ پیسے لے کر نہیں آنا اور شکریہ اس بچی کا جس نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے پیسے واپس کر دیئے۔

پیارے بچو! اِ س سے سبق ملتا ہے کہ چوری ہر گز نہیں کرنی چاہیے۔اگر غلطی ہو جائے تو واپس کرنے میں بڑائی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں کامِل مسلمان بنائے۔آمین۔

مزید :

ایڈیشن 1 -