آیئے مسکرائیں

آیئے مسکرائیں

  

٭ماں فون پر ڈاکٹر سے۔ڈاکٹر صاحب میری بیٹی کو کرنٹ لگ گیا ہے۔

ڈاکٹر۔شکرانے کے 2 نفل پڑھیں کہ آپ کے ہاں لائٹ آ رہی ہے۔

٭بیٹے نے باپ سے پوچھا”ابو میں اتنا بڑا کب ہوں گا جب مجھے امی سے پوچھے بغیر باہر جانے کی اجازت ہو گی“۔

باپ مظلومیت سے بولا”بیٹا اتنا بڑا تو ابھی میں بھی نہیں ہوا۔“

٭ایک پٹھان ڈاکٹر کے پاس گیا اس کے سر سے خون بہ رہا تھا۔

ڈاکٹر صاحب: خان کیا ہوا؟

خان: میں ایک پتھر کو ہوا میں اچھال کر کیچ کر رہی تھی مگر وہ میرے ہاتھ نہیں آتی تھی۔ساتھ سے ایک آدمی گذری اس نے کہا خان کھوپڑی کا استعمال کرو۔پھر ام نے کھوہڑی کا استعمال کیا۔

ا٭یک چرسی نے آنکھوں کا عطیہ دیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا آپ کچھ کہنا چاہیں گے؟

چرسی: ہاں جسے بھی یہ آنکھیں دیں اسے بتادینا کہ یہ دو کش لگانے کے بعد کھلتی ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -