دیگر صوبوں کی طرح کراچی میں بھی کاروبار کی اجازت دی جائے: حافظ نعیم الرحمن

دیگر صوبوں کی طرح کراچی میں بھی کاروبار کی اجازت دی جائے: حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے ہر طبقہ متاثر ہوا ہے لیکن مزدور طبقہ اور تاجر برادری، دکاندار اور جو روزانہ کام کرنے والے لوگ ہیں وہ بہت زیادہ پریشان ہیں۔ایس او پیز کے تحت دیگر صوبوں کی طرح کراچی سمیت سندھ کے چھوٹے تاجروں کو کاروبار کرنے دیا جائے، حکومت اور انتظامیہ کاروباری طبقے کی مشکلات کا ازالہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت ریلیف سینٹر، انجمن کمپلیکس، سخی حسن میں حیدری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،وفد میں سید اختر شاہد چیف پیٹرن،سید فراز احمد صدر حیدری و لیاقت آباد صرافہ ایسوسی ایشن، حسن جمیل صدر حیدی مارکیٹ ایسوسی ایشن،شکیل احمدجنرل سیکریٹری کے علاوہ ممبران مارکیٹ کمیٹی اور دیگر شامل تھے۔ ملاقات میں امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی منعم ظفر خان، نائب امیر جماعت اسلامی ضلع وسطی سید وجیہ حسن بھی موجود تھے۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ضلع وسطی کی سطح پر تاجر نمائندوں اور جماعت اسلامی کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو حکومتی اقدامات، ایس او پیز کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ دنیا بھر کی طرح پورے پاکستان میں بھی یہ وبا ہے، ابتدائی طور پر سندھ حکومت نے جب مشاورت کی کہ ہم چاہتے ہیں کہ شہر کو بند کریں، اور اس دوران میں وہ تمام اقدامات کریں جس کے نتیجے میں ہم اس وبا کا مقابلہ کرسکیں، ابتدائی اقدامات میں جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتوں نے ان کا ساتھ دیا، لیکن بدقسمتی سے سوائے لاک ڈاؤن کرنے کے جو کام حکومت کے کرنے کا تھا وہ نہیں کیا گیا، حکومت کہتی ہے کورونا کی وبا ہے اور اس سے محفوظ کرنے کے لئے ہم نے دکانیں بند کی ہوئی ہیں، لیکن کورونا کی وبا سے لڑنے والے ڈاکٹرز کو یہ سہولت تو فراہم کر نہ سکے نہ ان کو ضرور ت کے مطابق پی پی ای کٹس دی جا سکیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ المیہ یہ ہے کہ ایک ہی ملک میں 2قانون چلائے جارہے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں چھوٹے بڑے تجارتی مراکز کھول دیئے گئے ہیں لیکن سندھ میں اب تک کاروبار مکمل بند ہے، تاجر برادری پریشان ہے،کیا کورونا وائرس صرف کراچی اور سندھ میں ہی ہے جس کی وجہ سے یہاں کے تاجروں کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے، سندھ حکومت ایس او پیز بنائے جس میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ مختلف اوقات میں تاجروں کو دکانیں کھولنے کی اجازت دے تاکہ تاجروں اور عوام دونوں کو سہولت ملے۔ حیدری مارکیٹ ایسوسی ایشن کے وفد جس کی قیادت چیف پیٹرن سید اختر شاہد کر رہے تھے‘ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ لاک ڈاؤن کے باعث صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے، ہمارا یہ مشترکہ موقف ہے کہ اگر یہ لاک ڈاؤن اتنا ہی ناگزیر ہے تو پھر حیدری مارکیٹ اور دیگر تمام مارکیٹ میں رات کے اوقات میں کام کرنے دیا جائے تا کہ اہل کراچی عید کی تیاریاں کرسکیں، اور اسی طریقے سے جو ہزاروں چھوٹے کاروباری ہیں ان کے بھی روزگار کا بندو بست ہو سکے۔#

مزید :

پشاورصفحہ آخر -