قادیانی اسلام اور پاکستان کے دیرینہ دشمن ہیں‘ مفتی ضیاء اللہ

  قادیانی اسلام اور پاکستان کے دیرینہ دشمن ہیں‘ مفتی ضیاء اللہ

  

سرا ئے نورنگ (نما ئندہ پا کستان) جمعیت علماء اسلام خیبرپختونخوا مجلس شوری کے رکن مفتی ضیاء اللہ نے قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی اسلام اور پاکستان کے دیرینہ دشمن ہیں انہوں نے نہ صرف مسلمانوں میں تفریق اور انتشار پیدا کیا بلکہ مملکت خداداد پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش کی تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ موجودہ حکمران قادیانیوں کے لیے دل میں میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ان کے ہمراہ جمعیت میڈیا فاؤنڈیشن بنوں ڈویژن کے صدر مولانا محمد ابراہیم ادہمی اور ڈپٹی جنرل سیکرٹری مولانا امجد طوفانی بھی موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ قادیانیوں نے ہمیشہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش کی ہے یہاں تک کہ 1953 میں قادیانیوں نے پاکستان ٹکڑے ٹکرے کرنے کی کوشش کی اور آج تک کر رہے ہیں انہی مزموم عزائم اور مقاصد کی وجہ سے 1974 میں پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے مل کر اس طبقے کے خلاف تحریک چلائی اور آخر کار سات ستمبر 1974 کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرکے غیر مسلم قرار دے دیا تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ موجودہ حکمران روز اول سے قادیانیوں کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں اور آج قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کیا گیا جو کہ سرزمین پاکستان اور آئین پاکستان کے ساتھ کھلم کھلا غداری ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ جمیعت علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مشترکہ طور پر حکومت کے اس ناپاک اقدام کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اپنے قائدین کے حکم پر جمعہ کے دن کو یوم ختم نبوت کے طور پر منا رہے ہیں تاکہ نہ صرف نماز جمعہ کے خطبات میں آئمہ مساجد اور علمائے کرام عقیدہ ختم نبوت پر مفصل بیانات کریں بلکہ قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کے خلاف متفقہ قرار دادیں منظور کروا کر حکومت وقت کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرے انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لے گی تب تک مذہبی جماعتوں کی یہ تحریک جاری رہے گی کیونکہ موجودہ حالات میں ایسا فیصلہ کرنا قوم میں انتشار پیدا کرنے کے مترادف ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -