حکومت کا قادیانیوں کو اقلیت میں آنے کیلئے کمیشن بنانے کا فیصلہ درست نہیں

حکومت کا قادیانیوں کو اقلیت میں آنے کیلئے کمیشن بنانے کا فیصلہ درست نہیں

  

صوابی(بیورورپورٹ) امیر جماعت اشاعت التوحید والسنت مولانا محمد طیب طاہری نے کہا ہے کہ قادیانی مرتد پاکستان کے قوانین نہیں مانتے کیونکہ قانون نے قادیانیوں کو کافر ثابت کیا ہے اس لئے حکومت کا قادیانیوں کو اقلیت میں آنے کے لئے کمیشن بنانا درست اور صحیح فیصلہ نہیں دارالقر آن پنج پیر میں درس قر آن کے موقع پر انہوں نے کہا کہ قادیانی مرتد پاکستان کی قوانین نہیں مانتے کیونکہ اسی قانون نے انہیں کافر قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ کسی ملک میں رہنے کے کچھ اصول اور قواعد ہو تے ہیں تاہم تمام باسیوں پر ان قوانین پر عمل کرنا اور اس کی پاسداری کرنا ضروری ہو تا ہے ہمارے ملک پاکستان میں بھی کئی قسم کے لوگ رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ غیر مسلموں کی حفاظت ہمارے ملک و قانون کی ذمہ داری ہیں کیونکہ غیر مسلم اقلیتی ہمارے قوانین کو مانتے ہیں مگر کچھ لوگ جنہیں قادیانی کہا جاتا ہے یہ نہ اس ملک کی قوانین تسلیم کر تے ہیں نہ ہی یہاں کے مذہب و عقیدے کو بلکہ یہ مرتد کافر لوگ ہیں یہ لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں لیکن یہ ان قادیانیوں کی دل اور فریب اور دھوکہ ہیں یہ لوگ کلمہ پڑھتے ہیں قر آن پڑھتے ہیں اس کی تلقین بھی دیتے ہیں لیکن یہ ختم نبوت کے منکر ہیں تو اس لئے انہیں کسی طور مسلمان نہیں مانا جا سکتا یہ صرف اور صرف مرتد ہے جسے آئین پاکستان نے صرف طور پر کافر اور مرتد قرار دیا ہے اور انہیں اسلام کے دائرہ سے خارج کیا ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -