ینگ ڈاکٹرز کا حکومت سے حفاظتی کٹس کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ

  ینگ ڈاکٹرز کا حکومت سے حفاظتی کٹس کی فراہمی کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ

  

پشاور (سٹی رپورٹر)ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن خیبر پختونخوا نے حفاظی کٹس کی فراہمی ممکن بنانے کیلئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے نوٹ لینے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حفاظتی کٹس کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ کٹس کی عدم فراہمی سے کرونا وائرس سے ڈاکٹرز متاثر ہونے لگے اور اب تک 67ڈاکٹرز میں کرونا کی تصدیق ہو چکی ہے جنمیں 24 ڈاکٹرز کا تعلق سینئیر اور سپیشلسٹ کیڈر سے ہے جبکہ متاثرہ ڈاکٹرز مختلف شعبوں کے میڈیکل آفیسرز، منیجمنٹ کیڈر ڈاکٹرز، پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسرز اور، ہاؤس آفیسرز ہیں اور اب تک ایک ڈاکٹر، پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید صاحب شہید ہو چکے ہیں جسکی وجہ مناسب کٹس کی قلت ہے تاہم ڈا کٹرز اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بکوبی نبھا کر اپنے جانوں کے نظرانے پیش کر رہے ہیں ینگ ڈاکٹرز کے عہدیداران نے اخباری بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی تر جمان کے مطابق وافر مقدار میں کٹس مہیا کیئے جا رہے ہیں لیکن حقیقتا کٹس موجود نہیں جسکی جانچ پڑتال ضروری ہے تا کہ زمہ داران کا تعین ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بازاروں میں AC اور دیگر صلعی انتظامیہ کے نمائندے N 95 ماسک میں گھوم رہے ہوتے ہیں لیکن ہسپتالوں کے کٹس میں اکثر N95 ماسک اور فیس شیلڈ نہیں ہوتے جو کہ حفاظتی کٹس کا اہم ترین جز ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کٹس اور ماسک کے زخیر اندوزوں کو پکڑنے میں ناکام ہو چکی ہے یا قصدا نکھیں بند کی ہوئے ہیں،کٹس اور ماسک مہنگے داموں بک رہے ہیں لیکن کوء پوچھنے والا نہیں اور ذجیرہ اندوزوں نے کٹس اور ماسکس کا کاروبار آن لائن ویب سائیٹس پر شروع کیا ہوا ہے، جس کے ا شتہارات فیس بک پر چل رہے ہیں جس پر ضلع اور سول انتظامیہ کی خاموشی مجرمانہ غفلت ہے۔انہوں نے کہا کہ کٹس کی کمی پوری کرنے کیلئے ینگ ڈاکٹرزاپنی مدد اپپ کے تحت ڈاکٹرز سے چندہ اکٹھا کر کے اور متعدد غیر سرکاری سماجی تنظیموں سے رابطہ میں ہے اور اب تک ینگ ڈاکٹرز سینکروں کٹس تقسیم کر چکے ہے ینگ ڈاکٹرز نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا او ر صوبائی وزیر صحت سیمطالبہ کیا ہے کہ ضلعی اور سول انتظامیہ کو زخیرہ اندوزوں کیخلاف حرکت میں لائیں اور کٹس کی فراہمی کو یقینی بنائیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -