"کیا سیاسی عہدہ لینے کا مطلب سیاست میں آنا سمجھاجائے؟"سہیل وڑائچ کے سوال پر جنرل (ر)عاصم باجوہ نے کیا جواب دیا؟ جانیے

"کیا سیاسی عہدہ لینے کا مطلب سیاست میں آنا سمجھاجائے؟"سہیل وڑائچ کے سوال پر ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیئر صحافی و کالم نگارسہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل(ر)عاصم سلیم باجوہ نے وزیراعظم کے مشیر اطلاعات کا عہدہ  بنا کسی تنخواہ یا اضافی مراعات کے قبول کیا ہے اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ سیاست میں بالکل دلچسپی نہیں رکھتے۔

بی بی سی کیلیے لکھے اپنے کالم میں سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ رحیم یار خان کے جاٹ کاشت کار گھرانے میں پیدا ہونے والے عاصم سلیم باجوہ کی زندگی کا بیشتر حصہ تو فن سپہ گری میں گزر گیا۔ فوجی ملازمت سے ریٹائرڈ ہوئے تو سٹریٹیجک انتظامی عہدے سی پیک کے چیئرمین ہو گئے، اب وہ وزیر اعظم کے مشیر برائے اطلاعات بھی مقرر ہو چکے یوں زندگی میں پہلی بار وہ خالص سیاسی عہدے پر کام کریں گے۔فوج اور سیاست کے نظام کار میں اس قدر فرق اور تضاد ہے کہ فوج سے سیاست کے میدان میں آنے والے ذہین ترین جنرل اعظم خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل بھی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق اسی اندیشے کے پیش نظر میں نے جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے سوال کیا کہ کیا سیاسی عہدہ لینے کا مطلب سیاست میں آنا سمجھا جائے تو انھوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انھوں نے یہ عہدہ بغیر تنخواہ اور مراعات کے اعزازی طور پر لیا ہے اور باوجود پیشکش کے انھوں نے مشیر کے عہدے کو وزیر کے برابر کا نوٹیفیکیشن بھی نہیں کروایا۔

کالم نگار کے مطابق جنرل (ر)عاصم باجوہ کا  کہنا تھا کہ وہ وزارت اطلاعات کو 21 ویں صدی کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اس حوالے سے پہلے سے تجربہ رکھتے ہیں اس لے انھیں امید ہے کہ وہ میڈیا اور حکومت کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گے اور ساتھ ہی ساتھ میڈیا کے معاشی زوال کو روک کر اسے کھڑا کرنے کی کوشش کریں گے۔

سہیل وڑائچ نے لکھا کہ جنرل عاصم سلیم باجوہ فوج کے ترجمان رہے، سدرن کمانڈ کے کور کمانڈر رہے اور اس سے پہلے صدر مشرف کے اے ڈی سی بھی رہے۔ انھوں نے تینوں مختلف النوع کردار انتہائی خوش اسلوبی سے نبھائے۔ان کی شخصیت کی ہمہ رنگی دیکھیے کہ چار مختلف مزاج فوجی سربراہوں جنرل مشرف، جنرل کیانی ، جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ کے ساتھ انھوں نے کام کیا اور ہر ایک کے ساتھ پہلے سے بھی زیادہ قریب رہے۔کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی اسائنمنٹ کے اندر گھس کر اس قدر محنت کرتے ہیں کہ بالآخر کامیاب ہو جاتے ہیں۔

سہیل وڑائچ نے مزید لکھا کہ "میری ذاتی رائے میں انھیں رضا مند کرنے میں عمران خان کی ذاتی کاوش سب سے زیادہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان انتہاؤں کے آدمی ہیں یا کسی کے زبردست مداح ہیں یا زبردست مخالف یا کوئی فرشتہ ہے یا کالا چور۔ ان کے ہاں صرف دو رنگ ہیں کالا یا سفید۔ سرمئی رنگ کو وہ پسند نہیں کرتے ہیں۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ کی میڈیا مینجمنٹ کے وہ زبردست مداح تھے۔ دوسری طرف اپنی میڈیا ٹیم سے وہ بالکل غیر مطمئن تھے۔جنرل عاصم باجوہ سے ملاقاتوں میں میڈیا ہینڈلنگ اور جدید دور کے تقاضوں پر گفتگو ہوئی ہو گی۔ جنرل عاصم سلیم باجوہ جو گڑ سے مر جائے اسے زہر دینے کے قائل نہیں۔ ہوسکتا ہے انھوں نے یہ فلسفہ پیش کیا ہو اور خان اعظم کو یہ سمجھ بھی آ گیا ہو۔

جنرل (ر) باجوہ نے یہ ذمہ داری مشروط طور پرقبول کی۔ ایک تو یہ کہ وہ سی پیک چیئرمین کا عہدہ اور ورکنگ جاری رکھیں گے۔ سیاسی کام وزیر اطلاعات شبلی فراز کریں گے جبکہ جنرل عاصم سلیم باجوہ پس منظر میں رہ کر وزارت اطلاعات کی ری ماڈلنگ کریں گے۔

سہیل وڑائچ کا یہ آرٹیکل بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر موجود ہے ، مکمل کالم پڑھنےکیلئے یہاں کلک کریں۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -