"موبائل فونز اور انٹرنیٹ پر ٹیکسز لگائیں گے تو پھر آپ ڈیجیٹل پاکستان کو بھول جائیں" ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہ تانیہ ایدروس نےخبردارکردیا

"موبائل فونز اور انٹرنیٹ پر ٹیکسز لگائیں گے تو پھر آپ ڈیجیٹل پاکستان کو بھول ...

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک )ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی سربراہ تانیہ ایدروس نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کو صرف ٹیکنالوجی کی خاطر لانا اہم نہیں ہے بلکہ فیصلہ سازی میں ڈیٹا کیسے مدد کر سکتا ہے ، اسے سمجھنا اہم ہے۔وزیرِ اعظم پاکستان کی معاونِ خصوصی برائے ڈیجیٹل کا کہنا ہے کہ ان کی رائے میں پاکستان شاید ایک اور بڑا لاک ڈاو¿ن برداشت نہ کر سکے ، اسی لیے ہمیں سمارٹ لاک ڈاو¿ن کا استعمال کرنا پڑے گا۔

بی بی سی کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ یہ واضح تھا کہ جس طرح کی یہ صورتحال ہے اس میں اگر آپ کے پاس مصدقہ اور ریئل ٹائم ڈیٹا موجود نہیں تو اس وبا کو محدود کرنے کے لیے آپ کا ردعمل مو ثر ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ بات واضح تھی کہ ہمیں حکمتِ عملی کی بنیاد ڈیٹا پر رکھنی ہے ، جلد آپ کو یہ سہولت بھی میسر ہوگی کہ آپ واٹس ایپ پر کسی ڈاکٹر سے بات کر سکیں۔

ان کاکہنا تھا کہ یہ وقت کوئی نئی ایپ وغیرہ متعارف کروانے جیسی شوخ چیزوں کا نہیں۔ہمارے ملک میں آبادی کے 40 فیصد افراد کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ ہمارے لیے موقع ہے کہ ہم اس وقت کو کیسے استعمال کریں اور اپنے ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھا سکیں۔تانیہ کہتی ہیں کہ کوشش ہے کہ فونز سستے کیے جائیں اور انٹرنیٹ کو سستا کیا جائے۔ اگر ہم ان پر ٹیکسز لگائیں گے تو پھر آپ ڈیجیٹل پاکستان کو بھول جائیں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -