کورونا وائرس کے مریضوں کو ملیریا کی دوائی دینے کا انتہائی سنگین سائیڈ ایفیکٹ سامنے آگیا، دو تازہ سائنسی تحقیقات میں انتہائی پریشان کن انکشاف

کورونا وائرس کے مریضوں کو ملیریا کی دوائی دینے کا انتہائی سنگین سائیڈ ایفیکٹ ...
کورونا وائرس کے مریضوں کو ملیریا کی دوائی دینے کا انتہائی سنگین سائیڈ ایفیکٹ سامنے آگیا، دو تازہ سائنسی تحقیقات میں انتہائی پریشان کن انکشاف

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملیریا کی دوا ’ہائیڈروکسی کلوروکوئین‘ کے متعلق خوشخبری سنائی تھی کہ یہ کورونا وائرس پر بہت مو¿ثر ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد مختلف ممالک میں اس دوا کے ٹرائیلز شروع کیے گئے لیکن اس کے مریضوں پر سنگین نقصانات سامنے آنے پر اس کا استعمال ترک کر دیا گیا۔ اب امریکہ میں بھی سائنسدانوں کی دو ٹیموں نے اس دوا کے تجربات کے خوفناک نتائج بتا دیئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف لیون کے سائنسدانوں نے کورونا وائرس کے 90مریضوں اور میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کے ماہرین نے 40مریضوں پر اس دوا کے تجربات کیے۔

نتائج میں ماہرین نے بتایا ہے کہ جتنے مریضوں کو ہائیڈروکسی کلوروکوئین دی گئی ان میں سے 90فیصد دل کے انتہائی سنگین عارضے ’ہارٹ ارتھمیا‘ (Heart arrhythmia)میں مبتلا ہو گئے۔ یہ ایسا خطرناک عارضہ ہے کہ اچانک دل کے دورے کا سبب بن سکتا ہے اور مریض کی موت ہو سکتی ہے۔ سویڈن، برازیل اور دیگر کئی ممالک میں اس وجہ سے کورونا وائرس کے مریضوں کی اموات ہونے کی رپورٹس بھی ماہرین دے چکے ہیں۔ دیگر ممالک کے ماہرین کی طرح ان امریکی ماہرین نے بھی بتایا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین کا کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے فائدہ نہ ہونے کے برابر جبکہ نقصان انتہائی سنگین سامنے آیا ہے چنانچہ انہوں نے اس دوا کا استعمال ترک کر دیا ہے اور باقی ممالک کو بھی یہی ہدایت کریں گے کہ وہ کورونا وائرس کے مریضوں پر اس دوا کا تجربہ مت کریں۔

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -