42 سالہ شخص کو کورونا وائرس، 5 ہفتے بعد بھی ٹیسٹ پازیٹو ہی آتا رہا، ایسا کیس کہ دیکھ کر ڈاکٹر بھی پریشان ہوگئے

42 سالہ شخص کو کورونا وائرس، 5 ہفتے بعد بھی ٹیسٹ پازیٹو ہی آتا رہا، ایسا کیس کہ ...
42 سالہ شخص کو کورونا وائرس، 5 ہفتے بعد بھی ٹیسٹ پازیٹو ہی آتا رہا، ایسا کیس کہ دیکھ کر ڈاکٹر بھی پریشان ہوگئے

  

سنگاپور(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس علامات ختم ہونے کے بعد کتنے دن تک مریض کے جسم میں باقی رہ سکتا ہے؟ سنگاپور سے اس حوالے سے ایسی خبر آ گئی ہے کہ آدمی سن کر ہی پریشان ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق سنگاپور میں ایک ایسا کیس سامنے آیا ہے جس میں مریض کی کورونا وائرس کی علامات ختم ہونے کے 5ہفتے بعد تک اس میں وائرس موجود رہا۔ اس 42سالہ مریض کا نام چارلس پگنل تھا جس میں کورونا وائرس کی تصدیق 4مارچ کو ہوئی اور اسے ہسپتال داخل کیا گیا۔

چارلس میں کھانسی اور بخار کی علامات ظاہر ہوئی تھیں جو ہسپتال داخل ہونے کے دو دن بعد ختم ہو گئیں اور وہ بظاہر صحت مند ہو گیا لیکن اس کے بعد ڈاکٹر پانچ ہفتے تک اس کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرتے رہے اور ہر بار اس کے جسم میں وائرس کی تصدیق ہوتی رہی۔ بالآخر 11اپریل کو اس کا ٹیسٹ منفی آیا۔ تسلی کے لیے ڈاکٹروں نے اسی روز اس کا دوبارہ ٹیسٹ کیا اور جب وہ بھی منفی آیا تو اسے ڈسچارج کرکے گھر بھیج دیا گیا۔ اس مریض کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگرچہ یہ اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے لیکن اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کورونا وائرس مریض کی علامات غائب ہونے کے مہینوں بعد تک بھی اس کے جسم میں موجود رہ سکتا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے صحت مند ہونے والے لوگوں کو بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ علامات غائب ہونے کے بعد بھی ان سے دوسروں کو وائرس لاحق ہو سکتا ہے۔

مزید :

کورونا وائرس -