وزیر اعظم کا دورہ امریکہ مفید یا بے سود

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ مفید یا بے سود
وزیر اعظم کا دورہ امریکہ مفید یا بے سود

  

                                                                        وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے پچھلے دنوں امریکہ کا دورہ کیا ۔دورئہ امریکہ میں چار نکاتی ایجنڈہ پیش کئے جانے کی افواہ کافی عرصے سے حکومتی سطح پر اڑائی جارہی تھی ،جس میں سرفہرست ڈرون حملوں کی بندش،مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پر دباو¿ ڈالنا، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی واپسی ، ایڈ نہیں ٹریڈ اور سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا حصول شامل تھے۔ امریکہ جانے سے قبل میاں نواز شریف میڈیا اور قوم کو مسئلہ کشمیر اور ڈرون حملوں کے خاتمے کا معاملہ اوباما کے سامنے سے بھرپور طریقے سے اٹھانے کا یقین دلا چکے تھے۔ ان دو معاملات پر امریکی نائب صدر جوزف بائیڈن اور وزیرخارجہ جان کیری کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران انہوں نے یہ معاملات ضرور اٹھائے جس پر پاکستانی وزیر اعظم کو کہا گیا کہ ڈرون حملے بند نہیں ہو سکتے۔

 حکومتی حلقوں کی طرف سے واویلا کیا گیا کہ امریکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر بات ہوئی ۔ سب سے پہلے تو یہ کہ امریکہ پہنچنے کے بعد نواز شریف امریکی وزیر خارجہ سے بات کرنے خود تشریف لے گئے۔ وہ ایک ملک کے وزیر اعظم ہیں ،کیا انہیں یہ زیب دیتا تھا کہ وہ ایک وزیر خارجہ سے ملاقات کے لئے خود جائیں ، پھر اوباما سے ان کی ملاقات 3دن بعد کرائی گئی۔ اگر اوباما پاکستان آتے تو کیا ان کی پاکستانی صدر اور وزیراعظم سے ملاقات تین روز بعد ہوتی اور اس کا استقبال گریڈ 20کا افسر کرتا ۔جب بھی کسی ملک کا سربراہ دوسرے ملک میں جاتا ہے تو اس کو وفد سمیت سرکاری ڈنر دیا جاتا ہے ،مگر امریکیوں نے ڈنر نہ دے کر یہاں بھی ہماری بے عزتی کی ۔

جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے تو پاکستان کو توقع تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے گا ،مگر امریکیوں نے مسئلہ کشمیر پر میاں نوازشریف کی بات کو تو کوئی اہمیت ہی نہ دی، البتہ اس کے برعکس بھارت کی وکالت کرتے ہوئے ممبئی حملوں کے ملزم بھارت کے حوالے کرنے پر زور دیا۔ حافظ سعید اور جماعت الدعوہ پر پابندی لگانے کی بات کی۔ یہ مطالبات تو بھارت کے تھے جو امریکہ نے پاکستانی وزیراعظم کے سامنے رکھے۔ جماعت الدعوہ اور حافظ سعید امریکہ کو کسی معاملے مطلوب ہیں نہ ہی ان پر اس دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی الزام ہے، جس دہشت گردی کے خلاف امریکہ جنگ لڑ رہا ہے۔ جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے تو امریکی حکام، خصوصی طور پر اوباما نے ڈرون پر بات سننے ہی سے انکار کر دیا۔ نواز شریف مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ کہتے رہے کہ ڈرون حملوں پر بات چیت ہوئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مشترکہ اعلامیہ میں اس کا ذکر ضرور ہوتا۔ نوازشریف اوباما سے ملاقات سے قبل اور ملاقات کے بعد ڈرون حملوں کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف قرار دیتے رہے، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ ڈرون حملے پاکستانیوں کے تحفظ کے لئے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ اوباما نوازملاقات میں عافیہ صدیقی کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔

وزیراعظم نوازشریف کہتے ہیں کہ انہوںنے اوباما سمیت امریکی قیادت کو باور کرایا کہ ہمیں ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیے، حالانکہ وہ امریکہ کی پاکستان کے لئے فوجی اور اقتصادی امداد کے روکے گئے 1.6بلین ڈالر قبول کر چکے تھے۔ اوباما نے 300ملین ڈالر کی فوجی امداد بحال کرنے کی کانگریس کو تاکید کی ہے۔ یہ رقم بھی پاکستان کو جلد مل جائے گی۔ ان دونوں مدوں میں دی جانے والی امداد کوتو وزیراعظم صاحب نے قبول کر لیا۔حکومتی سطح پر دورے کی کامیابی کے جتنے بھی دعوے کئے جائیں، درحقیقت یہ دورہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ وزیراعظم کی ملکی وقارکے منافی اس بیان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ ہمار اپنا گھر درست نہیں۔ امریکہ میں جا کر ایسا اعتراف کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اپنے گھر کو خود آپ نے درست کرنا ہے، امریکہ نے نہیں، اس کو خود درست کریں۔

مختلف سیاسی و دینی جماعتوں کی طرف سے دورئہ امریکہ کو ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ملاقات میں امریکہ نے اپنے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق بات کی۔ اوباما نے نواز شریف سے دہشت گردی پر کھل کر بات کی۔ اوباما بھارت کی ترجمانی کا حق ادا کرتے رہے۔ وزیراعظم کو سخت موقف اختیارکرتے ہوئے امریکہ سے اپنے مطالبات منوانے پر زور دینا چاہئے تھا۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ جس طرح وزیراعظم نواز شریف اپنے ساتھ مطالبات کی ایک بڑی لسٹ لے کر گئے تھے ،ان میں سے بظاہر کسی بھی مطالبے پر ان کو رعایت نہیں مل سکی۔ طالبان سے مذاکرات کے تناظر میں ڈرون حملوں پر امریکہ کی طرف سے عارضی ریلیف بھی مل جاتا، یعنی کچھ وقت کے لئے حملے روک دئیے جاتے تو اس سے حکومت کے ہاتھ مضبوط ہوتے اور وہ طالبان سے باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ شروع کرتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، جس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے امریکہ اس خطے میں پائیدار امن نہیں چاہتا۔ نواز شریف نے اپنا مقدمہ ضرور پیش کیا، لیکن اس کے بدلے میں انہیں وہاں سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ تحریک انصاف نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا موجودہ دورئہ امریکہ ملک کے سابق حکمرانوں کے دوروں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا۔ اوباما نے نواز شریف سے ملاقات کے دوران اپنے مفادات سے زیادہ انڈیا کی خواہشات کو سامنے رکھا، جماعت الدعوة اور ممبئی حملہ کیس سے متعلق گفتگو کرکے بھارت کی وکالت کی گئی۔  ٭

مزید : کالم