نواز ،اوباما ملاقات: چند توجہ طلب پہلو

نواز ،اوباما ملاقات: چند توجہ طلب پہلو
نواز ،اوباما ملاقات: چند توجہ طلب پہلو

  

                                                                    وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور صدر امریکہ باراک حسین اوباما کی ملاقات کے بارے میں گزشتہ ایک کالم میں کچھ تفصیلات عرض کر چکا ہوں۔ یہ کالم اس سلسلے میں مزید کچھ گزارشات پر مبنی سمجھ لیں۔ اسے اسی کالم میں شامل کرتا تو کالم کو قسط وار شائع کرنا پڑتا۔ زیر نظر کالم میں ان باتوں کا تذکرہ ہو گا، جن کا پاک امریکہ تعلقات سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ، لیکن یہ اہم بھی ہیں اور غیر متعلق بھی نہیں ہیں۔ ان سے اہل وطن کو باخبر ہونا چاہئے اور حکومتی حلقوں کو ان پر توجہ دینی چاہئے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ایسے دوروں اور ملاقاتوں کی افادیت کو بڑھا بھی سکتی ہیں اور کم بھی کر سکتی ہیں۔ اس کے بعد ایک کالم ”ایڈ نہیں ٹریڈ“ پر لکھوں گا،انشاءاللہ

وائٹ ہاﺅس کی ایک ویب سائٹ ہے، جس پر امریکی صدر کی تصاویر، تقاریر، مصروفیات اور پروگرام وغیرہ دیکھے جا سکتے ہیں۔ صدر اوباما اور وزیراعظم پاکستان کی 23اکتوبر کو ہونے والی ملاقات کے بارے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ عموماً سیکیورٹی کے سلسلے میں حساس ملاقاتوں وغیرہ کا تذکرہ اس ویب سائٹ پر قبل از وقت نہیں ہوتا، لیکن علی الصباح اسی روز اسے ویب سائٹ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس ملاقات کا ویب سائٹ پر نہ ہونا، بلکہ یہ لکھا ہونا: ”No Public Appearance“.... تعجب کا باعث بنا۔ اب جانے یہ امریکہ کی حکمت عملی تھی، وزیراعظم پاکستان کو زیادہ اہمیت نہ دینے کی یا یہ پاکستانی اداروں کی سیکیورٹی کے نام پر کوئی کارروائی تھی۔

وزیراعظم پاکستان نے ملاقات سے قبل پاکستانی کمیونٹی کے ایک بھرپور اجتماع سے خطاب کیا تھا۔ اس اجتماع میں پاکستان مسلم لیگ(ن) یو ایس اے مہمان بھی تھی اور میزبان بھی تھی، لیکن ان چوری کھانے والے مجنوﺅں میں سے کسی ایک کو بھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ بوقت ملاقات وائٹ ہاﺅس کے باہر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے ساتھ چند لمحے کھڑے ہو جاتے۔ اس سے پاکستان کے ڈرون حملوں کے خلاف قومی موقف کو بھی تقویت ملتی اور جو لوگ یہ مظاہرہ کر رہے تھے، اُن کی بھی حوصلہ افزائی ہوتی۔ اس سے امریکی عوام، حکومت اور امریکی میڈیا کو بھی ایک مثبت پیغام جاتا۔

پاکستان میں موقع بے موقع بیانات جاری کرنے والے عمران خان کی تحریک انصاف یہاں باقاعدہ رجسٹرڈ اور قابل لحاظ تعداد کی حامل ہے، لیکن ڈرون حملوں کی زور شور سے مخالفت کرنے کے باوجود یہاں تحریک انصاف کا بھی کوئی بندہ بشر نظر نہیں آیا۔ اس سے بھی زیادہ تعجب انگیز یہ بات ہے کہ ”واشنگٹن پوسٹ“ نے جن پرانے انکشافات کو دوبارہ شائع کیا اور جو اُس حکومت کے بارے میں ہیں، جس کے ساتھ عمران خان بھی شامل تھے، عمران خان اس پر بھی موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں پرویز مشرف دور کی ڈرون حملوں کی اجازت یا روایت کو برقرار رکھا۔ امریکی دستاویزات کو سچ مانا جائے خواہ سید یوسف رضا گیلانی کی تردید کو، اس سے یہ حقیقت تو نہیں بدلتی کہ اس حکومت نے ڈرون حملوں کو بند کرانے کے لئے کوئی سنجیدہ عملی کوشش نہیں کی۔ شکر ہے اب پیپلزپارٹی ان ڈرون حملوں کے خلاف بات کر رہی ہے۔ خواہ اپنی حریف جماعت کی حکومت کو مشکل میں ڈالنے کے لئے ہی سہی۔ امریکہ میں پاکستان پیپلزپارٹی یو ایس اے بھی قدیم ترین اور مضبوط تنظیم ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جس طرح ایک زمانے میں مسلم لیگ(ن) یو ایس اے اور پاکستان پیپلزپارٹی یو ایس اے پرویز مشرف کے خلاف مشترکہ مظاہرے کرتی تھیں، اس موقع پر ڈرون حملوں کے خلاف اِسی طرح کاندھے سے کاندھا ملا کر کھڑی نظر آتیں۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس وقت کوئی فرم یا کوئی ادارہ ملک کی لابنگ کا کام کر رہا ہے یا نہیں، لیکن امریکی صدر سے کوئی بات منوانا تب تک ممکن نہیں ہے، جب تک کانگریس میں اس کے لئے حمایت حاصل نہ کی جائے۔ پاکستان کی طرف سے ایسی کوئی کوشش نظر نہیں آئی، کیونکہ پاکستان کے موقف کے حق میں کسی سینیٹر یا کانگریس مین کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

ہمارا سفارت خانہ، بلکہ بغیر سفیر کے سفارت خانہ بھی اس سلسلے میں پاکستان کے متفقہ قومی موقف کو اُجاگر کرنے میں ناکام نظر آیا۔ ایسے مواقع پر میڈیا کی مدد حاصل کی جاتی ہے اور مختلف اطراف سے اپنے نقطہ نظر کو براہ راست اور بالواسطہ میڈیا میں اجاگر کیا جاتا ہے۔ ”واشنگٹن پوسٹ“ کی طرف سے وکی لیکس کے پرانے انکشافات کو اس موقع پر شائع کرنے کے پیچھے یقینا کسی نہ کسی لابی کا ہاتھ ہو گا۔ یہ محض امریکی موقف کو تقویت پہنچانے کی حب الوطنی پر مبنی کوشش نہیں تھی۔ پاکستانی سفارت خانہ اور کچھ نہیں تو کم از کم کمیونٹی کو تو یہ پیغام دے سکتا تھا کہ وہ ڈرون حملوں کے مخالفین کا ساتھ دیں۔ اس موقع پر موجود پاکستانی میڈیا نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کرنے والے چند افراد پر کوئی توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ شاید وہ شرما رہے ہوں گے کہ دو تین لوگوں کا ذکر کر کے شرمسار ہونے سے بہتر ہے، ان کا کوئی تذکرہ ہی نہ کرو، حالانکہ تعداد کی بجائے وہ”کاز“ پر توجہ دیتے تو بہت کچھ کہا، سنا اور لکھا جا سکتا تھا.... اور نہیں تو اس کم تعداد کو شرمندہ تو کیا جا سکتا تھا۔

دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں سے یہ شکایت عا م ہے کہ پاکستان کے قومی تشخص کو ابھارنے ، پاکستان کے قومی نقطہ نظر کو اجاگر کرنے، پاکستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ تنازعات وغیرہ پرکوئی توجہ نہیں دیتے۔ یہ یا تو پاکستان سے آنے والوں کا استقبال کرتے ہیں، انہیں قیام کرنے کی سہولتوں کے ساتھ ”خصوصی سہولتیں“ فراہم کرتے ہیں یا پھر پاسپورٹ جاری کرتے اور ویزے لگاتے ہیں، حالانکہ اس کے لئے سفارت خانے کی کیا ضرورت ہے۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں امریکہ کے دورے کے دوران سرتاج عزیز اور کئی دوسرے اعلیٰ حکام کی سفارت خانوں کی کارکردگی کی جانب دلائی تھی، انہوں نے اس سے اتفاق کیا تھا کہ پاکستانی سفارت خانوں کی کارکردگی دنیا بھر میں مایوس کن ہے اور اصلاح احوال کی یقین دہانی کرائی تھی، لیکن یہ دور رہا، نہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت رہی اور نہ وہ یقین دہانیاں رہیں۔ تیسرے دورِ حکومت کے آتے آتے یا تو یہ یقین دہانیاں بھول بھال گئیں یا پھر سمجھ لیا گیا کہ پرویز مشرف اور آصف علی زرداری ادوار میں سفارت خانوں کی کارکردگی مثالی ہو گئی ہے، جس کا ایک مظاہرہ وزیراعظم کے اسی دورے میں دیکھنے کو مل گیا۔

وزیراعظم پاکستان اور صدر امریکہ کی ملاقات کے دوران وائٹ ہاﺅس کے سامنے کم از کم چالیس پچاس مرد و زن پرویز مشرف کی رہائی کے لئے بینر لئے کھڑے تھے۔ یہ اُس روز وائٹ ہاﺅس کے سامنے مظاہرہ کرنے والوں کی سب سے بڑی تعداد تھی، جو مختلف امریکی ریاستوں سے آئی تھی یا لائی گئی تھی۔ پرویز مشرف کے دور حکومت میں اُن کی تعداد پرویز مشرف کے خلاف مظاہرے کرنے والوں سے کبھی زیادہ نہیں ہوئی تھی، مخالفین انہیں بہت ”ٹف ٹائم“ دیا کرتے تھے، لیکن اس موقع پر اُن کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) یو ایس اے کو اگر یہ ٹاسک دیا جاتا یا خود ان میں شعور ہوتا تو وہ پاکستان پیپلزپارٹی یو ایس اے اور دیگر پاکستانی تنظیموں کو ساتھ شامل کر کے ڈرون حملوں کے خلاف ایک موثر اور قابل توجہ مظاہرہ کر سکتے تھے۔ وائٹ ہاﺅس کے باہر ایک دو گوری خواتین کے ساتھ چار پانچ افراد بلوچستان میں بلوچوں کی آزادی کے لئے بھی مظاہرہ کر رہے تھے۔گوری خواتین کی موجودگی کا مطلب یہ تھا کہ ان کے پیچھے کسی امریکی این جی او کا ہاتھ تھا، کیونکہ یہ گوری خواتین ”گرین کارڈ“ کے حصول کا ذریعہ دکھائی نہیں دیتی تھیں۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے وطن واپس پہنچ کر گھر کو ٹھیک کرنے کی بات کی ہے، ہو سکتا ہے گھر کی خرابی کے کچھ الزامات محض الزامات ہی ہوں، لیکن بہرحال گھر کو ٹھیک کرنا اور ٹھیک رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر وہ اس ٹھیک کرنے میں یہ بھی شامل کر لیں کہ سفارت خانوں کو بغیر سفیر کے رکھنا بھی ایک خرابی ہے، سفارت خانوں کو فعال بنانا انہیں قومی امور اور قومی نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور پھر اس سلسلے میں ان کی کارکردگی کو جانچنا بھی گھر کو ٹھیک کرنے کا ایک حصہ ہے۔ گھر کو ٹھیک کرنے کے بڑے بڑے معاملات اور طاقت ور اداروں کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اگر یہ بھی ہو جائے کہ ایسے دوروں کے لئے مربوط منصوبہ بندی اور مناسب لابنگ ہونی چاہئے۔ صدر سے ملاقات سے پہلے ہم خیال کانگریس مینوں سے ملاقاتیں ہونی چاہئیں۔ میڈیا پر کام ہونا چاہئے اور بیرون ملک پاکستانیوں، بالخصوص اپنی سیاسی جماعتوں کی ان ممالک میں تنظیموں کو باقاعدہ ٹاسک دینا بھی گھر کی اصلاح میں شامل کر لیا جائے اور سب سے اہم یہ کہ گھر کی اصلاح گھر سے چلتے وقت کر لینی چاہئے، واپسی پر گھر کی اصلاح وہ مُکہ ہے، جو جنگ کے بعد یاد آئے تو اپنے ”تھوبڑے“ پر رسید کرنے کے سوا اس سے کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔

مشتے کہ بعد از جنگ یاد آید برکلہّ خود باید رسید

( اشرف قریشی لاہور کے متعدد اخبارات سے وابستہ رہے ہیں۔ ہفت روزہ ”تکبیر کراچی“ کے نمائندے بھی رہے۔ اس وقت نیویارک میں مقیم ہیں اور ہفت روزہ ”ایشیا ٹربیون“ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں۔)  ٭

مزید : کالم