طالبان کمانڈر ی ہلاکت سے مزاکراتی عمل متاثر ہوگا

طالبان کمانڈر ی ہلاکت سے مزاکراتی عمل متاثر ہوگا

             پشاور (سلیم غیاث سے) ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی دو نائب کمانڈوں سمیت ہلاکت کے بعد حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات سوالیہ نشان بن گیا ہے اور اس سے جاری مذاکراتی عمل کو دھچکاپہنچے گا جس کے نتیجے میں امکان یہ ہے کہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوں ڈرون حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا جب حکومت اور طالبان میں جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت متوقع تھیگوکہ سرکاری طور پر حکیم اللہ محسود کے مارے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی تاہم طالبان ذرائع نے تحریک طالبان کے امیر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اب چونکہ مذاکرات کیلئے آمادہ ایک اہم فریق زندہ نہیں رہا لہذا خدشہ یہ ہے کہ امن مذاکرات اب نہ ہو بلکہ اس واقعہ کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات فورسز اور سرکاری تنصیبات پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے حکیم اللہ محسود پر پہلے بھی ڈرون حملہ ہو چکا ہے تاہم وہ اس میں بچ نکلااب عام تاثر یہی ہے کہ پاکستان میں جب بھی قیام امن کیلئے کوئی کوشش ہوتی ہے تو اسے ڈرون حملوں کے ذریعے ناکام بنا دیا جاتا ہے ۔ 

مزید : صفحہ اول