سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ،زیادہ روشن خیالی کی فتح

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ،زیادہ روشن خیالی کی فتح
 سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ،زیادہ روشن خیالی کی فتح

  

اس مرتبہ بھی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر گروپ کو فتح حاصل ہو گئی اور اس گروپ کے حمائت یافتہ امیدوار جیت گئے ۔صدر کے لئے کامران مرتضٰی امیدوار تھے ،ان کو 1032 ووٹ ملے اور ان کے مد مقابل حامد خاں گروپ کے امیدوار امان اللہ کو کزرانی کو 874ووٹ حاصل ہوئے ،عا صمہ گروپ اور امان اللہ گروپ کے نظریات میں زیادہ فرق تو نہیں اس کے باوجود عاصمہ جہانگیر کی قیادت کے باعث اس گروپ کو روشن خیال تصور کیا جاتا ہے اور حالیہ دنوں میں وکلاءکے اندر ”جو ڈیشل ایکٹوازم “ کے حوالے سے جو بحث چلی اس میں بھی عاصمہ گروپ زیادہ فعال تھا جبکہ حامد خاں گروپ اس کے حق میں ہے بھر حال عاصمہ گروپ کی کامیابی کو روشن خیال تصور کیا جا رہا ہے اور یہ احساس اجاگر ہو رہا ہے کہ وکلاءمیں انتہا پسندی کے خلاف ردعمل بڑھ رہا ہے

دوسری جانب حکومتی ادارے عوام پر مہر بانیوں کا بوجھ لادنے سے باز نہیں آتے اب اوگرا نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہے اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں ردبدل کر کے پٹرول کے نرخ 48پیسے فی لٹر کم کردیے ہیں اس سے تو ان تمام رپورٹروں کے اندازے اور خبریں مات کھا گئیں جو 2.48روپے کی کمی کا شردہ سنا رہے تھے اب لوگ اس پر ہنستے ہیں تو اس میں کس کا قصور ہے کہ اس حکومت کے دور میں تین بار نرخ برھائے گئے نئے ٹیکس لگائے گئے اور پھر مختلف محکموں سے ملازمین کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا گیا ۔ملک کو ایک فلاحی مملکت بنانے کا دعوٰی کرنے والی جماعت سے لوگ مایوس ہوئے ہیں اور ایسے مین جب اوگرا 48پیسے فی لٹر کرنے کا شردہ سنائے تو ردعمل کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے بہر حال بجلی کے صارفین کو خوشخبری کے نام سے بھی ایک خبربتائی گئی ہے کہ نیپرا نے صارفین کو ان سے فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر وصول کی گئی رقم میں سے 35 ارب روپے واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔صارفین کو یہ رعا یت یکمشت نہیں گیارہ اقساط میں دی جائے گی جسے پھیلا کر 21پیسے 62پیسے اور 64پیسے فی یونٹ کے حساب سے سابقہ بلوں کی مد میں ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے نئے بلوں میں منہا کر دیا جائے گا یوں اربوںکے حساب سے بڑھائے جانے والے نرخوں کے بعد جو بل لوگوںکو وصول ہوں گے ان میں یہ تھوری سی ریلیف ہو گی جو اونٹ کے منہ زیرہ ہ کے برابر ہے عوام اس سے قطعی متاثر نہیں ہوئے کہ ان کو جا مسائل درپیش ہیں وہ ان سے بڑے ہیں ،مہنگائی بہت بڑھ چکی ہے اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے امن و امان کی صورتحال پتلی ہے حالات یہ ہیں کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد کھو سہ کہتے ہیں ان کو غیر ملکی ایجنسیوں کے ذریعے دھمکیاں مل رہی ہیں اور خود چیف جسٹس افتخار چوہدری کا کہنا ہے کہ کراچی میں سمگلنگ اور اسلحہ کی آمد نے حالات کو خراب اور ابتر کر دیا ہے اگر صورتحال یہی رہی تو کراچی سے ہاتھ دھونا پڑیں گے ان حالات میں حکومت سر توڑ کو شش کر رہی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے ذریعے امن کا کوئی راستہ نکل آئے اور دہشت گردی ختم ہو اس سلسلے میں خوش قسمتی سے حکومت کو تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کی حمائت حاصل ہے اور یہاں تک چھٹی دی گئی کہ بلاشبہ حکومت مذاکرات کے ذرائع اور مذاکرات کے اولین نتائج اپنے تک محدود رکھے شائد اس صورتحالنے چوہدری نثار علی خان کا سر زیادہ ہی بلند کر دیا ہے کہ وہ سینٹ کے اجلاس میں پارلیمانی روایات سے بھی گریزاں ہیں حالانکہ کہ وہ خود قائد حزب اختلاف رہے اور پانچ سال تک تنقید کا ایسا حق استعمال کرتے رہے جو ناگوار ہو نے کے باوجود گوارا کر لیا جاتا تھا ،وزیر اطلاعات پرویز رشید اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے درست کہا پرویز رشید کا کہنا کہ سیاست میں دروازے بند نہیں کیے جاتے اور خورشید شاہ معاملہ نمٹانے میں تعاون کریں جبکہ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ چوہدری نثار خود بھی قائد حزب اختلاف رہے ہیں ان کو یہ احساس کرنا اور خود پر کنٹرول کرنا چاہئے

یہ صورتحال زیادہ بہتر نہیں جبکہ ملکی حالات اور مسائل یہ تاثر پیدا کر رہے ہیں کہ یہاں صوبائی حکومتیں ہوں یا وفاقی حکومت سب ناکام ہیں اور انارکی سی کیفیت ہے جو بڑھی تو اور بھی زیادہ نقصان دہ ہو سکتی ہے حکومت کو امن قائم کرنا ہے تو تعاون حاصل کرنا اور اتفاق رائے پیدا کرنا بھی اسی کا فرض ہے قامی اتفاق رائے مسائل کا حل ہے چوہدری نثار کو اس پر غور کرنا چاہیے ۔اس امر پر تو سب ہی متفق ہیں کہ ڈرون حملوں کا مقصد حکومت کے تحریک طالبان سے مجوزہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنا ہے اور چونکہ ڈرون امریکی ہیں اس لئے یہ کارروائی بھی امریکہ ہی کی طرف سے ہے اور مطلب یہ ہوا کہ امریکہ ان مذاکرات کا حامی نہیں،لیکن جو بات نہیں کی جارہی وہ یہ ہے کہ تحریک طالبان کے اجلاس کے مقام اور وقت کا علم ڈرون حملوں کے مرکز کو کیسے ہوا ،ٹیکنالوجی سے واقف حضرات جانتے ہیں کہ ڈرون کا سارا نظام کمپیوٹرائیزڈ ہے اور اس کے میزائل نشانے کے لئے ہدف پر کمپیوٹر چپ رکھنا لازمی ہے اور یقینا یہ کام خود تحریک طالبان میں موجود کسی ایسے تجربہ کارکا ہے جو امریکہ سی آئی اے کے ہاتھوں بکا ہوا ہے ۔اب ایسے شخص کی تلاش ہوگی کہ وہ کون ہے جس نے چپ رکھی اور حکیم اللہ محسود کی موت کا ذریعہ یا سبب بنا،فی الحال اس واقعہ کے اثرات پر حتمی رائے سے گریز ضروری ہے یہ امکان نظر انداز نہ کریں کہ اس حملے کے جواب میں ردعمل سخت تو ہو لیکن امریکہ کی منشاءکے خلاف مذاکرات کی صورت میں ہو۔

تجزیہ

    

مزید : تجزیہ