تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ساتھیوں سمیت سپرد خاک ،خالدسجنا نئے امیر مقرر، ملک بھر میں ہائی الرٹ

تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ساتھیوں سمیت سپرد خاک ،خالدسجنا نئے ...

حملے میں حکیم اللہ محسود کی اہلیہ سمیت دوخواتین بھی جاں بحق، رات تین بجے تدفین کردی گئی، قبائلیوں نے ڈرون پرفائرنگ کی: غیرملکی میڈیا

تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ساتھیوں سمیت سپرد خاک ،خالدسجنا نئے امیر مقرر، ملک بھر میں ہائی الرٹ

  

میرانشاہ(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ڈرون حملے میں مارے جانیوالے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود،اُن کی اہلیہ اور دیگر” ساتھیوں “کو رات گئے میرانشاہ میں نامعلوم مقام پر سپردخاک کردیا گیا ہے اورحکیم اللہ کی جگہ پر خان سید عرف خالد سجناکو نیا امیر مقررکردیاگیاہے جنہیں نسبتاً کم تشدد پسند سمجھاجاتاہے اوروہ پاکستان سے بات چیت کاحامی اور ملک کے اندرکارروائیوں کے خلاف ہے۔اس حملے میں ٹی ٹی پی کے تین اہم کمانڈروں سمیت 20سے زائد طالبان مارے گئے ہیں ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق حکیم اللہ محسود کی گاڑی میں پہلے سے ہی ڈرون کی چپ نصب تھی جو طالبان ہی میں سے کسی نے چپکائی تھی۔ حکومتی ذرائع نے بتایاکہ امریکی ڈرون حملے اور طالبان قیادت کی ہلاکت کے بعد مذاکرات کے لیے جانیوالے تین رکنی حکومتی وفد کو جانے سے روکدیاگیاہے ۔ ملک بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے جبکہ قبائلی علاقوں میں بدستور امریکی ڈرون طیاروں کی پروازیں جاری ہیں ۔تحریک طالبان جنوبی وزیرستان کے ترجمان مولانا اعظم طارق نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ نئے امیر کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا تاہم دو تین روز میں شوریٰ کے اجلاس میں نئے امیر کافیصلہ کر لیا جائُے گا۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات میرانشاہ کے علاقے ڈانڈے درپہ خیل میں امریکی جاسوس طیارے نے حکیم اللہ محسود کے گھر میں اُن کی گاڑی کو نشانہ بنایاجس کے نتیجے میں گاڑی تباہ ، اُس میں سوار افراد جاں بحق اور گھر کا ایک حصہ جزوی طورپر تباہ ہوگیا۔ بتایاگیاہے کہ حملے کے وقت شمالی وجنوبی وزیرستان ، اورکزئی ایجنسی اور مالاکنڈ ایجنسی کے طالبان اکٹھے تھے اور حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے طالبان شوریٰ کا اجلاس جاری تھا۔ حملے میں حکیم اللہ محسود کے چچا، ڈرائیور اور قریبی ساتھی طارق محسودسمیت 20سے زائد طالبان مارے گئے جنہیں رات کی تاریکی میں ہی دفن کردیاگیاہے ۔غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور مزید ڈرون حملوں کے خدشے کے پیش نظر تمام افراد کی رات تین بجے تدفین کردی گئی ہے ، مارے جانیوالے افراد میں حکیم اللہ محسود کی اہلیہ سمیت دوخواتین بھی شامل تھیں ۔ خبرایجنسی کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے ردعمل میں قبائلیوں نے ایک گھنٹے تک ڈرون طیارے پر فائرنگ بھی کی لیکن ڈرون طیارہ بچ نکلا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نامعلوم مقام پر ہونیوالے طالبان شوریٰ کے اجلاس میں سید خان عرف خالدسجنا کو متفقہ طورپر امیر نامزدکردیاگیاہے ۔افغان جہاد میں حصہ لینے اور پرانے کارکن خالدسجنا کو حکیم اللہ محسود کا قریبی ساتھی اور دست راست سمجھاجاتاہے ۔خان سید عرف خالدسجنا نے طالبان شوریٰ کے 60ووٹوں میں 43حاصل کرکے واضح اکثریت حاصل کرلی۔ بتایاگیاہے کہ ولی الرحمان کی ہلاکت کے بعد خالدسجنا اور حکیم اللہ محسود میں تعلقات کچھ اچھے نہیں تھے لیکن ٹی ٹی پی کاقیام محسود قبائل کی وجہ سے عمل میں آیاتھا اور خان سید ہی وہ واحد لیڈرتھاجس کا محسود قبائل پر اثرورسوخ ہے اور وہ پاکستان کے اندرکارروائیوں کے بھی خلاف ہیں ۔ اجلاس میں مہمندایجنسی کے امیر عمرخالد خراسانی ، مالاکنڈکے ملافضل اللہ اور جنوبی وزیرستان کے خان سید عرف خالد سجناکے ناموں پر غورکیاگیا۔طالبان ذرائع نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ گاڑی میں پہلے سے ڈرون چپ نصب تھی جو طالبان کے اندر سے ہی کسی نے چپکائی تھی تاہم ہلاکت کا باضابطہ اعلان نہیں کیاگیا۔سیکیورٹی ذرائع نے بھی حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی تصدیق کردی تاہم امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق یا تردید سے انکار کردیاہے ۔دوسری طرف حملے کے اگلے روز یعنی ہفتہ کو بھی ڈانڈے درپہ خیل سمیت مختلف علاقوں میں ڈرون طیاروں کی پروازیں جاری ہیں ۔ حکومتی ذرائع نے بتایاکہ طالبان سے مذاکرات کے لیے جانیوالے تین رکنی وفد کو روک لیا گیاہے اورکہاہے کہ ڈرون حملہ مذاکرات کی کوششوں کو سپوتاژ کرنے کی کوشش ہے ۔

مزید : وزیرستان /اہم خبریں