حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے بدامنی میں اضافے کا خدشہ ، ڈرائیور کے طورپر کام شروع کیا

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے بدامنی میں اضافے کا خدشہ ، ڈرائیور کے طورپر کام ...
حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے بدامنی میں اضافے کا خدشہ ، ڈرائیور کے طورپر کام شروع کیا

  

پشاور(تجزیہ:رشید احمد صدیقی)کالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ جمعہ کے روز امریکی ڈرون حملہ میں جان بحق ہو گئے ہیں1979میں وزیرستان میں پیدا ہوئے تھے۔ان کا اصل نام جمشید محسود تھا اور ابتدا میں ذولفقار مسعود بھی کہلاتا تھا۔انھوں نے دینی تعلیم ہنگو کے ایک چھوٹے مدرسہ میں حاصل کی جہاں پر ان کے پیش رو بیت اللہ محسود بھی پڑھ چکے تھے۔افغانستان میں مزاحمت کی جنگ میں القاعدہ کے شریک کار کی حیثیت سے شریک رہے اور تحریک طا؛بان پاکستان کے بانی امیر بیت اللہ محسود کے نائب اور معتمد ترین ساتھی رہے۔22اگست2009کو بیت اللہ محسود کے ڈرون حملے مارے جانے کے بعد تحریک طالبان کے امیر بنائے گئے۔ابتدا میںمیاں ولی الرحمان اور ان کے درمیان تحریک کی امارت کے لیے سرد جنگ رہی لیکن انتخاب کے بعد میاںولی الرحمان ان کے نائب کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ان کے بارے میں کم ازکم تین مرتبہ 2010 ءاور2012 ء اعلیٰ سطح پر ڈرون حملوںمیںمارے جانے کی خبریں آئی تھیں ۔یہ اطلاع بھی تھی کہ وہ بری طرح زخمی ہوگئے تھے۔ابتدا میں ڈرائیور کے طور پر انھوں نے بیت ا للہ محسود کے ساتھ کام کیا۔خود کش حملہ آورں کو تربیت دینے کے لیے سب سے زیادہ شہرت رکھنے والے قاری حسین ان کے قریبی عزیز بتائے جا تے تھے۔11مئی کے انتخابات سے قبل ان کی قیادت میں تحریک طالبان نے حکومت پاکستان کو مذاکرات کی پیشکشیں کی اور مولانا فضل الرحمان،نوازشریف اور سید منورحسن کو بطور ضامن مقرر کرنے کی استدعا کی۔موجودہ حکومت کے برسر اقتدارا نے کے بعد مذاکرات کی بات شدو مد سے ہونے لگی۔حکیم اللہ محسود کی جانب سے متعدد مرتبہ مذاکرات کا عندیہ سامنے آیا اس کے باوجود کہ ان کو سخت گیری میں بیت اللہ محسود سے بڑھ کر سمجھا جاتا تھا۔وہ عملی میدان کے سپہ سالار کی حیثیت سے شہرت رکھتے تھے۔میڈیا میں آنے کا بھی کسی حد تک شوق رکھتے تھے،امریکہ نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کر رکھی تھی۔گزشتہ روز کے حملہ میں ان کی ہلاکت کی تصدیق ہونے کی صورت میں شائد مذاکرات کے لیے تیار ہونے والی فضا شکوک و شبہات کی دھول سے اٹ جائے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی ڈرو ن حملوں کے بعد وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اپوزیشن رہنما سید خورشید شاہ، عمران خان،مولانافضل الرحمان اور سید منور حسن سے رابطہ کیا۔ان کی ہلاکت سے ایک طرف امریکہ اور پاک فوج اپنے ایک بڑے مخالف کو ختم کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں تو ودسری طرف پاکستان جو حالت جنگ میں ہے کیلئے امن و مان کے حوالے سے مشکلات میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔تحریک طالبان اور اس کی سرپرست القاعدہ کی کارروائیاں اس نوعیت کی ہیں کہ اسامہ بن لادن اور بیت اللہ محسود کی ہلاکت سے بھی ان کی کارروائیوں کی شدت میں کمی نہیں آئی۔ اس لیے یہ کہنا شائد قبل از وقت ہوگا حکیم اللہ محسود کے چلے جانے سے طالبان کی جدو جہد فوری طور پر کمزور پڑ جائے گی۔

مزید : پشاور /اہم خبریں