امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ ، حکیم اللہ محسود نہیں امن مذاکرات قتل کئے گئے : وزیر داخلہ

امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ ، حکیم اللہ محسود نہیں امن مذاکرات قتل ...
امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ ، حکیم اللہ محسود نہیں امن مذاکرات قتل کئے گئے : وزیر داخلہ

  

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے تحریکِ طالبان کی قیادت پر حملے کو مذاکرات سبوتاژ کرنے کا اقدام قرار دے کر اس سے سلامتی کونسل کو سفارتی انداز میں آگاہ کرنے، کابینہ کی سلامتی امور کی کمیٹی کا اجلاس بلانے، سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے، امریکی سفیر کو طلب کرکے یہ پوچھنے کہ کیا امن مذاکرات کی حمایت کا یہ طریقہ ہے ؟ اور امریکہ سے تعلقات پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے۔ ان فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکیم اللہ محسود کا قتل علاقے میں امن کی کوششوں کا قتل ہے، ڈرون حملے سے مذاکرات کو شدید دھچکا لگا، علاقے میں امن کے عمل پر گولی چلانے کے مترادف اور امن کی کوششوں پر چھپ کر حملہ ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ڈرون حملہ چند افراد کا قتل نہیں بلکہ امن کی کوششوں کا قتل ہے، آج شام چھ بجے طالبان سے مذاکراتی عمل کے آغاز کا اعلان کرنا تھا مگر تازہ ڈرون حملے سے اسے شدید دھچکا لگا، میری دعا ہے کہ یہ دھچکا وقتی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے سب سے بڑی قیمت ادا کی، دہشت گردی کے خلاف جنگ میری جنگ نہیں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ میری جنگ ہے، پاکستان کے تحفظ کی جنگ اپنی جنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی سفیر کے سامنے ڈرون حملوں کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ڈرون حملوں پر پاکستان کے موقف کو سنجیدہ لیا جائے، امریکی سفیر سے کہا کہ ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور امریکی حکام پر واضح کیا کہ مذاکرات کے دوران طالبان پر حملہ نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امن مذاکرات میں نہیں بلکہ ڈرون حملوں کے مکمل خاتمے کی بات کی اور امریکی سفیر پر واضح کیا کہ ڈرون نہ رکے تو تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، وہی فیصلہ کریں گے جو پاکستان کے مفاد میں ہو گا۔ چوہدری نثار نے کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کے دوران ڈرون حملہ نہ کرنے اور طالبان سے مذاکرات کی حمایت کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، کیا حکیم اللہ محسود پر حملہ امن مذاکرات کی حمایت ہے؟ حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنانے کے کئی مواقع آئے، اس وقت حملہ کیوں نہ کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ امریکہ نے کہا تھا کہ اگر حکیم اللہ محسود نظر آ گیا تو اسے نہیں چھوڑیں پر جس پر ان سے کہا کہ حکیم اللہ محسود مذاکراتی فریق کا سربراہ ہے اس پر حملہ قابل قبول نہیں، یہ بہت بڑا واقع ہے لیکن اسلام یہ نہیں کہ اس کا غصہ عوام پر اتارا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عین مذاکرات کے مرحلے پر ڈرون حملہ کیا گیا، یہ حملہ پاکستان نے نہیں کرایا، ڈرون حملے پر امریکی سفیر کو طلب کیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نقصانات اٹھائے اور تحفظات کے باوجود مذاکرات کیلئے حکومت کا ساتھ دیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات کا معاملہ انتہائی حساس ہے، جید علماءنے مذاکرات کیلئے تاریخی کردار ادا کیا جبکہ تمام سیاسی جماعتوں نے سیاست کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کا ساتھ دیا جبکہ حکومت نے بھی مذاکرات کو قومی مشن کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ طالبان کے 50 جھوٹے بڑے گروپ ہیں جن سے مذاکرات کرنے جا رہے تھے، تاخیر کا طعنہ دینے والے یاد رکھیں طالبان سے مذاکرات بچوں کا کھیل نہیں۔

مزید : اسلام آباد /Headlines