پاکستانی سیاست میں تشدد کا رجحان

پاکستانی سیاست میں تشدد کا رجحان
پاکستانی سیاست میں تشدد کا رجحان

  

بلدیاتی الیکشن کے دوران انتخابی مہم خاص طور پر الیکشن کے روز پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں خونیں تصادم کے جو افسوسناک واقعات ہوئے۔ خیر پور سندھ میں دو سیاسی گروہوں کے درمیان مسلح تصادم میں جو 12 ہلاکتیں ہوئیں اسے ہماری قومی سیاست کاالمیہ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اسی بلدیاتی انتخابی مہم کے دوران دوسگے بھائی بھی قتل ہو گئے۔ اس طرح مجموعی طورپر16 ہلاکتیں ہوئیں لاہور اور فیصل آباد میں بھی دو کارکن انتخابی مہم کی نذر ہو ئے۔ ان جانوں کے ضیاع کے علاوہ گجرات ، گوجرانوالہ ، سرگودھا ، سیالکوٹ اور فیصل آباد میں سیاسی کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں 40 سے زائد مختلف جماعتوں کے کارکن زخمی ہوئے درحقیقت سیاست میں تشدد کا رجحان ہمارا کلچر بن چکا ہے جس پر ہمارے سیاستدانوں کو دکھ ہوتاہے اور نہ ہی وہ ایسے تکلیف دہ واقعات پر کسی قسم کی حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ایوب خان کے خلاف تحریک میں جب لاہور میں اے جی آفس کے قریب دو طالب علم جاں بحق ہوئے تو ایوب خان نے خود سے سوال کیا تھا ان کی قوم کے دو طالب عِلم جان سے چلے گئے ہیں کیا وہ اب بھی اس ملک پر حکومت کرنے کے اہل ہیں ۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سیاسی کی عدم برداشت کی بنیاد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ڈالی اور اب عمران خان اور ان کی تحریک انصاف اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ مثلاً بلدیاتی انتخاب سے ایک روزقبل ان کا یہ بیان جس میں انہوں نے (ن) لیگ کو ایم کیو ایم قرار دیا اور بزور طاقت (ن) لیگ کی سیاست کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا وہ سیاست میں انتہا پسندی اور تشدد کو فروغ دینے کے مترادف ہے جس پر عوامی اور سیاسی حلقوں کو حیرت ہوئی کہ عمران خان نے کیونکر پاکستان مسلم لیگ (ن) جیسی قومی جماعت کو ایم کیو ایم قرار دیا یہ عمران خان کی طر ف سے انتہا پسندی کا مظاہرہ تھا۔

سیاسی اور عوامی حلقے اس بات سے اتفاق کریں گے کہ محترمہ کی شہادت کے بعد پاکستان میں آصف زرداری نے مصالحتی سیاست کا آغاز کیا اور پارٹی کے بد ترین دشمنوں سے بھی ہاتھ ملا کر سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اگرچہ رواداری اور مصالحت کی اس سیاست نے پی پی پی کو پنجاب میں بھی خاصا نقصان پہنچایا اور وہ اپنے ووٹ بنک سے بھی محروم ہو گئی جس کا فائدہ بھی پی ٹی آئی کو ہی پہنچا۔

اگرچہ یہ درست ہے کہ عملی سیاست میں بہتر مستقبل کیلئے سخت فیصلے بعض اوقات سیاسی جماعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن ایک درست سمت کا تعین ہونے کے بعد ووٹ بنک واپس اپنی جگہ پر آجاتاہے جیسا کہ گزشتہ روز بلدیاتی الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے پورے سندھ میں کلین سویپ کر کے قومی سیاست میں اپنی شاندار واپسی کا اشارہ دے دیا ہے لہٰذا یہ تصور کرنا کہ پی پی پی پنجاب میں نابود ہو گئی ہے محض خام خیالی ہے مانا کہ اس وقت پی پی پی کو وقتی شکست کا سامنا ہے مگر جس طرح موجودہ بلدیاتی الیکشن میں اسے شاندار کامیابی نصیب ہوئی ہے اس حوالے سے پورے یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ حالات اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے وقتی سیاسی زوال کو ایک بار پھر شاہراہ عروج پر لے جائیگی۔

اس سے بھلا کون انکار کر سکتا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کو قوم کی تفریق کے زمانے میں شدید جبر اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔77 ء کی تحریک میں جب پی پی پی اور پی این اے آمنے سامنے ہو گئے تو فوج نے سول وار کا ہوا کھڑا کر کے بڑی ہوشیاری سے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور اسی بہانے ملک میں تحریر و تقریر اور آزادی صحافت پر پابندی عائد کر دی۔ سیاسی کارکنوں کو سر عام کوڑے مارے گئے جبر و بربریت کا سر عام مظاہرہ کیا گیا۔ جیلیں اور قلعے کارکنوں کامقد ربنے اور پارٹی قائد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا ۔اسی دوران بیگم بھٹو کو لاٹھیاں پڑیں ۔ بے نظیر پابند سلاسل ہوئیں اور مصائب کا ایک طویل دور دیکھنا پڑا۔ یہاں 1977ء اور آج کے واقعات کا تقابل اسی لیے کیا جا رہا ہے کہ عمران خان ہر صورت اقتدار کی خواہش کی تکمیل چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے حصول کیلئے اگر وہ کوئی تحریک شروع کرتے ہیں جس میں پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کے کارکنوں کو صف آرا ہونا پڑا تو نتائج 77ء سے مختلف نہیں ہونگے۔ لہٰذا عمران خان کا (ن) لیگ کو ایم کیو ایم کہنا اس بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان کے جمہوری اداروں کی بساط بھی لپیٹی جا سکتی ہے لہٰذا اس وقت پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اس کے برعکس اگر سیاسی کارکن سڑکوں پرنکل آئے تو سیاسی تشدد کے جن کو بوتل میں بند کرنا مشکل ہو جائے گا۔اگر ملک میں موجودہ عدم سیاسی استحکام کے حوالے سے بات کریں توپاکستان میں پہلے ہی سول سیاسی حکومت مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہے اسے ہر وقت اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا خطرہ رہتاہے اور عالمی سطح پر بھی نواز حکومت کا عمومی یہی تاثر ہے کہ پاکستان میں عملاً دو حکومتیں کام کر رہی ہیں لہٰذا ضرورت اس امرکی ہے کہ پر تشدد راستے اختیار کرنے کی بجائے عمران خان صبر و تحمل کے ساتھ عام انتخابات کا انتظار کریں اپنی توجہ پارٹی اور تنظیمی امور میں مرکوز کریں کیونکہ اس وقت پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کے درمیان بھی اختلافات کی خبریں زبان زد عام ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا انجام بھی تحریک استقلال کے سربراہ جیسا ہو جو 77ء میں اپنی مقبولیت کے بام عروج پر تھے مگر فوج کے ہاتھوں استعمال ہونے کے بعد دوبارہ کبھی مقبولیت حاصل نہ کر سکے۔

یہ بات بھی عمران خان کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ قومی مسائل جوش کی بجائے ہوش سے حل کیے جانے چاہئیں کیونکہ جوش کی آگ جب ایک مرتبہ بھڑک اٹھتی ہے تو اس کے سامنے ہر شخص بے بس ہو کر رہ جاتا ہے اور قومی مسائل کا فیصلہ گلیوں اور چوراہوں میں ہونے لگتا ہے جس میں تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ عمران خان کو بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ قومی سیاست میں مثبت فیصلوں کیلئے بحث و مباحثہ سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہے اور ترقی یافتہ مہذب اقوام نے اسی اصول پر کاربند رہتے ہوئے ستاروں پر کمندیں ڈالیں۔

مزید :

کالم -