دنیا کی پہلی یونیورسٹی جہاں کوئی ٹیچر نہیں، بچوں کو کیسے پڑھایا جاتا ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

دنیا کی پہلی یونیورسٹی جہاں کوئی ٹیچر نہیں، بچوں کو کیسے پڑھایا جاتا ہے؟ جان ...
دنیا کی پہلی یونیورسٹی جہاں کوئی ٹیچر نہیں، بچوں کو کیسے پڑھایا جاتا ہے؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  

سان فرانسسکو(نیوزڈیسک) امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ایک ایسی یونیورسٹی کھول دی گئی ہے جہاں کوئی بھی استاد موجود نہیں ہے۔اس یونیورسٹی کا نا42رکھا گیا ہے جو کہ ای سائنس فنکشن فلم ’گائیڈ ٹو گلیکسی ‘سے لیا گیا ہے جس میں اس سے مراد زندگی کا مطلب ہے۔یہ کالج فرانس کے ایک تعلیمی ادارے کی برانچ ہے جہاں ایک ہزار طالبعلموں کو ایک سال میں سافٹ ویئر اور کوڈنگ کی تعلیم دی جائے گی۔یہ طالبعلم ایک دوسرے کے پر چیک کریں گے اور ایک دوسرے کو نمبر دیں گے۔اس سے پہلے فرانس کے شہر پیرس میں 2013ءمیں شروع کئے جا نے والے ادارے کو بہت پذیرائی ملی تھی۔حال ہی میں اپنی گریجویشن مکمل کرنے والے طالبعلم آئی بی ایم،ایمازون اور ٹیسلا جیسی کمپنیوں میں کام کررہے ہیں۔42کو فرانس کے ارب پتی ٹیک ماہرسیویر نیل نے قائم کی تھی اور یہاں کوئی ٹیوشن فیس اور رہائش کی فیس بھی نہ تھی۔

اتحاد ائیرویز نے پاکستانیوں کیلئے ناقابل یقین پیشکش متعارف کروادی

اس یونیورسٹی کے ذریعے لوگ ایک دوسرے کو تعلیم دیتے تھے اور ایک دوسرے کی مدد ہی سے اپنی تعلیم اور پراجیکٹ مکمل کرتے۔پراجیکٹ مکمل ہونے پر کوئی بھی طالبعلم دوسرے سٹوڈنٹ کا کام چیک کرتا۔سیویرنیل کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے لوگوں کو ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے اور یہ ان کی جیب پر بھی بھاری نہیں ہوتا۔اس کا کہنا ہے کہ استاد سے سیکھنے کی بجائے ساتھیوں سے سیکھنے میں زیادہ آسانی ہوتی ہے اور وہ دوسروں کو سیکھا کر مزید سیکھتا ہے۔دنیا بھر میں اس طرح کے نظام تعلیم کوکافی پذیرائی مل رہی ہے اور لوگ اس کی جانب متوجہ ہورہے ہیں جس میں نہ زیادہ پیسے خرچ ہوتے ہیں اور انسان میں اعتماد بھی آتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس