پرویز رشید نے نوازشریف پر برطانوی شہریت قربان کردی تھی

پرویز رشید نے نوازشریف پر برطانوی شہریت قربان کردی تھی
پرویز رشید نے نوازشریف پر برطانوی شہریت قربان کردی تھی

  

لندن (ویب ڈیسک) برطانوی سیاسی حلقوں بالخصوص پاکستانیوں میں جن کی اکثریت مسلم لیگ ن کے حامیوں پر مشتمل ہے۔ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کی وزارت سے علیحدگی پر افسوس کا اظہار کیا ہے کیونکہ برسوں تک پرویز رشید لندن میں قیام پذیر رہے ہیں۔ لندن میں وہ ایک ٹریول ایجنسی میں ملازمت کرتے تھے اور اگر وہ نواز شریف صاحب کے ساتھ پاکستان واپس نہ آتے اور چند ہفتے لندن میں گزارلیتے تو انہیں برطانوی شہریت مل جاتی۔ جس کے لئے انہوں نے برسوں پہلے اپلائی کیا تھا لیکن انہوں نے خود راقم الحروف سے کہا تھا کہ میں یہاں برطانوی ویزا لینے نہیں آیا بلکہ میرے لیڈر میاں نواز شریف واپس پاکستان جارہے ہیں لہٰذا میںا ن کے ساتھ جاﺅں گا۔ اس طرح برطانوی شہریت انہیں نہ مل سکی جس کے لئے پاکستانی برسوں کوشش کرتے ہیں۔ لندن میں میاں نواز شریف کی سعودی عرب سے آمد کے بعد وہ فل ٹائم سیاست میں میاں صاحب کا ہاتھ بٹاتے تھے اس لئے ملازمت چھوڑی دی۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹر پر براہ راست حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں‎

روزنامہ خبریں کے مطابق پرویز رشید لندن میں کئی برس کرائے کے فلیٹ میں رہے اور اپنے اخراجات چلانے کے لئے ہمہ وقتی ملازمت کرتے رہے۔ لندن کے سیاسی حلقوں میں ان کی ایمانداری اور رزق حلال کمانے کے حوالے سے بڑی دلچسپ باتیں مشہور تھیں اور انہیں سابق سیاستدان ہونے کے باوجود ان کا کوئی گھر تھا نہ روزگار ایسا کوئی ذریعہ اور نہ اتنا بینک بیلنس تھا کہ وہ بغیر ملازمت کے اپنی زندگی گزار سکتے۔ پرویز رشید کے بارے میں لندن کے سیاسی حلقوں میں یہ خیال عام ہے کہ وہ اطلاعات کے وفاقی وزیر نہ ہونے کے باوجو دمسلم لیگ ن کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھیں گے اور توقع ہے کہ انکوائری کے بعد وہ بے قصور پائے گئے تو انہیں دوبارہ یہی وزارت سونپ دی جائے گی کیونکہ وقتی طور پر کام چلانے کے لئے جس خاتون ایم این اے کا انتخاب کیا گیا ہے انہیں مکمل وزیر بنانے کے بجائے وزیر مملکت بنایا گیا ہے تاکہ جب پرویز رشید واپس آجائیں تو ان کی سیٹ خالی رہے۔

مزید : برطانیہ