”ٹٹو، مذہب دشمن، یہ کالیا پکڑاجائے گا“ قابل اعتراض الفاظ نشر کرنے پر چینل کو جرمانہ اور پروگرام کو بند کرنے کیلئے پیمرا کا نوٹس

”ٹٹو، مذہب دشمن، یہ کالیا پکڑاجائے گا“ قابل اعتراض الفاظ نشر کرنے پر چینل ...
”ٹٹو، مذہب دشمن، یہ کالیا پکڑاجائے گا“ قابل اعتراض الفاظ نشر کرنے پر چینل کو جرمانہ اور پروگرام کو بند کرنے کیلئے پیمرا کا نوٹس

  

لاہور (ویب ڈیسک) پیمرا نے قابل اعتراض الفاظ نشر کرنے پر دنیا چینل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے کہ کیوں نہ اس چینل کو دس لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے اور کیوں نہ اس کا پروگرام ”خبر یہ ہے“ بند کردیا جائے۔ اس پروگرام میں شریک گفتگو ہارون الرشید نے مندرجہ ذیل متعصبانہ، غیر ذمہ دارانہ اور غیر پیشہ وارانہ تبصرہ کیا۔

سپریم کورٹ سے نکلتے ہی شیخ رشید نے ایسا اعلان کردیا کہ سب حیران رہ گئے

”پانچ سال سے میں لکھ رہا تھا کہ یہ آدمی ٹھیک نہیں ہے۔یہ Anti Religon ہے، مذہب بیزار ہے۔ مطلب ایک آدمی مذہبی نہیں ہے تو اس کا مائلہ ہے اور چلو ایک آدمی Atheist ہے ہوتا رہے اپنے گھر میں بیٹھا رہے اس میں کیا ہے، مسلم معاشرے نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو برداشت کیا ہے۔ یہ Intolerance اب آئی ہے۔ پاکستان کو مانتا نہیں، قائداعظم کو مانتا نہیں، مذاق اڑاتا ہے قائداعظم کا۔۔۔ دیکھیں وزیراعظم کا کام ہے ان لوگوں کے رکھے معقول مشورہ دیں۔ یہ مشاہد اللہ کسی دن کوئی نہ کوئی پھر تماشہ کرے گا۔۔۔ کہتے ہیں بڑا دانشور ہے وہ کہتا ہے قربانی کیا ہوتی ہے اب آپ مجھے بتائیے لوگ Provoke ہو جائیں، خون بہتا ہے، درندگی پیدا ہوتی ہے، وحشت جنم لیتی ہے، وہ ٹٹو جو بیٹھے ہوئے ہیں جن کو بیس بیس پچیس پچیس ہزار روپے ملتے ہیں پروگرام کے وہ ہاں جی بالکل یہ تو نہیں ہونی چاہیے، کوئی بکرا تو نہیں ذبح ہونا چاہیے حالانکہ ایسی بات نہیں ہے انہیں یقین ہی نہیں ہے۔ اس بات پر آپ کیا کررہے ہیں۔ یہ پرویز رشید نے رکھا ہوا ہے اور اگر عطاءالحق قاسمی نے رکھا ہے تو سبحان اللہ، قربان جائیے اس دانش کے، وہ کہتا ہے خدا ہے ہی نہیں، یہاں کتنے لوگوں سے میں ملا جو کہتے ہیں یہ ہمیں سمجھتا ہے سورج تو اتفاق سے اتنے فاصلے پہ ہے، چاند اتفاق سے اتنے فاصلے پہ ہے، ستارے اتفاق سے ہیں، پانی اتفاق سے پیدا ہوا ہے، یہ جسم میں Billions of delicate balance اتفاق سے ہیں کسی دن یہ کالیا پکڑا جائے گا۔۔۔۔“

ایسے غری ذمہ دارانہ، غیر پیشہ وارانہ اور متعصبانہ الفاظ نشر کرکے سابق وزیر اطلاعات و نشریات کے خلاف نفرت کو ہوا دی گئی جو نیشنل ایکشن پلان کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ایسے الفاظ سپریم کورٹ کے نافذ کردہ الیکٹرانک میڈیا ضابطہ اخلاق 2015ءکی شقوں 3 (d,f-1) 4 (2) (b,c-7) 5,17,22 اور 23 کی بھی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ جواب نہ ملنے کی صورت میں پیمرا کی طرف کارروائی کرنے کا مجاز ہوگا۔

مزید : لاہور